Oct 8, 2026 · 45 min · 3 segments
No entities detected.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ وسلم على رسولہ کریم اما بعد۔ فقد قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ورفعنا لك ذكرک صدق اللہ العظيم۔ اللهم رب اشرح لی صدری ويسر لي امری واحلل عقدة من لسانی يفقهوا قولی۔ الحمد للہ شمائل محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروس کے سلسلے میں آج ہم Chapter Number Forty Four چوتالیسواں جو باب ہے وہ ہم پڑھیں گے اور اس سے پہلے جو ہم نے پچھلا ہفتہ تھا اس میں اکتالیس اور بیالیس پڑھا تھا تو سوال یہ ہے کہ ترتالیس نمبر Forty Three نمبر کہاں چلا گیا؟ اگر کسی کو یاد ہے تو رمضان سے پہلے ہم نے پڑھا تھا وہ تھا روزے کے حوالے سے اسی لیے کتابیں جو لوگ نہیں لاتے تو ان کو تو یاد ہی نہیں ہے۔ ان کے پاس چونکہ ماشاءاللہ کتاب ہوتی ہے تو انہیں نظر آ گیا کہ باب ما جاء فی صوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے رمضان سے پہلے پڑھ لیا تھا تاکہ وہ مناسبت اس وقت زیادہ ہو رہی تھی تو وہ مکمل ہو چکا تو آج ہم اس سے اگلا باب جو ہے وہ پڑھیں گے。باب ما جاء فی قراءت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض نسخوں میں ہے۔باب ما جاء فی صفة قراءت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی نبی علیہ الصلاة والسلام کس انداز سے قراءت فرماتے تھے، قرآن پڑھتے تھے، اس کے حوالے سے امام ترمذی نے اس Chapter میں اس باب میں آٹھ حدیثیں نقل کی ہیں۔ اب قراءت ایسی چیز ہے کہ ہر مسلمان کو کرنی پڑتی ہے کیونکہ نماز فرض ہے جب نماز فرض ہے مرد اور عورت پر تو نماز میں قرآن بھی پڑھنا ہے اور جب قرآن پڑھنا ہے تو قراءت کرنی ہے تو یعنی یہ ایسی چیز ہے جو ہر کسی کے ساتھ متعلق ہے اور کسی کو جو ہے وہ اس میں دلچسپی لینی چاہیے کہ نبی علیہ الصلاة والسلام کا قراءت کا طریقہ کیا تھا؟ مسنون انداز میں ہم نماز کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ قرآن کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ اور سنت کی ایسی عجیب برکت ہوتی ہے کہ کوئی بھی کام جب مسنون انداز سے کیا جاتا ہے تو اس میں دل میں خاص حلاوت محسوس ہوتی ہے، اس عمل کو کرنے کے بعد یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ بار بار پھر انسان کا دل چاہتا ہے سکون حاصل ہوتا ہے تو یہ حال قراءت کا بھی ہے چاہے بندہ نماز میں قراءت جو قرآن پڑھ رہا ہے اس کی بات ہو یا نماز سے باہر تلاوت کر رہی ہو اگر اس میں مسنون انداز سے تلاوت نہ کی جائے یہ بعض مرتبہ تو ایسا ہو جاتا ہے کہ انسان مسنون نہیں بھی کر رہا ہے لیکن ایک جائز صورت ہے وہ کر رہا ہے تب بھی ٹھیک ہے لیکن اگر وہ مکروہ کی طرف چلا جاتا ہے یعنی اس انداز سے تلاوت کرتا ہے کہ باقاعدہ اس میں غلطیاں ہوتی ہیں تو دل پر ایک بوجھ باقی رہتا ہے، عبادت کرنے کے باوجود بھی ایک بوجھ باقی رہتا ہے کیونکہ غلطی ہو رہی ہے، اس کو صحیح انداز سے ادا نہیں کیا جا رہا تو اس حوالے سے ہمیں نہ صرف یہ کہ یہ شوق ہو کہ ہمارے بچے حافظ بنیں بلکہ اپنی قراءت بھی ٹھیک کرنے کا جو ہے وہ جذبہ ہونا چاہیے اور اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہونی چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قید ہے ہی نہیں اس میں عمر کی صحابہ نے تو بڑی عمر میں قرآن سیکھا صحابہ جو ایمان لاتے جا رہے تھے اس وقت تو اکثر بڑی عمر کے تھے تو وہ تو بڑی عمر میں سیکھ رہے تھے تو اس میں ہمیں کیا اس میں مزائقہ ہے؟ اس میں کیا شرم کی بات ہے کہ اگر کوئی بڑی عمر کا ہے اور قراءت سیکھ رہا ہے تو اس میں ہمیں شرم نہیں کرنی چاہیے اور اب تو بہت آسانی ہو گئی، آن لائن اتنی سہولتیں مل گئی ہیں قراءت کو تجوید کو بہتر کرنے کے لیے آن سائٹ بھی لوگ مل جاتے ہیں تو اس حوالے سے اس میں کوشش کرنی چاہیے کہ انسان اپنی قراءت جو ہے وہ ٹھیک کرے اور وقتاً فوقتاً اس کو چیک بھی کراتا رہے قراء حضرات کو کہ میں کیا ٹھیک پڑھ رہا ہوں کہ نہیں؟ تو اس باب میں نبی علیہ الصلاة والسلام کی قراءت کے احوال ہیں کہ رک رک کے ٹھہر ٹھہر کے پڑھتے تھے یا ملا کر پڑھتے تھے، اونچا پڑھتے تھے یا آہستہ پڑھتے تھے کس انداز میں تلاوت ہوتی تھی تو اس حوالے سے کچھ روایت موجود ہیں یعنی آیا وہ ترتیل کے ساتھ ترتیل سے مراد واضح صاف اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور یا اور تجوید یعنی تلفظ اور ادائیگی کے جو قواعد ہیں اس کو صحیح انداز سے جو ہے وہ پڑھنا اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ تلفظ اور ادائیگی سے مراد ہے کہ حروف کو کیسے ادا کیا جا رہا ہے، خا موٹا پڑھنا ہے یا جو ہے وہ ہلکا پڑھنا ہے، قاف موٹی ہے یا پتلی ہے کس انداز سے پڑھنا یہ تلفظ آ گیا اور جو باقی ادائیگی کے قواعد ہیں کہاں پر رکنا ہے، کہاں پر ٹھہرنا ہے، کہاں پر لمبا کرنا ہے، کہاں پر ملانا ہے یہ ساری چیزیں ہمارے ہاں الحمد للہ دارالسلام میں جو weekend کے تفہیم course ہوتا ہے اس میں بھی میرا خیال ہے ہر سال میں ایک دفعہ یہ تجوید کا بھی ایک course Saturday کو پڑھایا جاتا ہے جس میں فن ایک تو ہے کہ قرآن پڑھنا ہے ایک اس کے اصول پڑھنا تجوید کے اصول ہے چھوٹی سی کتاب ہوتی ہے تو وہ اگر کسی نے کبھی نہیں پڑھی تو باقاعدہ یہ اچھا طریقہ ہے کہ Saturday Sundays میں سے ایک دن نکال کر تین چار مہینے کی ایک class ہوتی ہے یعنی پندرہ سولہ ہفتے ہوتے ہیں Saturday یعنی پندرہ سولہ دن یا بیس دن بہت ہوتا ہے دو گی تیس دن ہو جائیں گے تو وہ کم سے کم ایک دفعہ اس سے گزر جانا چاہیے کیونکہ قرآن تو قرآن کی بنیادی تجوید سیکھنا ہر انسان پر فرض ہے، حفظ کرنا فرض نہیں ہے، چند سورتیں یاد ہو جائیں ٹھیک ہے لیکن تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا آتا ہو یہ تو فرض ہے اور ہمارے یہاں دیسی ماحول میں خاص طور پر بہت سے گھروں میں پاکستان ہندوستان میں رواج ہوتا تھا کہ خواتین ہی کوئی پڑھاتی تھیں قرآن یا محلے کی کوئی خاتون ہے وہ قارئہ ہے بھی کہ نہیں پھر پنجابی style میں کہیں قرآن چل رہا ہے کہیں کسی style میں چل رہا ہے تو اس سے بہت سارے اور بعض لوگ تو دیکھ کے بتا دیتے ہیں کہ یہ لگتا ہے کہ آپ نے کسی باقاعدہ سند یافتہ استاد یا استاذہ سے نہیں پڑھا بلکہ کسی محلے کی aunty سے پڑھا کہ اس طرح کی جو ہے وہ غلطیاں بعض اوقات ہو رہی ہوتی ہیں تو اس میں آ سیکھنا چاہیے اور ویسے ہی مسلمان کی تو شان یہ ہے کہ وہ کبھی علم سے بیزار نہیں ہوتا۔ وہ علم سیکھتا ہی رہتا ہے قبر تک تو اس لیے یہ ایسی چیز ہے کہ اس میں انشاء اللہ ہمیں خیال رکھنا چاہیے اور ہماری ایک خوش قسمتی ہے ما شاء اللہ کہ ادھر ہمارے علاقے میں مسجد میں قرات کا ایسا ڈیپارٹمنٹ قائم ہے مدرسے میں کہ جس کے نتیجے میں نئے نوجوان ایسے بہترین قاری تیار ہو رہے ہیں کہ کسی کو بھی آپ جا کر درخواست کر سکتے ہیں کہ میری ذرا تجوید چیک کر لیں اور مجھے اس میں مدد دے دیں۔ بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ ہماری نا سامنے ایک ایگو آ جاتی ہے وہ یہ کہ اگر میری بچی نے یا میرے بیٹے نے بیٹی نے قرآن حفظ کر لیا یا پوتا پوتی نے کر لیا اور ما شاء اللہ وہ قرآن میرے سے اچھا پڑھتی ہیں تو کیا میں ان کے سامنے بیٹھ کر کبھی کہوں گا کہ مجھے میرا بھی سن لو تو کرنا چاہیے؟ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے ساتھی اس مسجد کے نمازی ہیں، ان کی بچیاں یہاں حفظ کر رہی ہیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں کبھی کبھی اور کہتا ہوں کہ میری غلطیاں نکالو تو میں نے کہا بہت خوشی کی بات ہے کہ تو آپ ایسا کرتے ہیں کہ بس ایک چیز میں وہ بات جیسے ہم ان سے یہ پوچھتے ہیں نا کہ مجھے کمپیوٹر نہیں آتا صحیح بھائی میں ذرا پرانا آدمی ہوں، ذرا میرا کمپیوٹر ہی سیٹ کر دو، میرا فیس بک آئی ڈی بنا دو تو اس میں تو ہمیں نہیں شرم آتی اتنی تو قرآن میں کیوں آتی ہے؟ تو یہ تو بلکہ خوشی کی بات ہے کہ اللہ نے توفیق دی آپ کا بچہ آپ کی اولاد میں سے کوئی قرآن کا ماہر بن گیا تو اس سے مزہ لیں، اس کا فائدہ اٹھائیں۔ دوبارہ یہ تو ہو گئی اس کی ترغیبی بات。 حدیث نمبر ایک و بسند المقتصر منا الی امام الترمذی قال حدثنا قطیبہ بن سعید قال حدثنا الليث عن ابن ابي مليكة عن یعل یعل بن مملک انه سأل ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا عن قراءۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذا هي تنعت قراءۃ مفسرة حرفا حرفا。 یعل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا جو کہ امہات المومنین میں سے ہماری ایک ماں ہیں، ان سے پوچھا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی قرات کی کیفیت کیا تھی؟ تو انہوں نے ایک ایک حرف علیحدہ علیحدہ صاف صاف کیفیت بتائی۔ مفسرة تن کا مطلب ہے مفسرة تن کہ تفسیر اس کی یعنی اس کو بہت واضح کر کے بتایا کہ کیسے پڑھتے تھے تو یہ تنعت تنعت یعنی اس کو بتا اس اس کو اس کی کیفیت بتائی جو نعت ہے نا نعت اردو میں بھی ہم نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں نعت کس کو کہتے ہیں؟ تعریف کو صفت بیان کرنے کو۔ تو ہمارے یہاں بعض اوقات لوگ اس کو بھی مکس کر دیتے ہیں کہ بھائی میں نعت پڑھوں گا اور آگے حمد پڑھ دیتے ہیں یا کوئی اور علامہ اقبال کی نظم پڑھ دیتے ہیں تو نعت کا مطلب ہے جس میں تا تعریف کی جائے اور اصطلاحا حمد کا لفظ حمد بھی تعریف کو کہتے ہیں。 حمد کا لفظ استعمال ہوتا ہے اللہ تعالی کی تعریف کے لیے جس نشید میں جس شعری مجموعے میں جس شاعرانہ کلام میں اللہ کی تعریف بیان کی جائے اس کو حمد کہتے ہیں جس میں نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی بیان کی جائے اس کو نعت کہا جاتا ہے۔ تو تنعت تو انہوں نے صفت بیان کی قرات قرات کی مفسرة تن تفصیل کے ساتھ حرف عن حرف ایک ایک حرف کا کو واضح بتایا۔ اب علماء نے اس کے جو معنی لیے وہ یہ کہ ایک بات تو اس کا معنی یہ ہوا کہ ہر حرف کو اور لفظ کو الگ الگ پڑھتے تھے، پڑھتے تھے یعنی لفظ کھاتے نہیں تھے، مکس نہیں ہوتے تھے بیچ میں دوسرا یہ کہ اس اس کے مراد یہ کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس کیفیت کو لفظی طور پر بیان فرمایا کہ اس انداز میں آہستہ آہستہ آرام آرام سے پڑھتے تھے اور دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ خود تلاوت کر کے شاید دکھائی ہو ایک ایک حرف جیسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام پڑھتے تھے ویسے ہی پڑھ کر اس کو دکھایا دونوں معنی سے لیے جا سکتے ہیں۔ ہیں تو یہ لکھا ہے یہاں پہ بھی کہ دوسری تشریح زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے خود پڑھ پڑھ کے جیسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام پڑھتے تھے اس انداز میں پڑھ کر آگے بیان فرمایا۔ اب کیا خوبصورت مجالسیں ہوتی تھیں صحابہ کی اور تابعین کی کہ وہ بیٹھ رہے ہیں تو کیا پوچھ رہے ہیں کہ ہاں بھئی حضور کی کوئی بات ہمیں بھی بتا دو اور ان کی کوئی بات اب کیا یہ جو حضرات ہیں خود طلباء ہیں اور استاد جو ہیں یا استانی جو ہے وہ دیکھ کیا ان کا اعلی مقام ہے لیکن جب بیٹھتے ہیں ہم پورے شمائل میں یہ تو دیکھ رہے ہیں پوری شمائل کتاب ابھی آخر کے قریب پہنچے ہوئے ہیں اختتام کے قریب کہ صحابہ بیٹھتے ہیں ایک دوسرے سے یہی پوچھ رہے ہیں کہ حضور کی وہ ادا مجھے بتا دو، یہ ادا مجھے بتا دو، فلانا کام کیسے کرتے تھے، یہ کیسے کرتے تھے؟ یہ وہ تذکرے تھے جو اس ماحول میں زندہ تھے。 ظاہری بات ہے نبوی دور قریب بھی تھا اور یہ وہ تذکرے جو ہمارے یہاں فوت ہو گئے ان تذکروں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے اندر، ہمارے نوجوانوں کے اندر وہ رمق پیدا ہو محبت اور عشق کی کیفیت پیدا ہو جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا حق ہے ہم پر کہ وہ ابھی مسئلہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے اندر وہ تعظیم ہی پیدا نہیں ہو پا رہی۔ یہ انتہائی مشکل کام ہے ان کو اسلامک اسٹڈیز پڑھا دینا آسان کام ہے لیکن وہ دل میں تعظیم پیدا کرنا وہ مشکل ہو گیا کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی، اللہ کے نبی کی ایسی عظمت دل میں پیدا ہو جائے کہ پھر ہر کام اس کے مطابق ہو۔ تو یہ تذکروں سے ہوتا ہے تو اس طریقے سے ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو عام کریں اور اپنا اپنا ماحول بنائیں جن ہم گیدرنگز میں بیٹھے ہیں اور جن جس موقع پر ہوں تو اس میں کوئی نہ کوئی حصہ ایسا ضرور ہو کہ جس میں ہم کوئی ایسی تعلیم کر لیں، کچھ اس کا ذکر ہو جائے، بعض سنتوں کا ذکر ہو جائے۔ اسی لیے جماعت میں وقت لگانے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سارے آ جو مشرووع اعمال ہیں ان کی انسان پریکٹس کر لیتا ہے وہ وہ تعلیم کا ایک حصہ ہوتے ہیں بھائی سونے سے پہلے کہ جاگنے سے جاگنے کے بعد کہ کھانا کھانے کے مذاکرہ وہ چلتا رہنا چاہیے۔ حدیث نمبر دو بھی قال حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا وهب بن جریر بن حازم قال حدثنا ابي عن قتادة قال قلت لاناس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کیفا کانت قراءۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال مدا۔ کیا مطلب؟ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام مد والے حروف کو مد کے ساتھ کھینچ کر پڑھتے تھے یعنی جہاں پر مد آتی ہے تو اس کو باقاعدہ اس کا حق ادا کرتے تھے، اس کو کھا نہیں جاتے تھے جلدی میں۔ اب یہاں ایک مسئلہ ہمیں جو درپیش آتا ہے، رمضان آنے لگا ہے، اللہ تعالی ہمیں سب کو قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب اس میں دو طرح کے ذوق ہوتے ہیں لوگوں کے، اہل ذوق کی بات کروں بے ذوق ہے اس کا تو ذوق ہی نہیں ہو گا نا پھر تو وہ تو یعنی پڑھ ہی نہیں رہا قرآن، اللہ ہمیں ایسا نہ بنائے۔ ذوق والوں کے دو ذوق ہیں، ایک ذوق یہ ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، ترجمے کے ساتھ پڑھیں چاہے کم مقدار میں پڑھیں اور دوسرا ذوق یہ ہوتا ہے کہ بس جتنا زیادہ ہو سکتا ہے رمضان کی مبارک گھڑیاں ہیں تو پانچ پارے روز پڑھیں، دس پڑھیں، کوئی کہتا ہے پندرہ پڑھیں، کوئی بیس پچیس اور بعض تو ایک قرآن بھی پڑھ لیتے ہیں، گو کہ ایسے لوگ کم ہیں لیکن ذوق مختلف ہیں یعنی ایک تعداد پر فوکس کرتے ہیں، دوسری معیار پر فوکس کرتی ہے۔ تو اس حوالے سے کیا چیز بہتر ہے؟ جہاں تک تو حفاظ کا تعلق ہے اور حفاظ چونکہ تجوید اور قرات کے اصول جانتے ہوں تو وہ تو ظاہری بات انہوں نے تراویح بھی پڑھانی ہے، ان کو مقدار زیادہ بھی کرنی چاہیے لیکن جو غیر حفاظ ہیں اور اگر وہ speed کے چکر میں جو تجوید کی quality ہے اس پر compromise کر رہے ہیں تو یہ تو خطرناک بات ہو گئی، اب وہاں پر پھر test یہ ہوتا ہے کہ آیا میں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اپنے بہن بھائیوں کو دکھانے کے لیے، گھر والوں کو، دوستوں کو اچھا میں نے تو اتنا پڑھ لیا یا اپنے آپ کے ساتھ ہی بندہ ایک بات کر رہا کہ یار میں اتنا پڑھ لوں گا، طے کر لیا اس نے لیکن اس کے نتیجے میں غلطیاں تجوید کی بہت ہو رہی ہیں تو اس کا معنی یہ ہوا کہ ہم تو اس کا حق ہی ادا نہیں کر رہے، کسی ایک آپ کا خط ہی آپ لکھیں، کوئی بات آپ لکھیں، کوئی شاعرانہ کلام آپ لکھیں اور آپ کے سامنے کوئی اس کو غلط انداز میں پڑھے تو ہمیں کتنا برا لگے گا، یہ تو اللہ کا کلام ہے اور اللہ سن رہا ہے اور اس کو بھی چھوڑ دیں صرف اتنا سوچ لیں کہ جس style میں قرآن ابھی پڑھ رہا ہوں اگر مجھے مجمع کے سامنے اونچا پڑھنا پڑ جائے تو کیا میں پڑھوں گا؟ کتنی خطرناک بات ہے۔ کتنی خطرناک، اللہ کا کلام ہے یہ، اس کی عزت توقیر تو ضروری ہے۔ اب میں آپ علامہ اقبال کا کوئی شعر پڑھتا ہوں، تندیا کیا نام ہے کہ "محمد سے وفا تو نے تو ہم ترے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم ترے ہیں" اب میں نے شعر پڑھ لیا، کوئی مزہ آیا کسی کو؟ کسی کو بھی نہیں اور اس کا دوسرا انداز ہے کہ "کہ محمد سے وفا تو نے تو ہم ترے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم ترے ہیں" یہ دونوں میں کتنا فرق ہے تو اللہ کے کلام میں کہیں مد ہے، کہیں جو بھی اس کے اصول ہیں اگر اس کو ہم لحاظ نہیں رکھ رہے، صرف speed میں بس مکمل ہی کرنا ہے تو یہ گویا کہ ہم اپنی خواہش پوری کر رہے ہیں، اللہ تعالی کی رضا کا کام نہیں کر رہے، اس میں نفس پرستی ایک گویا آ گئی کہ میں نے تو اتنا کرنا ہے چاہے غلط کروں اور پاکستان میں بعض ٹھیکے دار ہوتے ہیں، وہ گھر ٹھیکے جلدی مکمل کرنے ہوتے ہیں، پانچ چھ مہینے میں وہ کہا کر نیا ٹھیکا پکڑنا ہوتا ہے تو وہ ہر کام اتنی جلدی کرتے ہیں کہ وہ بیچ میں گھر میں بہت سارے نقص نکل آتے ہیں لیکن انہیں گھر complete کرنا ہے time پہ۔ تو یہ اللہ کا کلام ہے یا تو بندہ اتنا ماہر بن چکا ہو جیسے بعض حفاظ ہوتے ہیں کہ وہ اگر روانی سے بھی پڑھتے ہیں تو ان کی بیس رکعت تراویح بھی جو ہے وہ ایک گھنٹے کے اندر مکمل ہو جاتی ہے لیکن کوئی نقص بھی باقی نہیں رہتا، بعض ہوتے ہیں اتنے ماہرانہ انداز ہوتا ہے ان کا لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو quality کی ویسے بھی اللہ کے یہاں اعمال گنے نہیں جائیں گے، تولے جائیں گے تو quality matter کرتی ہے کہ ہم کس انداز سے پڑھ رہے ہیں، اسی طرح ترجمہ قرآن کا اگر کسی نے پڑھنا ہے، رمضان کا موقع ہے بعض لوگوں کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے تو اس سے کیا ہوگا کہ ہو سکتا ہے ورنہ بغیر ترجمے کے وہ پانچ قرآن پڑھ لے تا، اس طرح شاید ایک ہی پڑھے گا تو میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ اس میں جو ایک قرآن پڑھ رہا ہے لیکن ٹھہر ٹھہر کے پڑھ رہا ہے اور ترجمہ سمجھ کے پڑھ رہا ہے، اس کو محسوس کر رہا ہے، اس کی کیفیت لے رہا ہے، اس کے نتیجے میں ظاہری بات ہے اس کی زندگی میں تبدیلی آئے گی تو اسی لیے اس حوالے سے جو ذوق ہے وہ اللہ سے مانگنا چاہیے، اللہ وہ ذوق عطا فرما جو آپ کو پسند ہے اور یہ بات اس کو ہم سوچ لیں جو بھی ہم پڑھ رہے ہیں جس انداز میں اگر ابھی اسی وقت میرے ساتھ کوئی بندہ بیٹھا ہو اور میں اس کو اونچا پڑھ کے اسی style میں اسی speed میں سنا سکوں گا، اگر جواب نہیں ہے تو میں اس بندے سے بہت افضل اور اعلی اللہ تعالی کو سنا رہا ہوں یہ تو پھر میں کیسے اس طریقے سے پڑھوں کلام بھی اللہ کا ہی ہے تو اس حوالے سے ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ تو بہرحال یہ حدیث میں لکھا ہے کہ مد کے ساتھ آپ علیہ السلام جہاں کھینچنا ہوتا تھا، کھینچ کے پڑھتے تھے۔ دیکھیں کیا لکھا ہے کہ یہ کیفیت صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان ٹھہر ٹھہر کر توجہ احتیاط سے تلاوت کرے، اگر جلدی جلدی اور عجلت پسندی میں پڑھا جائے تو مد کو صحیح طور پر ادا کرنا مشکل ہو جائے گا، اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں، ایک یہ کہ تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرنی چاہیے، دوسرا یہ کہ جہاں مد آئے وہاں اسے مد کے ساتھ ہی ادا کرنا چاہیے، شارحین نے حدیث لکھا کہ مد ادا کرنے کے کچھ مخصوص قوانین و قواعد ہیں جو فن تجوید کی کتابوں میں بیان ہوئے ہیں، اس کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ ہمارے دور میں بعض قراء مد کو حد سے زیادہ لمبا کر دیتے ہیں، اب یہ ایک اور extreme ہے، ایک یہ کھا جانا، ایک حد سے زیادہ لمبا کر دینا، قرات competition وغیرہ اور یہ ہوتی ہیں، قرآن nights میں بعض اوقات فن قرات کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے تو حالانکہ وہی ادات درست اور معتبر ہے جو تجوید کے قواعد اور اصولوں کے مطابق ہو، کسی بھی چیز میں زیادتی یا کمی، افراط و تفریط دونوں ہی ناپسندیدہ ہیں۔ ہیں اب یہاں ایک مسئلہ آتا ہے نعت میں بھی اب میں