Oct 22, 2026 · 46 min · 2 segments
No entities detected.
[عربی]
[عربی]عبداللہ ابن شکیل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز نکل رہی تھی جسے ہے جیسے ہنڈیا کا جوش ہوتا ہے۔ یعنی جس کو ہم کہتے ہیں کہ۔ رونے کے وقت جیسے ہنڈیا جوش مار رہی ہوتی ہے تو ہلکی ہلکی آواز آتی ہے یہ بہت نوحہ خوانی والا رونا نہیں ہے چخنا چلانے والا رونا نہیں ہے۔ یہ ایسا رونا ہے کہ جس میں تھوڑی سی آواز بلند ہوتی ہے۔ تو اس لیے کہا جیسے ہنڈیا کا جوش آتا ہے جب ابالتے ہیں کوئی چیز تو ہنڈیا کا جوش آتا ہے اس طرح سے گویا آواز آ رہی تھی۔ علماء نے لکھا ہے کہ آپ علیہ السلام کو جو یہ رونا ملا ہے یہ ابراہیم علیہ السلام سے وراثت میں ملا ہے وہ رونا۔ کیوں رو رہے تھے تو اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اللہ کے خوف اور اس کے شوق اور شدید محبت کی وجہ سے اور اس بات کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ آپ علیہ السلام سے مروی ہے کہ اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ یہ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں۔ تو حقیقت انسان کو جب کھلتی ہے تو اس کو پھر اندازہ ہوتا ہے تو یہ محبت اور شوق اور رغبت ہے کہ دنیا کی محبت کم ہو جائے، آخرت کے شوق لگ جائے جو لفظ استعمال کیا یہاں پہ وہ ہے "ولجوفی عزیز کا عزیز المرجل" ہنڈیا ہنڈیا کا جیسے جوش ہوتا ہے تو یہ جو لفظ استعمال مرجل یہ اس تانبے کی دیگچی کو کہتے ہیں جو یا ہر وہ دیگ جس میں کھانا پکایا جائے اور اس کا نام اس لیے رکھا گیا مرجل کیونکہ دیگ کو چولہے یا پتھروں پر جب رکھا جاتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے اسے دو ٹانگوں پر کھڑا کر دیا گیا ہو آپ دیکھیں گے ہمارے یہاں بھی دیگوں کے نیچے پتھر اور اینٹیں رکھتے ہیں دیگ اوپر رکھتے ہیں نیچے آگ جلاتے ہیں۔ تو وہ جو گویا دیگ کی دو ٹانگیں ہو گئیں تو مرجل جو ہے وہ یہ جو مادہ ہے را، جيم اور لام یہ ٹانگ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے عربی میں تو اس لیے کہا کہ یہ اس کو مرجل اس لیے کہتے ہیں کہ گویا دیگ کے نیچے دو ٹانگیں آ گئیں تو مولانا زکریا رحمة الله فرماتے ہیں یہ آپ علیہ السلام کی کامل عاجزی اور انکساری تھی کہ اعمال میں تو آپ سے بہتر اعمال کوئی انسان کر نہیں سکتا لیکن پھر بھی ایسی عاجزی تھی کہ اپنے اعمال کے باوجود رونا اس شدت کا تھا بعض مشائخ نے لکھا ہے کہ نبی علیہ السلام کی حالت اس وقت ہوتی تھی جب اللہ تعالی کی صفت جلال اور صفت جمال دونوں ایک ساتھ ظاہر ہوتے تھے۔ صفت جلال کا سامنا کرنا اور خود کو قابو میں رکھنا تو کسی کے بس میں نہیں ہے۔ البتہ جب صفت جمالی کا ظہور ہوتا تو اس وقت ایک قسم کی خوشی اور اطمینان قلب بھی نمایاں ہو جاتا تو ان دونوں کے مکسچر کے ساتھ جو ہے آپ علیہ السلام جو ہے وہ پھر روتے تھے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل و وسیلے سے مشائخ صلوک کو بھی یہ دونوں حالتیں پیش آتی ہیں۔ بعض حضرات یہ کیفیت بیان کرتے ہیں کہ ہمارا ایسی حالت ہو گئی کہ گویا دل پھٹے جا رہا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے انسان کا رونے کا غم میں دل چاہتا ہے کہ میں روؤں。 اچھا اس میں دو طرح کی صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ انسان کو رونا آتا ہے اور وہ پھر روتا جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ ضبط کر لیتا ہے۔ اور تیسری صورت یہ کسی کو رونا ہی نہ آئے رونا آئی نہ رونے کے موقع پہ یہ تو سخت دلی ہے اس سے پناہ مانگنی چاہیے رونا آئے لیکن انسان اس کو ضبط کر لے لوگوں کے سامنے آنسو نہ بہائے specially جو leadership ہے نا اس کو اہم مواقع پہ وہ رونے شروع کر دے جب کہ باقیوں کو دلاسہ دینا ہو تو وہ کاہے کا لیڈر ہے؟ تو اسی لیے جو رسول اللہ کا رونا ہے وہ تو کسی کے انتقال کے پر ہے یا پھر اللہ کے سامنے آخرت کی فکر و محبت کا شوق کا رونا مسائل کتنے ہیں آپ علیہ السلام کے پاس تو ان چیزوں میں آپ نہیں روئے تو یہ انسان چونکہ مرد گھر کا لیڈر ہے اگر چھوٹی چھوٹی بات پر مرد بھی رونے لگ جائے تو دلاسہ کیسے دے گا؟ ہمیں پتہ چلا بعض لوگ ہیں وہ ان کی جب گھر میں ولادت ہوتی ہے تو بہت مشکل موقع ہوتا ہے تو بیوی کو مشکل میں دیکھ کر وہ رونے لگ جاتے ہیں اس وقت تو آپ کو برداشت کرنا ہے اس غم میں آپ رہیں پریشان ہیں آپ ٹھیک ہے لیکن اس کو اظہار نہ کریں کیونکہ آپ رونے لگ جائیں گے تو اس کو دلاسہ کون دے گا؟ تو دلاسہ دینے والا خود رونے لگ جائے جس کندھے پر آپ نے سر رکھنا تھا وہ خود کسی اور کی تلاش میں جو ہے وہ کندھے کی تلاش میں لگ جائے تو آپ کیا کریں گے؟ تو اس لیے ضبط جو ہے یہ بھی ایک quality ہے کہ انسان کیفیات کو جو ہے وہ control کر لے اور پھر اکیلے میں اللہ کے سامنے رونا ہی سب سے بہتر ہے بہرحال۔ وبی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا معاوية بن هشام قال حدثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قال قال لي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقرأ علي فقلت يا رسول اللہ أقرأ عليك وعليك أنزل قال إني أحب أن أسمعه من غيري فقرأت سورة النساء حتى بلغت وجئنا بكلا هؤلاء شهيدا قال فرأيت عيني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تهملان عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے آپ علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمائش کی ارشاد فرمایا کہ قرآن شریف سناؤ کیا خوبصورت موقع ہو گا کہ صاحب قرآن جو ہیں وہ صحابی سے کہیں گے کہ تم مجھے قرآن سناؤ میں نے کہا حضور آپ ہی پر تو نازل ہوا اور میں آپ کو سناؤں شاید وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ سنانا یا حفظ کرنے کے لیے یا سکھانے کے لیے ہوتا ہے خالی تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دوسروں سے بھی سنوں تو قرآن سے ثابت ہوتا ہے قرآن سننا بھی عبادت ہے۔ تو میں نے اس حکم کی تعمیل میں اس کو قرآن آپ کو سنانا شروع کیا اور سورہ نساء پڑھنا شروع کی بعض روایت میں آتا ہے سورہ بقرہ سے شروع کر دیا تھا بہرحال جب وہ اس آیت پہ پہنچے فکيفإذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بكلا هؤلاء شهيدا تو میں نے آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا کہ دونوں آنکھیں گریہ کی وجہ سے بہہ جا رہی ہیں بہہ جا رہی ہیں۔ تو یہ رونا نبی علیہ السلام کا کلام مبارک کو سننے کی وجہ سے تھا اور یہ چیز قرآن کے شان و شان اور عظمت کے لائق ہے۔ امام نووی رحم اللہ شارح مسلم لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت کے دوران رونا عارفین اللہ کی معرفت رکھنے والوں کی صفت اور صالحین کی علامت ہے۔ اللہ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں سورہ مریم میں کہ جب ان لوگوں کے سامنے رحمن کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں تو یہ تو مومنین کی صفت ہے۔ اسی طرح فرمایا ایک اور جگہ سورہ اسراء میں بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ تو اب جب عبداللہ ابن مسعود نے حضور کو دیکھا تو ممکن ہے کہ وہ حضور پہلے سے رو رہے تھے اور جب ان کی نظر پڑی تو اس آیت پر تھے وہ۔ یعنی ممکن ہے کہ رونا پہلے شروع کر دیا ہو قرآن کی وجہ سے اور اس آیت پر دے پہنچے تو اس طرف نظر پڑی اور یہ بھی ممکن ہے اسی آیت پر آ کر رونا شروع کیا ہو। یہ آیت ہے اس کا ترجمہ ہے، بس اس وقت کیا حال ہوگا جب ہر ہر امت میں سے ایک گواہ لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہم ہر، اللہ فرماتے ہیں ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے محبوب! ہم آپ کو ان تمام لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ یعنی ہر امت میں سے گواہ لائیں گے۔ کس بات کا گواہ؟ کہ اللہ کا پیغام پہنچا کہ نہیں پہنچا اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کو باقی سب پر گواہ بنایا جائے گا کہ تم پر رسالت، پیغام تم پر پہنچایا گیا ہے۔ تو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے جو بلایا جائے گا یہ قیامت کا منظر ہے کہ جس دن ہر نبی کو گواہی کے طور پر پیش ہونا پڑے گا اور حضور علیہ السلام کے سامنے قیامت کی ہولناکیاں بھی تھیں کہ جب ہر وقت، جس وقت ہر انسان اپنے نفس النفس کے عالم میں ہو گا تو اس وقت کی کیفیت کی وجہ سے آپ علیہ السلام نے یہاں پر جو ہے وہ رویا یا پھر اپنی امت کی فکر میں روئے یا پھر یہ کہ اس گواہی کے عظیم بوجھ کی وجہ سے آپ علیہ السلام روئے۔ یہ مختلف وجوہات ہیں جو یہاں پر علمائے نے بیان کی گئی ہیں۔ عن طاء بن ثابت عن أبي عبد الله ابن عمر قال إن كسفت الشمس يوما على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حتى لم يقد يركع، ثم ركع فلم يقد يرفع رأسه، ثم رفع رأسه فلم يقد أن يسجد، ثم سجد فلم يقد أن يرفع رأسه، ثم رفع رأسه فلم يقد أن يسجد، ثم سجد فلم يقد أن يرفع رأسه، فجعل ينفخ ويبكي، ويقول ربي ألم تعدني أن لا تعذبهم وأنا فيهم، ربي ألم تعدني أن لا تعذبهم وهم يستغفرون، ونحن نستغفرك، فلما صلى ركعتين انجلت الشمس، فقام فحمد الله تعالى وأثنى عليه، ثم قال إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياة، فإذا انكسفا فافزعوا إلى ذكر الله تعالى۔ یہ حدیث ہے جو زمانہ جاہلیت کی ایک رسم کو بتا رہی ہے اور کیسے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی علیہ الصلاة والسلام نے اس غلط رسم کے خلاف جو ہے وہ امت کو تعلیم دی۔ عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ نبی علیہ السلام کے زمانے میں ایک دفع سورج گرہن ہوا تو آپ کو پتہ ہے ایک صلاة کسوف اور ایک خسوف ہے۔ کسوف قاف کے ساتھ یہ سورج گرہن کی نماز ہے اور خسوف خاء کے ساتھ یہ چاند گرہن کی نماز ہے۔ تو حناف کے نزدیک سورج گرہن کی جو نماز ہے نفل نماز یہ تو اجتماعی طور پر پڑھی جاتی ہے۔ میرے خیال سے سال دو پہلے ہم نے یہاں پڑھی بھی تھی ایک شید。 اور جو چاند گرہن کی نماز ہے وہ تنہائی میں پڑھنا مسنون ہے۔ تو آپ علیہ السلام مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز شروع فرما کر اتنی دیر تک کھڑے رہے، گویا رکوع کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے۔ یعنی لمبی تلاوت فرمائی۔ اچھا اس نماز کی اذان نہیں ہوتی، بس اعلان کر کے بلایا جاتا ہے نارمل طریقے سے۔ اور پھر رکوع اتنا طویل کیا کہ گویا رکوع سے اٹھنے کا ارادہ ہی نہیں، پھر ایسے ہی رکوع کے بعد سر اٹھا کر قوما میں بھی اتنی دیر تک کھڑے ہوئے رہے، گویا سجدہ کرنا ہی نہیں، پھر سجدہ کیا اور اس میں بھی سر مبارک زمین پر اتنی دیر تک رکھے رہے، گویا سر مبارک اٹھانا ہی نہیں، اسی طرح سجدہ سے اٹھ کر جلسہ اور پھر جلسہ کے بعد دوسرے سجدہ میں، غرض ہر ہر رکن اس قدر طویل ہوتا تھا کہ گویا یہی رکن آخر تک جائے گا، دوسرا کوئی رکن نہیں ہے۔ شدت غم اور جوش سے سانس لیتے تھے اور روتے جاتے تھے آپ علیہ السلام اور حق تعالی شانوں کی بارگاہ میں عرض کرتے تھے کہ اللہ تو نے مجھ سے کیا یہ وعدہ کیا تھا کہ میری موجودگی تک امت کو عذاب نہیں ہو گا، اللہ اکبر۔ کیونکہ سورج گرہن ہوتا ہے جب تو گویا کیفیت عذاب کی سی نظر آتی ہے، ایک دم اندھیرا دن میں ہو جاتا ہے۔ تو ایسا اندیشہ ہوا کہ گویا عذاب ہے۔ اے اللہ تو نے ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک یہ لوگ استغفار کرتے رہیں گے عذاب نہیں ہو گا، یہ قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے۔ اب ہم سب کے سب استغفار کرتے ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج واپس نکل آیا تھا، گرہن ختم ہو گیا، آپ علیہ السلام نے اس کے بعد وعظ فرمایا، جس میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن میں نہیں جاتے، بلکہ یہ حق تعالی شانوں کی دو نشانیاں ہیں، جب یہ گرہن ہو جائے کرے تو اللہ تعالی کی طرف فوراً متوجہ ہو جایا کرو یعنی نماز استغفار میں مشغول ہو جاؤ۔ یہ قصہ جمہور کے نزدیک یکم ہجری کا ہے جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے، پہلا سال تھا اور آپ علیہ السلام، ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے سورہ بقرہ تلاوت فرمائی تھی، یہ سورہ بقرہ کی بات پچھلی حدیث کے ساتھ نہیں، اس حدیث کے ساتھ منسلک ہے۔ آپ علیہ السلام کا ارشاد اس مضمون کی طرف اشارہ ہے جو کلام اللہ میں اللہ مسلط ہو جانا، یہ اس کی ایک اہم مثال ہے۔ تو بہرحال یہ اس طرف رسول اللہ کا اشارہ تھا صلی اللہ علیہ وسلم روتے وقت۔ اچھا یہ جو خطبے میں ارشاد فرمایا کہ چاند گرہن جو ہیں یہ ان کا تعلق یہ اللہ کی نشانی ہے، اس کا تعلق کسی کی موت اور زندگی سے نہیں ہے۔ اس کو اس لیے ارشاد فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ جب سورج گرہن ہوتا ہے یا چاند گرہن ہوتا ہے تو کسی بڑی شخصیت کی پیدائش یا وفات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تو جب یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت نبی علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تھا، تو سورج گرہن لگ گیا۔ تو اس واقعے نے دور جاہلیت کے اس خیال کو مزید تقویت دی، لوگ کہنے لگے کہ گرہن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اگر تو یہ واقعہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات کی وجہ، یہ ٹائم لائن ہے تو پھر یہ یکم ہجری نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ ابراہیم علیہ السلام تو ماری قبطیہ سے پیدا ہوئے تھے اور یہ واقعہ جو ہے وہ بعد کا ہے۔ آئمہ کرام کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ سورج گرہن کے دوران ایک رکعت میں ایک رکوع کرنا چاہیے، ایک سے زیادہ رکوع کرنے چاہئیں۔ حنف کا موقف یہ ہے کہ ہر رکعت میں صرف ایک ہی رکوع ہو گا اور یہ حدیث اس موقف کی تائید اور تقویت کرتی ہے۔ دوسرے بعض حضرات کے نزدیک ایک نہیں زیادہ رکوع ہیں۔ اصل میں ہمارے حنف جو دلائل اس میں دیتے ہیں وہ یہ ہے، بڑی دلچسپ ایک اس میں دلیل ہے کہ ہوا یہ کہ کچھ صحابہ اتنی لمبا رکوع ہو گیا کہ وہ سمجھیں کہ اب ہمیں کھڑا ہونا ہے۔ اور چونکہ سپیکر تو تھا نہیں تو ان کے پیچھے والے اس کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ تو بعض نے یہی روایت نقل کر دی کہ اس کے دو رکوع ہیں یعنی وہ اوپر ہو کے پھر واپس نیچے ہو گئے۔ تو سمجھیں دو رکوع ہیں۔ حنف کہتے ہیں کہ نہیں رکوع ایک ہی تھا بس طویل بہت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کے بارے میں علامہ ابن ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں، زاد المعاد میں کہ جہاں تک آپ کے رونے کا تعلق ہے تو وہ بھی آپ علیہ السلام کے ہنسنے ہی کی طرح باوقار اور میانہ روی کے ساتھ تھا۔ یعنی داڑھی مار مار کے رہاس رہا رونا یا بلند آواز میں جیسے نوحہ کوئی کرتا ہے، ایسے نہیں تھا۔ جیسے آپ کا ہنسنا کہکہ کے ساتھ نہیں ہوتا تھا، اسی طرح رونا بھی بہت چیخ و پکار کے ساتھ نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ کے رونے کی حالت یہ ہوتی تھی کہ آپ کی دونوں آنکھوں میں سے آنسو بہتے یہاں تک کہ وہ بھر آتی تھیں اور آپ کی سینے مبارک سے رونے کی وجہ سے دیگچی کے ابلنے جیسی سنسنہاٹ کی آواز سنائی دیتی تھی۔ تو یہ آپ علیہ السلام کے رونے کا طریقہ تھا۔ حدیث نمبر چار، و بہی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا ابو احمد قال حدثنا سفیان، عن عطاء بن السائب، عن یکرمة بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ قال اخی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابنة له تقضی فاحتضنها فوضعها بین یدیہ، فما تدعی بین یدیہ وصاحت ام ایمن فقال یعنی صلی اللہ علیہ وسلم ا تبکی نعیندا رسول اللہ؟ فقالت الست اراک تبکی؟ قال انی لست ابکی انما هی رحمة ان المؤمن بکلی خیر، علی کلی حال ان نفسہ تنزع من بین جمبھہ وهو یحمد اللہ تعالی، یحمد اللہ تعالی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی ایک لڑکی قریب الوفات تھیں، آپ علیہ السلام نے ان کو گود میں اٹھایا، یہ حضور کی بیٹی نہیں یہ پوتا نواسی مراد ہے، کیونکہ بیٹیاں تو وہ ساری بڑی، تھوڑی بڑی عمر میں فوت ہوئیں، یہ نواسی مراد ہے اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آپ نے گود میں اٹھایا اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آپ علیہ السلام کے سامنے رکھ کے رکھ کے ان کی وفات ہو گئی۔ ام ایمن جو آپ علیہ السلام کی دایا، باندی تو نہیں تھیں، وہ آزاد یعنی خادمہ تھیں، وہ چلا کر رونے لگیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نبی کے سامنے چلا کر رونا شروع کر دیا ہے۔ تو انہوں نے عرض کیا، یہ ام ایمن حضور کی گویا ماں بھی تھیں، امی بعد امی، ہم نے اس پر پہلے بات کی۔ تو حضور نے عرض کیا کہ انہوں نے عرض کیا کہ آپ بھی تو رو رہے ہیں۔ آپ بھی تو رو رہے ہیں، مجھے رونے سے منع کر رہے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ رونا ممنوع نہیں ہے یعنی صرف آنسوؤں کا جاری ہونا، اس وقت حضور علیہ السلام صرف ان کے آنسو جاری تھے، کہا یہ تو اللہ کی رحمت ہے۔ یہ ہمارے یہاں جی بعض لوگوں نے سمجھا کہ مردانگی جو ہے وہ اس کا مطلب ہے کہ بالکل آنکھ میں آنسو بھی نہ آئے، چاہے یہ انتقال ہو جائے کسی کا یا کوئی اس طرح کا موقع بھی ہو جہاں رونا چاہیے وہاں نہ رو۔ تو یہ مردانگی نہیں ہے، حضور سے بہتر مرد کون ہے؟ حضور سے زیادہ مردانگی کس میں ہے؟ تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مردانگی ہے یہ ہے کہ ایسا رو بتاری ہو کہ نہ آنکھ سے آنسو نکلے، نہ چہرے پہ مسکراہٹ آئے، جلاد کی طرح شکل بنا کے گھر میں داخل ہو اور جہاں بھی جاؤ۔ تو یہ حضور کا طریقہ نہیں تھا۔ ایک دفعہ مشہور وا مطلب بات ہے کہ جب حضور علیہ السلام کسی بچوں کو بوسہ دے رہے تھے تو ایک بندہ آ کے ایک صحابی نے کہا، رسول اللہ! میرے تو اتنے بچے ہیں میں تو کبھی ایک کو بھی نہیں بوسہ دیا۔ کہا اللہ نے آپ کے دل میں رحمت رحمت نہیں رکھی، میں کیا کروں؟ تو یہ جو emotional connection ہے چاہے وہ ہنسی کی صورت میں ہو یا رونے کی صورت میں ہو، یہ تو نبی علیہ السلام جو افضل البشر ہیں، سب سے بہتر بشر ہیں، جب انہوں نے کر کے دکھایا تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یار مردانگی ہم نے اپنی maintain رکھنی ہے اور وہ سخت دلی کا نام مردانگی رکھ رہے ہیں۔ انا لله وانا الیہ راجعون۔ پھر فرمایا آپ علیہ السلام نے کہ مومن ہر حال میں خیر ہی میں رہتا ہے حتی کہ خود اس کا نفس نکالا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالی کی حمد کرتا ہے یعنی وہ خود جو ہے وہ اس کی موت آ رہی ہوتی ہے اور پھر بھی اللہ تعالی کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ حدیث نمبر پانچ، و بہی قال حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدی قال حدثنا سفیان، عن عاصم بن عبید اللہ، عن القاسم بن محمد، عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبّل عثمان بن مزعون وهو میت وهو يبکی او قال عیناه تهرقان۔ عائشہ فرماتی ہیں رضی اللہ تعالی عنہا کہ آپ علیہ السلام نے عثمان ابن مزعون رضی اللہ تعالی عنہ کی پیشانی کو ان کی وفات کے بعد بوسہ بوسہ دیا، اس وقت آپ علیہ الصلاة والسلام کے آنسو ٹپک رہے تھے۔ عثمان ابن مزعون جلیل القدر صحابہ میں جنھوں نے ابتدا میں اسلام قبول کیا، بعض حضرات کے نزدیک یہ تیرہویں نمبر کے مسلمان ہیں، تیرہویں نمبر پر اس امت مسلمہ میں جس نے اسلام قبول کیا، آج مسلمانوں کی آبادی اربوں میں ہے، تو تیرہواں نمبر کے thirteenth وہ عثمان ابن مزعون تھے اور سیرت کی عام کتابوں میں جب ابتدائی مسلمانوں کا ذکر ہوتا ہے تو ان کا نام بھی آتا ہے کیونکہ انہوں نے ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا اور یہ آپ علیہ السلام کے دودھ شریک بھائی بھی تھے۔ تو گویا بھائی بھی ہیں، صحابی بھی ہیں۔ تو انہوں نے عثمان بن مزعون نے حبشہ بھی ہجرت کی اور مدینہ بھی ہجرت کی تو یہ دو ہجر بھی ان کے حصے میں آئے اور متقی اور عبادت گزار تھے، جب شراب پینا منع نہیں تھا تب بھی ایسے سلیم سلیم الفطرت تھے اور ذوق اتنا اچھا تھا کہ تب بھی شراب نہیں پی کبھی اور مہاجرین میں ہجرت کے بعد سب سے پہلے جو صحابی فوت ہوئے وہ عثمان بن مزعون ہیں اور جنت البقی میں یہ دوسرے سال ہجرت کے ان کا انتقال ہوا، ان کو وہیں پر دفن کیا گیا جنت البقی میں۔ آخری حدیث اس Chapter کی وہ ہے بھی قال حدثنا اسحاق بن منصور قال اکبر بن ابو عامر قال حدثنا فلیح وهو بن سلیمان عن هلال بن علی عن انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ قال: شهدنا ابنة لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورسول اللہ جالس على القبر فرأيت عينيه تدمعان فقال: أفیكم رجل لم يقارف الليلة؟ قال ابو طلحة انا، قال: انزل فنزل في قبرها۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ الصلاة والسلام اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر پر تشریف فرما تھے اور آپ کے آنسو جاری تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ قبر میں وہ شخص اترے جس نے آج رات ہم بستر ہی نہ کی ہو، مجامعت نہ کی ہو۔ آپ علیہ الصلاة والسلام کی ساری صاحبزادیاں، آپ کی ساری صاحبزادیاں صاحبزادیاں بہت Young Age میں فوت ہوئیں، کسی نے تیس یا بتیس سے زیادہ لمبی عمر نہیں پائی۔ سب سے لمبی عمر زینب رضی اللہ تعالی عنہ نے پائی تیس یا بتیس سال، باقی سب Mid Twenties میں Early Twenties میں فوت ہو گئیں لیکن وہ مقام حاصل کیا کہ جنت کی سرداروں کی سردار عورتوں کی سردار فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے۔ تین بیٹیاں چار میں سے آپ کے سامنے فوت ہوئیں، حضور علیہ الصلاة والسلام پیدا ہوئے تو والد نہیں تھے، والدہ چھ سال میں فوت ہو گئیں، دادا آٹھ سال کی عمر میں، لڑکے جتنے پیدا ہوئے بچپن میں فوت ہو گئے، لڑکیاں جو زندہ رہیں تو Mid Twenties میں چار میں سے تین آپ کی زندگی ہی میں فوت ہو گئیں اور لوگ یہ بتاتے ہیں، کہتے ہیں مشہور بات ہے کہ اپنی زندگی میں اولاد کا جنازہ اٹھانا آسان کام نہیں ہے۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ تصوفی آپ ایک اہم نقطہ ذکر کرتے ہیں ابھی ذہن میں آ گیا کہ بعض لوگ جب عبادت شروع کرتے ہیں نئی نئی دین کی طرف آتے ہیں تو جوش زیادہ ہوتا ہے، جب پرانی عادت ہو جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ وہ اب وہ کیفیات نہیں آ رہی تو کیفیات تو مقصود نہیں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے آپ کی Growth نہیں ہو رہی روحانی۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ نے غالباً ایک جگہ لکھا ہے کہ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جب کسی کا جوان چھوٹا بچہ فوت ہوتا ہے بالکل Young ایک دو سال کا، تو اس وقت رونا تو زیادہ آتا ہے یا محبت کا اظہار بھی انسان اس سے زیادہ کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ غم لمبا نہیں رہتا۔ لیکن جو جوان آدمی ہے کسی کا فوت ہو جائے بچہ یا بچی تو اس وقت جوان آدمی کو تو کوئی بندہ اس طرح پیار نہیں کرتا جتنا چھوٹے بچے کو کرتا ہے لیکن اس کا غم Long Lasting ہوتا ہے یا لمبی دیر تک رہتا ہے As Compared to چھوٹے بچے کا انتقال ہو جائے تو اس سے پتہ چلا کہ ایک ہے محبت کی Depth، اس کے لیے لازمی نہیں ہے کہ جو Depth ہے اس میں انسان آ جو ہے وہ اس کے جوش کا اظہار بھی ہو، ایک ہے محبت کا جوش، ایک ہے محبت کی گہرائی اور Depth۔ تو بعض اوقات انسان جب عبادات کرتا رہتا ہے اور اس کو کیفیات محسوس نہیں ہو رہی ہوتی ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں اس کو روحانی فائدہ نہیں ہو رہا، وہ Depth میں جا رہا ہے، اللہ کے ساتھ تعلق اس کا بن رہا ہے، اعمال اگر وہ کرتا جا رہا ہے۔ تو بہرحال یہ تو ایک اضافی نقطہ تھا جو Share کر دیا یہاں پر۔ تو بہرحال اب سوال یہ ہے کہ ان کے شوہر کہاں تھے ام کلثوم کے؟ ام کلثوم سے پہلے شادی ہوئی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے رقیہ کی، وہ تو بدر میں فوت ہو گئی تھیں اور بدر کے دوران حضور واپس آئے تو دفنایا جا چکا تھا، مدینہ ہی میں فوت ہو گئی تھیں، اس لیے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور نے کہا تھا کہ آپ نے نہیں آنا، بیگم کا خیال رکھیں، عجیب ہم بعض اوقات دھماکیں کرتے ہیں، اس دن کسی ساتھی نے بتایا کہ ایک صاحب تبلیغ پر نکلے ہوئے تھے تو بیگم کی Call آئی کہ بچی بہت شدید بیمار ہے، تو کہتے ہیں کہ گھر آ کے میں نے کون سی شفا دے دینی ہے، اللہ کی راہ میں نکلا ہوں، وہاں نفل بھی پڑھ لوں گا اور بیگم کو اذیت میں رکھا کہ وہ بیچاری بیٹی کو لے کر پریشان ہے۔ یہ دیکھیں حضور علیہ الصلاة والسلام بدر کا موقع ہے، یوم الفرقان، جہاد ہے، کفار سے لڑائی ہے اور اس وقت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو کہا کہ نہیں تم مدینہ میں اب تمہاری بیگم بیمار ہیں ان کا خیال رکھو اور ان کو بدری بدری میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کو مال غنیمت کا حصہ بھی ملا۔ تو یہ جو بے اعتدالی بعض اوقات ہم کرتے ہیں اس کی وجہ سے لوگوں کو دین سے دور کرتے ہیں، تو اس سے سیکھنا چاہیے، بہرحال اب یہ دوسرا موقع تھا کہ دوسری صاحبزادی کا بھی نکاح حضور سے انہیں سے ہوا تو اب سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیوں جنازہ نہیں پڑھایا اور یہ کیوں کہا کہ جس نے کسی سے مجامعت تک کی ہو وہ آئے؟ تو واقعہ یہ ہوا کہ اس رات ان کی اہلیہ بیمار تھیں، جب ان کا انتقال ہوا اسی رات عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ایک لونڈی کے پاس وہ خلوت میں تشریف لے گئے اس اب اس میں اشارہ دیکھیں کہ کس لطیف انداز میں نبی علیہ السلام نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ میں اس بات سے تھوڑا خوش نہیں ہوں، کہا کہ جنازہ کوئی اور پڑھائے۔ تو ممکن ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے شدید غلبہ شہوت یا طبعی تقاضے کی وجہ سے ایسا کیا تھا تو اس میں کوئی حرج تو نہیں کہ نہ گناہ کی بات ہے انسان کے تقاضا ہے وہ اللہ نے چیز حلال کی ہے، انہوں نے اس کو استعمال کیا ہے۔ لیکن کسی کو کیا معلوم کہ موت کسی کب واقع ہو جائے گی؟ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ حضور کا انتقال ہونے سے چند منٹ پہلے گھنٹے پہلے مل کر گئے، آخری دفعہ یہ حضور اب حالت شاید بہتر ہو رہی ہے تو اپنی اہلیہ کی طرف چلے گئے دوسری بیوی جو تھوڑا دور رہتی تھی اور وہاں پیچھے سے خبر آ گئی کہ حضور کا انتقال ہو گیا۔ تو ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نرمی سے ان کے notice میں لانا چاہتے ہوں کہ ڈانٹا بھی نہیں ہے لیکن بڑے طریقے سے یہ شفقت ہے کہ حضور کی بیٹی کا انتقال ہوا، آنکھوں سے آنسو جا رہے ہیں لیکن کہا جنازہ کوئی اور پڑھے، لیکن یہ ہے عجیب نفیس انداز میں بتا بھی دیا، غضب بھی نہیں فرمایا، ڈانٹا بھی نہیں کہ جنازہ کوئی اور پڑھا دے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ سیدہ ام کلثوم کا نکاح انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ نکاح اللہ کے حکم سے ہوا تھا، جب عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی پہلی بیوی جیسے عرض کیا کہ حضرت رقیہ کا انتقال ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اگر میرے پاس سو بیٹیاں بھی ہوں اور ایک کے بعد ایک فوت ہو جائیں تو ان میں سے ایک ایک کا نکاح باری باری عثمان سے کروں گا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ اللہ کا حکم ہے کہ میں ام کلثوم کا ہاتھ عثمان کے نکاح میں دے دوں۔ اس پس منظر کے پیش نظر یہ بات بالکل قریبِ قیاس ہے کہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ جیسی جلیل القدر زوجہ کی بیماری کے موقع پر ایک ہلکا اور مبہم سا اشارہ دے دیا گیا ہو، واللہ اعلم کہ کیا اس میں درست ہے، دوبارہ سارا خلاصہ اس بحث کا یہ نکلا کہ جو رونا ہے آپ علیہ السلام کا وہ تین طرح کا تھا، کسی عزیز رشتہ دار کے انتقال کی وجہ سے، امت کی فکر اور غم میں، امت کو نجات دلانے کے لیے اللہ تعالی کی محبت اور شوق میں، اللہ تعالی ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہمیں وہ رونا نصیب ہو جائے کہ جس طرح کا رونا نبی علیہ الصلاة والسلام اور صحابہ نے رویا۔ آمین۔ ایک نشید پڑھ لیتے ہیں ان شاء اللہ پھر دعا کر لیتے ہیں۔ درود شریف پڑھ لیجیے。 او sorry غلط ہو گیا جی، یہ جنازے کے حوالے سے نہیں تھا، جزاکم اللہ خیرا، یہ قبر میں اتارنے کے حوالے سے تھا، جنازہ کی نماز حضور نے خود پڑھائی ہو گی، حضور کے ہوتے ہوئے کیسے کوئی اور پڑھائے گا؟ یہ حضور نے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو قبر میں نہیں اترنے دیا بلکہ ابوطلب نے اتارا، یہ ابوطلب وہی ہیں جو انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ کے دوسرے شوہر تھے، جب پہلے شوہر کا جب انتقال ہو گیا تو وہ قبر میں اتارنے کے حوالے سے جنازہ تو حضور علیہ السلام نے خود پڑھایا۔ اللهم صل على سیدنا محمد。 کسی کا کوئی سوال ہو تو پوچھے۔ وہ link ہی نہیں کھل رہا جس میں اشعار لکھے ہوئے ہیں۔ اللهم صل على سیدنا محمد و آله محمد و بارک وسلم۔ حکیم اختر رحمہ اللہ کے اشعار ہیں اور وہ رونے کے حوالے سے ہیں تو اس لیے میں چاہ رہا تھا کہ آپ حضرات کے سامنے دعا سے پہلے پڑھ لیے جائیں。 [گانا] ہے اسی طرح سے ممکن، تیری یاد، تیری راہ سے گزرنا، کبھی دل پہ صبر کرنا، کبھی دل سے شکر کرنا، ہے اسی طرح سے ممکن، تیری راہ سے گزرنا، کبھی دل پہ صبر کرنا، کبھی دل سے شکر کرنا، یہی عاشقوں کی عادت، یہی عاشقوں کا شیوا، کبھی گریہ و بکا ہے، کبھی آنہیں سرد بھرنا، یہ تیری رضا میں جینا، یہ تیری رضا میں مرنا، میری عبادیت پہ یا رب ہے یہ تیرا فضل کرنا。 یہی عشق کی علامت یہی عشق کی علامت کبھی گریہ و بُکا ہے۔ کبھی آنہہ سرد بھرنا میری زندگی کا حاصل میری زیست کا سہارا تیرے عاشقوں میں جینا تیرے عاشقوں میں مرنا میری زندگی کا حاصل میری زیست کا سہارا تیرے عاشقوں میں جینا تیرے عاشقوں میں مرنا کسی اہل دل کی صحبت جو ملی کسی کو اختر اسے آ گیا ہے جینا اسے آ گیا ہے مرنا کسی اہل دل کی صحبت جو ملی کسی کو اختر اسے آ گیا ہے جینا اسے آ گیا ہے مرنا ہے اسی طرح سے ممکن تیری راہ سے گزرنا کبھی دل پہ صبر کرنا کبھی دل پہ شکر دل سے شکر کرنا یہی عاشقوں کا شیوا یہی عاشقوں کی عادت کبھی گریہ و بُکا ہے۔ کبھی آنہہ سرد بھرنا الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ وسلم على رسولہ کریم ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لن كوننا من الخاسرین رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین لا الہ الا انت سبحانک انا کنا من الظالمین اللہم اعنا على ذکرک وشکرک وحسن عبادتک یا اللہ! یا اللہ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما دیجیے یا اللہ! ہمیں آخرت کی فکر لگا دیجیے یا اللہ! آپ کی محبت میں ہمیں رونا آ جائے یا اللہ! ایسے آنسو بہانے کی توفیق عطا فرما دیجیے کہ جس سے آپ توبہ کے فیصلے فرما لیتے ہیں یا اللہ! ایسے آنسو ایسے آنسو عطا فرما دیجیے جس سے اللہ جہنم کی آگ ہم پر حرام ہو جائے یا اللہ! ایسے آنسو عطا فرما دیجیے جس سے آپ کی قربت نصیب ہو جائے یا اللہ! ایسے باقی تمام آنسوؤں سے بچا یا اللہ! جو دنیاوی غم اور مصائب میں جو ہیں وہ لے کے جانے والے ہوں یا اللہ! یا اللہ! اپنا عشق محبت عطا فرما اپنی اطاعت نصیب فرما نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت عطا فرما یا اللہ! دنیا میں جس کے جو جو پریشانیاں غم ہیں مسلمانوں میں سے ان سب کی پریشانیاں غم دور فرما یا اللہ! یا اللہ! امت کے حال پر رحم فرما یا اللہ! ہمیں اپنی تائی جتنا ممکن ہو یا اللہ! امت کی داد رسی کی توفیق عطا فرما یا اللہ! اب تو ہم نہ اپنے لیے روتے ہیں، نہ تیری امت کے لیے روتے ہیں، نہ آخرت کے لیے روتے ہیں یا اللہ! ہمارے دل خشک ہو چکے ہیں یا اللہ! ان کو اپنی رحمت سے اللہ نرم فرما دیجیے یا اللہ! نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا طریقہ اسی پر ہم اپنی زندگی گزاریں اور جب موت آئے تو یا اللہ! زبان پہ کلمہ جاری ہو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین।
[عربی]
[عربی]عبداللہ ابن شکیل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز نکل رہی تھی جسے ہے جیسے ہنڈیا کا جوش ہوتا ہے۔ یعنی جس کو ہم کہتے ہیں کہ۔ رونے کے وقت جیسے ہنڈیا جوش مار رہی ہوتی ہے تو ہلکی ہلکی آواز آتی ہے یہ بہت نوحہ خوانی والا رونا نہیں ہے چخنا چلانے والا رونا نہیں ہے۔ یہ ایسا رونا ہے کہ جس میں تھوڑی سی آواز بلند ہوتی ہے۔ تو اس لیے کہا جیسے ہنڈیا کا جوش آتا ہے جب ابالتے ہیں کوئی چیز تو ہنڈیا کا جوش آتا ہے اس طرح سے گویا آواز آ رہی تھی۔ علماء نے لکھا ہے کہ آپ علیہ السلام کو جو یہ رونا ملا ہے یہ ابراہیم علیہ السلام سے وراثت میں ملا ہے وہ رونا۔ کیوں رو رہے تھے تو اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اللہ کے خوف اور اس کے شوق اور شدید محبت کی وجہ سے اور اس بات کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ آپ علیہ السلام سے مروی ہے کہ اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ یہ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں۔ تو حقیقت انسان کو جب کھلتی ہے تو اس کو پھر اندازہ ہوتا ہے تو یہ محبت اور شوق اور رغبت ہے کہ دنیا کی محبت کم ہو جائے، آخرت کے شوق لگ جائے جو لفظ استعمال کیا یہاں پہ وہ ہے "ولجوفی عزیز کا عزیز المرجل" ہنڈیا ہنڈیا کا جیسے جوش ہوتا ہے تو یہ جو لفظ استعمال مرجل یہ اس تانبے کی دیگچی کو کہتے ہیں جو یا ہر وہ دیگ جس میں کھانا پکایا جائے اور اس کا نام اس لیے رکھا گیا مرجل کیونکہ دیگ کو چولہے یا پتھروں پر جب رکھا جاتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے اسے دو ٹانگوں پر کھڑا کر دیا گیا ہو آپ دیکھیں گے ہمارے یہاں بھی دیگوں کے نیچے پتھر اور اینٹیں رکھتے ہیں دیگ اوپر رکھتے ہیں نیچے آگ جلاتے ہیں۔ تو وہ جو گویا دیگ کی دو ٹانگیں ہو گئیں تو مرجل جو ہے وہ یہ جو مادہ ہے را، جيم اور لام یہ ٹانگ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے عربی میں تو اس لیے کہا کہ یہ اس کو مرجل اس لیے کہتے ہیں کہ گویا دیگ کے نیچے دو ٹانگیں آ گئیں تو مولانا زکریا رحمة الله فرماتے ہیں یہ آپ علیہ السلام کی کامل عاجزی اور انکساری تھی کہ اعمال میں تو آپ سے بہتر اعمال کوئی انسان کر نہیں سکتا لیکن پھر بھی ایسی عاجزی تھی کہ اپنے اعمال کے باوجود رونا اس شدت کا تھا بعض مشائخ نے لکھا ہے کہ نبی علیہ السلام کی حالت اس وقت ہوتی تھی جب اللہ تعالی کی صفت جلال اور صفت جمال دونوں ایک ساتھ ظاہر ہوتے تھے۔ صفت جلال کا سامنا کرنا اور خود کو قابو میں رکھنا تو کسی کے بس میں نہیں ہے۔ البتہ جب صفت جمالی کا ظہور ہوتا تو اس وقت ایک قسم کی خوشی اور اطمینان قلب بھی نمایاں ہو جاتا تو ان دونوں کے مکسچر کے ساتھ جو ہے آپ علیہ السلام جو ہے وہ پھر روتے تھے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل و وسیلے سے مشائخ صلوک کو بھی یہ دونوں حالتیں پیش آتی ہیں۔ بعض حضرات یہ کیفیت بیان کرتے ہیں کہ ہمارا ایسی حالت ہو گئی کہ گویا دل پھٹے جا رہا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے انسان کا رونے کا غم میں دل چاہتا ہے کہ میں روؤں。 اچھا اس میں دو طرح کی صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ انسان کو رونا آتا ہے اور وہ پھر روتا جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ ضبط کر لیتا ہے۔ اور تیسری صورت یہ کسی کو رونا ہی نہ آئے رونا آئی نہ رونے کے موقع پہ یہ تو سخت دلی ہے اس سے پناہ مانگنی چاہیے رونا آئے لیکن انسان اس کو ضبط کر لے لوگوں کے سامنے آنسو نہ بہائے specially جو leadership ہے نا اس کو اہم مواقع پہ وہ رونے شروع کر دے جب کہ باقیوں کو دلاسہ دینا ہو تو وہ کاہے کا لیڈر ہے؟ تو اسی لیے جو رسول اللہ کا رونا ہے وہ تو کسی کے انتقال کے پر ہے یا پھر اللہ کے سامنے آخرت کی فکر و محبت کا شوق کا رونا مسائل کتنے ہیں آپ علیہ السلام کے پاس تو ان چیزوں میں آپ نہیں روئے تو یہ انسان چونکہ مرد گھر کا لیڈر ہے اگر چھوٹی چھوٹی بات پر مرد بھی رونے لگ جائے تو دلاسہ کیسے دے گا؟ ہمیں پتہ چلا بعض لوگ ہیں وہ ان کی جب گھر میں ولادت ہوتی ہے تو بہت مشکل موقع ہوتا ہے تو بیوی کو مشکل میں دیکھ کر وہ رونے لگ جاتے ہیں اس وقت تو آپ کو برداشت کرنا ہے اس غم میں آپ رہیں پریشان ہیں آپ ٹھیک ہے لیکن اس کو اظہار نہ کریں کیونکہ آپ رونے لگ جائیں گے تو اس کو دلاسہ کون دے گا؟ تو دلاسہ دینے والا خود رونے لگ جائے جس کندھے پر آپ نے سر رکھنا تھا وہ خود کسی اور کی تلاش میں جو ہے وہ کندھے کی تلاش میں لگ جائے تو آپ کیا کریں گے؟ تو اس لیے ضبط جو ہے یہ بھی ایک quality ہے کہ انسان کیفیات کو جو ہے وہ control کر لے اور پھر اکیلے میں اللہ کے سامنے رونا ہی سب سے بہتر ہے بہرحال۔ وبی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا معاوية بن هشام قال حدثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قال قال لي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقرأ علي فقلت يا رسول اللہ أقرأ عليك وعليك أنزل قال إني أحب أن أسمعه من غيري فقرأت سورة النساء حتى بلغت وجئنا بكلا هؤلاء شهيدا قال فرأيت عيني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تهملان عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے آپ علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمائش کی ارشاد فرمایا کہ قرآن شریف سناؤ کیا خوبصورت موقع ہو گا کہ صاحب قرآن جو ہیں وہ صحابی سے کہیں گے کہ تم مجھے قرآن سناؤ میں نے کہا حضور آپ ہی پر تو نازل ہوا اور میں آپ کو سناؤں شاید وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ سنانا یا حفظ کرنے کے لیے یا سکھانے کے لیے ہوتا ہے خالی تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دوسروں سے بھی سنوں تو قرآن سے ثابت ہوتا ہے قرآن سننا بھی عبادت ہے۔ تو میں نے اس حکم کی تعمیل میں اس کو قرآن آپ کو سنانا شروع کیا اور سورہ نساء پڑھنا شروع کی بعض روایت میں آتا ہے سورہ بقرہ سے شروع کر دیا تھا بہرحال جب وہ اس آیت پہ پہنچے فکيفإذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بكلا هؤلاء شهيدا تو میں نے آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا کہ دونوں آنکھیں گریہ کی وجہ سے بہہ جا رہی ہیں بہہ جا رہی ہیں۔ تو یہ رونا نبی علیہ السلام کا کلام مبارک کو سننے کی وجہ سے تھا اور یہ چیز قرآن کے شان و شان اور عظمت کے لائق ہے۔ امام نووی رحم اللہ شارح مسلم لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت کے دوران رونا عارفین اللہ کی معرفت رکھنے والوں کی صفت اور صالحین کی علامت ہے۔ اللہ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں سورہ مریم میں کہ جب ان لوگوں کے سامنے رحمن کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں تو یہ تو مومنین کی صفت ہے۔ اسی طرح فرمایا ایک اور جگہ سورہ اسراء میں بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ تو اب جب عبداللہ ابن مسعود نے حضور کو دیکھا تو ممکن ہے کہ وہ حضور پہلے سے رو رہے تھے اور جب ان کی نظر پڑی تو اس آیت پر تھے وہ۔ یعنی ممکن ہے کہ رونا پہلے شروع کر دیا ہو قرآن کی وجہ سے اور اس آیت پر دے پہنچے تو اس طرف نظر پڑی اور یہ بھی ممکن ہے اسی آیت پر آ کر رونا شروع کیا ہو। یہ آیت ہے اس کا ترجمہ ہے، بس اس وقت کیا حال ہوگا جب ہر ہر امت میں سے ایک گواہ لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہم ہر، اللہ فرماتے ہیں ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے محبوب! ہم آپ کو ان تمام لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ یعنی ہر امت میں سے گواہ لائیں گے۔ کس بات کا گواہ؟ کہ اللہ کا پیغام پہنچا کہ نہیں پہنچا اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کو باقی سب پر گواہ بنایا جائے گا کہ تم پر رسالت، پیغام تم پر پہنچایا گیا ہے۔ تو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے جو بلایا جائے گا یہ قیامت کا منظر ہے کہ جس دن ہر نبی کو گواہی کے طور پر پیش ہونا پڑے گا اور حضور علیہ السلام کے سامنے قیامت کی ہولناکیاں بھی تھیں کہ جب ہر وقت، جس وقت ہر انسان اپنے نفس النفس کے عالم میں ہو گا تو اس وقت کی کیفیت کی وجہ سے آپ علیہ السلام نے یہاں پر جو ہے وہ رویا یا پھر اپنی امت کی فکر میں روئے یا پھر یہ کہ اس گواہی کے عظیم بوجھ کی وجہ سے آپ علیہ السلام روئے۔ یہ مختلف وجوہات ہیں جو یہاں پر علمائے نے بیان کی گئی ہیں۔ عن طاء بن ثابت عن أبي عبد الله ابن عمر قال إن كسفت الشمس يوما على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حتى لم يقد يركع، ثم ركع فلم يقد يرفع رأسه، ثم رفع رأسه فلم يقد أن يسجد، ثم سجد فلم يقد أن يرفع رأسه، ثم رفع رأسه فلم يقد أن يسجد، ثم سجد فلم يقد أن يرفع رأسه، فجعل ينفخ ويبكي، ويقول ربي ألم تعدني أن لا تعذبهم وأنا فيهم، ربي ألم تعدني أن لا تعذبهم وهم يستغفرون، ونحن نستغفرك، فلما صلى ركعتين انجلت الشمس، فقام فحمد الله تعالى وأثنى عليه، ثم قال إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياة، فإذا انكسفا فافزعوا إلى ذكر الله تعالى۔ یہ حدیث ہے جو زمانہ جاہلیت کی ایک رسم کو بتا رہی ہے اور کیسے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی علیہ الصلاة والسلام نے اس غلط رسم کے خلاف جو ہے وہ امت کو تعلیم دی۔ عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ نبی علیہ السلام کے زمانے میں ایک دفع سورج گرہن ہوا تو آپ کو پتہ ہے ایک صلاة کسوف اور ایک خسوف ہے۔ کسوف قاف کے ساتھ یہ سورج گرہن کی نماز ہے اور خسوف خاء کے ساتھ یہ چاند گرہن کی نماز ہے۔ تو حناف کے نزدیک سورج گرہن کی جو نماز ہے نفل نماز یہ تو اجتماعی طور پر پڑھی جاتی ہے۔ میرے خیال سے سال دو پہلے ہم نے یہاں پڑھی بھی تھی ایک شید。 اور جو چاند گرہن کی نماز ہے وہ تنہائی میں پڑھنا مسنون ہے۔ تو آپ علیہ السلام مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز شروع فرما کر اتنی دیر تک کھڑے رہے، گویا رکوع کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے۔ یعنی لمبی تلاوت فرمائی۔ اچھا اس نماز کی اذان نہیں ہوتی، بس اعلان کر کے بلایا جاتا ہے نارمل طریقے سے۔ اور پھر رکوع اتنا طویل کیا کہ گویا رکوع سے اٹھنے کا ارادہ ہی نہیں، پھر ایسے ہی رکوع کے بعد سر اٹھا کر قوما میں بھی اتنی دیر تک کھڑے ہوئے رہے، گویا سجدہ کرنا ہی نہیں، پھر سجدہ کیا اور اس میں بھی سر مبارک زمین پر اتنی دیر تک رکھے رہے، گویا سر مبارک اٹھانا ہی نہیں، اسی طرح سجدہ سے اٹھ کر جلسہ اور پھر جلسہ کے بعد دوسرے سجدہ میں، غرض ہر ہر رکن اس قدر طویل ہوتا تھا کہ گویا یہی رکن آخر تک جائے گا، دوسرا کوئی رکن نہیں ہے۔ شدت غم اور جوش سے سانس لیتے تھے اور روتے جاتے تھے آپ علیہ السلام اور حق تعالی شانوں کی بارگاہ میں عرض کرتے تھے کہ اللہ تو نے مجھ سے کیا یہ وعدہ کیا تھا کہ میری موجودگی تک امت کو عذاب نہیں ہو گا، اللہ اکبر۔ کیونکہ سورج گرہن ہوتا ہے جب تو گویا کیفیت عذاب کی سی نظر آتی ہے، ایک دم اندھیرا دن میں ہو جاتا ہے۔ تو ایسا اندیشہ ہوا کہ گویا عذاب ہے۔ اے اللہ تو نے ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک یہ لوگ استغفار کرتے رہیں گے عذاب نہیں ہو گا، یہ قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے۔ اب ہم سب کے سب استغفار کرتے ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج واپس نکل آیا تھا، گرہن ختم ہو گیا، آپ علیہ السلام نے اس کے بعد وعظ فرمایا، جس میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن میں نہیں جاتے، بلکہ یہ حق تعالی شانوں کی دو نشانیاں ہیں، جب یہ گرہن ہو جائے کرے تو اللہ تعالی کی طرف فوراً متوجہ ہو جایا کرو یعنی نماز استغفار میں مشغول ہو جاؤ۔ یہ قصہ جمہور کے نزدیک یکم ہجری کا ہے جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے، پہلا سال تھا اور آپ علیہ السلام، ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے سورہ بقرہ تلاوت فرمائی تھی، یہ سورہ بقرہ کی بات پچھلی حدیث کے ساتھ نہیں، اس حدیث کے ساتھ منسلک ہے۔ آپ علیہ السلام کا ارشاد اس مضمون کی طرف اشارہ ہے جو کلام اللہ میں اللہ مسلط ہو جانا، یہ اس کی ایک اہم مثال ہے۔ تو بہرحال یہ اس طرف رسول اللہ کا اشارہ تھا صلی اللہ علیہ وسلم روتے وقت۔ اچھا یہ جو خطبے میں ارشاد فرمایا کہ چاند گرہن جو ہیں یہ ان کا تعلق یہ اللہ کی نشانی ہے، اس کا تعلق کسی کی موت اور زندگی سے نہیں ہے۔ اس کو اس لیے ارشاد فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ جب سورج گرہن ہوتا ہے یا چاند گرہن ہوتا ہے تو کسی بڑی شخصیت کی پیدائش یا وفات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تو جب یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت نبی علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تھا، تو سورج گرہن لگ گیا۔ تو اس واقعے نے دور جاہلیت کے اس خیال کو مزید تقویت دی، لوگ کہنے لگے کہ گرہن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اگر تو یہ واقعہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات کی وجہ، یہ ٹائم لائن ہے تو پھر یہ یکم ہجری نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ ابراہیم علیہ السلام تو ماری قبطیہ سے پیدا ہوئے تھے اور یہ واقعہ جو ہے وہ بعد کا ہے۔ آئمہ کرام کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ سورج گرہن کے دوران ایک رکعت میں ایک رکوع کرنا چاہیے، ایک سے زیادہ رکوع کرنے چاہئیں۔ حنف کا موقف یہ ہے کہ ہر رکعت میں صرف ایک ہی رکوع ہو گا اور یہ حدیث اس موقف کی تائید اور تقویت کرتی ہے۔ دوسرے بعض حضرات کے نزدیک ایک نہیں زیادہ رکوع ہیں۔ اصل میں ہمارے حنف جو دلائل اس میں دیتے ہیں وہ یہ ہے، بڑی دلچسپ ایک اس میں دلیل ہے کہ ہوا یہ کہ کچھ صحابہ اتنی لمبا رکوع ہو گیا کہ وہ سمجھیں کہ اب ہمیں کھڑا ہونا ہے۔ اور چونکہ سپیکر تو تھا نہیں تو ان کے پیچھے والے اس کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ تو بعض نے یہی روایت نقل کر دی کہ اس کے دو رکوع ہیں یعنی وہ اوپر ہو کے پھر واپس نیچے ہو گئے۔ تو سمجھیں دو رکوع ہیں۔ حنف کہتے ہیں کہ نہیں رکوع ایک ہی تھا بس طویل بہت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کے بارے میں علامہ ابن ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں، زاد المعاد میں کہ جہاں تک آپ کے رونے کا تعلق ہے تو وہ بھی آپ علیہ السلام کے ہنسنے ہی کی طرح باوقار اور میانہ روی کے ساتھ تھا۔ یعنی داڑھی مار مار کے رہاس رہا رونا یا بلند آواز میں جیسے نوحہ کوئی کرتا ہے، ایسے نہیں تھا۔ جیسے آپ کا ہنسنا کہکہ کے ساتھ نہیں ہوتا تھا، اسی طرح رونا بھی بہت چیخ و پکار کے ساتھ نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ کے رونے کی حالت یہ ہوتی تھی کہ آپ کی دونوں آنکھوں میں سے آنسو بہتے یہاں تک کہ وہ بھر آتی تھیں اور آپ کی سینے مبارک سے رونے کی وجہ سے دیگچی کے ابلنے جیسی سنسنہاٹ کی آواز سنائی دیتی تھی۔ تو یہ آپ علیہ السلام کے رونے کا طریقہ تھا۔ حدیث نمبر چار، و بہی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا ابو احمد قال حدثنا سفیان، عن عطاء بن السائب، عن یکرمة بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ قال اخی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابنة له تقضی فاحتضنها فوضعها بین یدیہ، فما تدعی بین یدیہ وصاحت ام ایمن فقال یعنی صلی اللہ علیہ وسلم ا تبکی نعیندا رسول اللہ؟ فقالت الست اراک تبکی؟ قال انی لست ابکی انما هی رحمة ان المؤمن بکلی خیر، علی کلی حال ان نفسہ تنزع من بین جمبھہ وهو یحمد اللہ تعالی، یحمد اللہ تعالی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی ایک لڑکی قریب الوفات تھیں، آپ علیہ السلام نے ان کو گود میں اٹھایا، یہ حضور کی بیٹی نہیں یہ پوتا نواسی مراد ہے، کیونکہ بیٹیاں تو وہ ساری بڑی، تھوڑی بڑی عمر میں فوت ہوئیں، یہ نواسی مراد ہے اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آپ نے گود میں اٹھایا اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آپ علیہ السلام کے سامنے رکھ کے رکھ کے ان کی وفات ہو گئی۔ ام ایمن جو آپ علیہ السلام کی دایا، باندی تو نہیں تھیں، وہ آزاد یعنی خادمہ تھیں، وہ چلا کر رونے لگیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نبی کے سامنے چلا کر رونا شروع کر دیا ہے۔ تو انہوں نے عرض کیا، یہ ام ایمن حضور کی گویا ماں بھی تھیں، امی بعد امی، ہم نے اس پر پہلے بات کی۔ تو حضور نے عرض کیا کہ انہوں نے عرض کیا کہ آپ بھی تو رو رہے ہیں۔ آپ بھی تو رو رہے ہیں، مجھے رونے سے منع کر رہے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ رونا ممنوع نہیں ہے یعنی صرف آنسوؤں کا جاری ہونا، اس وقت حضور علیہ السلام صرف ان کے آنسو جاری تھے، کہا یہ تو اللہ کی رحمت ہے۔ یہ ہمارے یہاں جی بعض لوگوں نے سمجھا کہ مردانگی جو ہے وہ اس کا مطلب ہے کہ بالکل آنکھ میں آنسو بھی نہ آئے، چاہے یہ انتقال ہو جائے کسی کا یا کوئی اس طرح کا موقع بھی ہو جہاں رونا چاہیے وہاں نہ رو۔ تو یہ مردانگی نہیں ہے، حضور سے بہتر مرد کون ہے؟ حضور سے زیادہ مردانگی کس میں ہے؟ تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مردانگی ہے یہ ہے کہ ایسا رو بتاری ہو کہ نہ آنکھ سے آنسو نکلے، نہ چہرے پہ مسکراہٹ آئے، جلاد کی طرح شکل بنا کے گھر میں داخل ہو اور جہاں بھی جاؤ۔ تو یہ حضور کا طریقہ نہیں تھا۔ ایک دفعہ مشہور وا مطلب بات ہے کہ جب حضور علیہ السلام کسی بچوں کو بوسہ دے رہے تھے تو ایک بندہ آ کے ایک صحابی نے کہا، رسول اللہ! میرے تو اتنے بچے ہیں میں تو کبھی ایک کو بھی نہیں بوسہ دیا۔ کہا اللہ نے آپ کے دل میں رحمت رحمت نہیں رکھی، میں کیا کروں؟ تو یہ جو emotional connection ہے چاہے وہ ہنسی کی صورت میں ہو یا رونے کی صورت میں ہو، یہ تو نبی علیہ السلام جو افضل البشر ہیں، سب سے بہتر بشر ہیں، جب انہوں نے کر کے دکھایا تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یار مردانگی ہم نے اپنی maintain رکھنی ہے اور وہ سخت دلی کا نام مردانگی رکھ رہے ہیں۔ انا لله وانا الیہ راجعون۔ پھر فرمایا آپ علیہ السلام نے کہ مومن ہر حال میں خیر ہی میں رہتا ہے حتی کہ خود اس کا نفس نکالا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالی کی حمد کرتا ہے یعنی وہ خود جو ہے وہ اس کی موت آ رہی ہوتی ہے اور پھر بھی اللہ تعالی کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ حدیث نمبر پانچ، و بہی قال حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدی قال حدثنا سفیان، عن عاصم بن عبید اللہ، عن القاسم بن محمد، عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبّل عثمان بن مزعون وهو میت وهو يبکی او قال عیناه تهرقان۔ عائشہ فرماتی ہیں رضی اللہ تعالی عنہا کہ آپ علیہ السلام نے عثمان ابن مزعون رضی اللہ تعالی عنہ کی پیشانی کو ان کی وفات کے بعد بوسہ بوسہ دیا، اس وقت آپ علیہ الصلاة والسلام کے آنسو ٹپک رہے تھے۔ عثمان ابن مزعون جلیل القدر صحابہ میں جنھوں نے ابتدا میں اسلام قبول کیا، بعض حضرات کے نزدیک یہ تیرہویں نمبر کے مسلمان ہیں، تیرہویں نمبر پر اس امت مسلمہ میں جس نے اسلام قبول کیا، آج مسلمانوں کی آبادی اربوں میں ہے، تو تیرہواں نمبر کے thirteenth وہ عثمان ابن مزعون تھے اور سیرت کی عام کتابوں میں جب ابتدائی مسلمانوں کا ذکر ہوتا ہے تو ان کا نام بھی آتا ہے کیونکہ انہوں نے ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا اور یہ آپ علیہ السلام کے دودھ شریک بھائی بھی تھے۔ تو گویا بھائی بھی ہیں، صحابی بھی ہیں۔ تو انہوں نے عثمان بن مزعون نے حبشہ بھی ہجرت کی اور مدینہ بھی ہجرت کی تو یہ دو ہجر بھی ان کے حصے میں آئے اور متقی اور عبادت گزار تھے، جب شراب پینا منع نہیں تھا تب بھی ایسے سلیم سلیم الفطرت تھے اور ذوق اتنا اچھا تھا کہ تب بھی شراب نہیں پی کبھی اور مہاجرین میں ہجرت کے بعد سب سے پہلے جو صحابی فوت ہوئے وہ عثمان بن مزعون ہیں اور جنت البقی میں یہ دوسرے سال ہجرت کے ان کا انتقال ہوا، ان کو وہیں پر دفن کیا گیا جنت البقی میں۔ آخری حدیث اس Chapter کی وہ ہے بھی قال حدثنا اسحاق بن منصور قال اکبر بن ابو عامر قال حدثنا فلیح وهو بن سلیمان عن هلال بن علی عن انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ قال: شهدنا ابنة لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورسول اللہ جالس على القبر فرأيت عينيه تدمعان فقال: أفیكم رجل لم يقارف الليلة؟ قال ابو طلحة انا، قال: انزل فنزل في قبرها۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ الصلاة والسلام اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر پر تشریف فرما تھے اور آپ کے آنسو جاری تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ قبر میں وہ شخص اترے جس نے آج رات ہم بستر ہی نہ کی ہو، مجامعت نہ کی ہو۔ آپ علیہ الصلاة والسلام کی ساری صاحبزادیاں، آپ کی ساری صاحبزادیاں صاحبزادیاں بہت Young Age میں فوت ہوئیں، کسی نے تیس یا بتیس سے زیادہ لمبی عمر نہیں پائی۔ سب سے لمبی عمر زینب رضی اللہ تعالی عنہ نے پائی تیس یا بتیس سال، باقی سب Mid Twenties میں Early Twenties میں فوت ہو گئیں لیکن وہ مقام حاصل کیا کہ جنت کی سرداروں کی سردار عورتوں کی سردار فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے۔ تین بیٹیاں چار میں سے آپ کے سامنے فوت ہوئیں، حضور علیہ الصلاة والسلام پیدا ہوئے تو والد نہیں تھے، والدہ چھ سال میں فوت ہو گئیں، دادا آٹھ سال کی عمر میں، لڑکے جتنے پیدا ہوئے بچپن میں فوت ہو گئے، لڑکیاں جو زندہ رہیں تو Mid Twenties میں چار میں سے تین آپ کی زندگی ہی میں فوت ہو گئیں اور لوگ یہ بتاتے ہیں، کہتے ہیں مشہور بات ہے کہ اپنی زندگی میں اولاد کا جنازہ اٹھانا آسان کام نہیں ہے۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ تصوفی آپ ایک اہم نقطہ ذکر کرتے ہیں ابھی ذہن میں آ گیا کہ بعض لوگ جب عبادت شروع کرتے ہیں نئی نئی دین کی طرف آتے ہیں تو جوش زیادہ ہوتا ہے، جب پرانی عادت ہو جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ وہ اب وہ کیفیات نہیں آ رہی تو کیفیات تو مقصود نہیں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے آپ کی Growth نہیں ہو رہی روحانی۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ نے غالباً ایک جگہ لکھا ہے کہ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جب کسی کا جوان چھوٹا بچہ فوت ہوتا ہے بالکل Young ایک دو سال کا، تو اس وقت رونا تو زیادہ آتا ہے یا محبت کا اظہار بھی انسان اس سے زیادہ کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ غم لمبا نہیں رہتا۔ لیکن جو جوان آدمی ہے کسی کا فوت ہو جائے بچہ یا بچی تو اس وقت جوان آدمی کو تو کوئی بندہ اس طرح پیار نہیں کرتا جتنا چھوٹے بچے کو کرتا ہے لیکن اس کا غم Long Lasting ہوتا ہے یا لمبی دیر تک رہتا ہے As Compared to چھوٹے بچے کا انتقال ہو جائے تو اس سے پتہ چلا کہ ایک ہے محبت کی Depth، اس کے لیے لازمی نہیں ہے کہ جو Depth ہے اس میں انسان آ جو ہے وہ اس کے جوش کا اظہار بھی ہو، ایک ہے محبت کا جوش، ایک ہے محبت کی گہرائی اور Depth۔ تو بعض اوقات انسان جب عبادات کرتا رہتا ہے اور اس کو کیفیات محسوس نہیں ہو رہی ہوتی ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں اس کو روحانی فائدہ نہیں ہو رہا، وہ Depth میں جا رہا ہے، اللہ کے ساتھ تعلق اس کا بن رہا ہے، اعمال اگر وہ کرتا جا رہا ہے۔ تو بہرحال یہ تو ایک اضافی نقطہ تھا جو Share کر دیا یہاں پر۔ تو بہرحال اب سوال یہ ہے کہ ان کے شوہر کہاں تھے ام کلثوم کے؟ ام کلثوم سے پہلے شادی ہوئی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے رقیہ کی، وہ تو بدر میں فوت ہو گئی تھیں اور بدر کے دوران حضور واپس آئے تو دفنایا جا چکا تھا، مدینہ ہی میں فوت ہو گئی تھیں، اس لیے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور نے کہا تھا کہ آپ نے نہیں آنا، بیگم کا خیال رکھیں، عجیب ہم بعض اوقات دھماکیں کرتے ہیں، اس دن کسی ساتھی نے بتایا کہ ایک صاحب تبلیغ پر نکلے ہوئے تھے تو بیگم کی Call آئی کہ بچی بہت شدید بیمار ہے، تو کہتے ہیں کہ گھر آ کے میں نے کون سی شفا دے دینی ہے، اللہ کی راہ میں نکلا ہوں، وہاں نفل بھی پڑھ لوں گا اور بیگم کو اذیت میں رکھا کہ وہ بیچاری بیٹی کو لے کر پریشان ہے۔ یہ دیکھیں حضور علیہ الصلاة والسلام بدر کا موقع ہے، یوم الفرقان، جہاد ہے، کفار سے لڑائی ہے اور اس وقت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو کہا کہ نہیں تم مدینہ میں اب تمہاری بیگم بیمار ہیں ان کا خیال رکھو اور ان کو بدری بدری میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کو مال غنیمت کا حصہ بھی ملا۔ تو یہ جو بے اعتدالی بعض اوقات ہم کرتے ہیں اس کی وجہ سے لوگوں کو دین سے دور کرتے ہیں، تو اس سے سیکھنا چاہیے، بہرحال اب یہ دوسرا موقع تھا کہ دوسری صاحبزادی کا بھی نکاح حضور سے انہیں سے ہوا تو اب سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیوں جنازہ نہیں پڑھایا اور یہ کیوں کہا کہ جس نے کسی سے مجامعت تک کی ہو وہ آئے؟ تو واقعہ یہ ہوا کہ اس رات ان کی اہلیہ بیمار تھیں، جب ان کا انتقال ہوا اسی رات عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ایک لونڈی کے پاس وہ خلوت میں تشریف لے گئے اس اب اس میں اشارہ دیکھیں کہ کس لطیف انداز میں نبی علیہ السلام نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ میں اس بات سے تھوڑا خوش نہیں ہوں، کہا کہ جنازہ کوئی اور پڑھائے۔ تو ممکن ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے شدید غلبہ شہوت یا طبعی تقاضے کی وجہ سے ایسا کیا تھا تو اس میں کوئی حرج تو نہیں کہ نہ گناہ کی بات ہے انسان کے تقاضا ہے وہ اللہ نے چیز حلال کی ہے، انہوں نے اس کو استعمال کیا ہے۔ لیکن کسی کو کیا معلوم کہ موت کسی کب واقع ہو جائے گی؟ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ حضور کا انتقال ہونے سے چند منٹ پہلے گھنٹے پہلے مل کر گئے، آخری دفعہ یہ حضور اب حالت شاید بہتر ہو رہی ہے تو اپنی اہلیہ کی طرف چلے گئے دوسری بیوی جو تھوڑا دور رہتی تھی اور وہاں پیچھے سے خبر آ گئی کہ حضور کا انتقال ہو گیا۔ تو ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نرمی سے ان کے notice میں لانا چاہتے ہوں کہ ڈانٹا بھی نہیں ہے لیکن بڑے طریقے سے یہ شفقت ہے کہ حضور کی بیٹی کا انتقال ہوا، آنکھوں سے آنسو جا رہے ہیں لیکن کہا جنازہ کوئی اور پڑھے، لیکن یہ ہے عجیب نفیس انداز میں بتا بھی دیا، غضب بھی نہیں فرمایا، ڈانٹا بھی نہیں کہ جنازہ کوئی اور پڑھا دے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ سیدہ ام کلثوم کا نکاح انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ نکاح اللہ کے حکم سے ہوا تھا، جب عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی پہلی بیوی جیسے عرض کیا کہ حضرت رقیہ کا انتقال ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اگر میرے پاس سو بیٹیاں بھی ہوں اور ایک کے بعد ایک فوت ہو جائیں تو ان میں سے ایک ایک کا نکاح باری باری عثمان سے کروں گا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ اللہ کا حکم ہے کہ میں ام کلثوم کا ہاتھ عثمان کے نکاح میں دے دوں۔ اس پس منظر کے پیش نظر یہ بات بالکل قریبِ قیاس ہے کہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ جیسی جلیل القدر زوجہ کی بیماری کے موقع پر ایک ہلکا اور مبہم سا اشارہ دے دیا گیا ہو، واللہ اعلم کہ کیا اس میں درست ہے، دوبارہ سارا خلاصہ اس بحث کا یہ نکلا کہ جو رونا ہے آپ علیہ السلام کا وہ تین طرح کا تھا، کسی عزیز رشتہ دار کے انتقال کی وجہ سے، امت کی فکر اور غم میں، امت کو نجات دلانے کے لیے اللہ تعالی کی محبت اور شوق میں، اللہ تعالی ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہمیں وہ رونا نصیب ہو جائے کہ جس طرح کا رونا نبی علیہ الصلاة والسلام اور صحابہ نے رویا۔ آمین۔ ایک نشید پڑھ لیتے ہیں ان شاء اللہ پھر دعا کر لیتے ہیں۔ درود شریف پڑھ لیجیے。 او sorry غلط ہو گیا جی، یہ جنازے کے حوالے سے نہیں تھا، جزاکم اللہ خیرا، یہ قبر میں اتارنے کے حوالے سے تھا، جنازہ کی نماز حضور نے خود پڑھائی ہو گی، حضور کے ہوتے ہوئے کیسے کوئی اور پڑھائے گا؟ یہ حضور نے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو قبر میں نہیں اترنے دیا بلکہ ابوطلب نے اتارا، یہ ابوطلب وہی ہیں جو انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ کے دوسرے شوہر تھے، جب پہلے شوہر کا جب انتقال ہو گیا تو وہ قبر میں اتارنے کے حوالے سے جنازہ تو حضور علیہ السلام نے خود پڑھایا۔ اللهم صل على سیدنا محمد。 کسی کا کوئی سوال ہو تو پوچھے۔ وہ link ہی نہیں کھل رہا جس میں اشعار لکھے ہوئے ہیں۔ اللهم صل على سیدنا محمد و آله محمد و بارک وسلم۔ حکیم اختر رحمہ اللہ کے اشعار ہیں اور وہ رونے کے حوالے سے ہیں تو اس لیے میں چاہ رہا تھا کہ آپ حضرات کے سامنے دعا سے پہلے پڑھ لیے جائیں。 [گانا] ہے اسی طرح سے ممکن، تیری یاد، تیری راہ سے گزرنا، کبھی دل پہ صبر کرنا، کبھی دل سے شکر کرنا، ہے اسی طرح سے ممکن، تیری راہ سے گزرنا، کبھی دل پہ صبر کرنا، کبھی دل سے شکر کرنا، یہی عاشقوں کی عادت، یہی عاشقوں کا شیوا، کبھی گریہ و بکا ہے، کبھی آنہیں سرد بھرنا، یہ تیری رضا میں جینا، یہ تیری رضا میں مرنا، میری عبادیت پہ یا رب ہے یہ تیرا فضل کرنا。 یہی عشق کی علامت یہی عشق کی علامت کبھی گریہ و بُکا ہے۔ کبھی آنہہ سرد بھرنا میری زندگی کا حاصل میری زیست کا سہارا تیرے عاشقوں میں جینا تیرے عاشقوں میں مرنا میری زندگی کا حاصل میری زیست کا سہارا تیرے عاشقوں میں جینا تیرے عاشقوں میں مرنا کسی اہل دل کی صحبت جو ملی کسی کو اختر اسے آ گیا ہے جینا اسے آ گیا ہے مرنا کسی اہل دل کی صحبت جو ملی کسی کو اختر اسے آ گیا ہے جینا اسے آ گیا ہے مرنا ہے اسی طرح سے ممکن تیری راہ سے گزرنا کبھی دل پہ صبر کرنا کبھی دل پہ شکر دل سے شکر کرنا یہی عاشقوں کا شیوا یہی عاشقوں کی عادت کبھی گریہ و بُکا ہے۔ کبھی آنہہ سرد بھرنا الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ وسلم على رسولہ کریم ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لن كوننا من الخاسرین رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین لا الہ الا انت سبحانک انا کنا من الظالمین اللہم اعنا على ذکرک وشکرک وحسن عبادتک یا اللہ! یا اللہ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما دیجیے یا اللہ! ہمیں آخرت کی فکر لگا دیجیے یا اللہ! آپ کی محبت میں ہمیں رونا آ جائے یا اللہ! ایسے آنسو بہانے کی توفیق عطا فرما دیجیے کہ جس سے آپ توبہ کے فیصلے فرما لیتے ہیں یا اللہ! ایسے آنسو ایسے آنسو عطا فرما دیجیے جس سے اللہ جہنم کی آگ ہم پر حرام ہو جائے یا اللہ! ایسے آنسو عطا فرما دیجیے جس سے آپ کی قربت نصیب ہو جائے یا اللہ! ایسے باقی تمام آنسوؤں سے بچا یا اللہ! جو دنیاوی غم اور مصائب میں جو ہیں وہ لے کے جانے والے ہوں یا اللہ! یا اللہ! اپنا عشق محبت عطا فرما اپنی اطاعت نصیب فرما نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت عطا فرما یا اللہ! دنیا میں جس کے جو جو پریشانیاں غم ہیں مسلمانوں میں سے ان سب کی پریشانیاں غم دور فرما یا اللہ! یا اللہ! امت کے حال پر رحم فرما یا اللہ! ہمیں اپنی تائی جتنا ممکن ہو یا اللہ! امت کی داد رسی کی توفیق عطا فرما یا اللہ! اب تو ہم نہ اپنے لیے روتے ہیں، نہ تیری امت کے لیے روتے ہیں، نہ آخرت کے لیے روتے ہیں یا اللہ! ہمارے دل خشک ہو چکے ہیں یا اللہ! ان کو اپنی رحمت سے اللہ نرم فرما دیجیے یا اللہ! نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا طریقہ اسی پر ہم اپنی زندگی گزاریں اور جب موت آئے تو یا اللہ! زبان پہ کلمہ جاری ہو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین।
The rest of this transcript — segmented and speaker-labeled, so you land on the exact moment something was said
Search every transcript — by keyword, by phrase, or by meaning, across every show Radar indexes
Trends — what is surging across podcasts, measured against its own baseline
Alerts — when a name you follow appears in a newly indexed episode
No account is needed to search Radar.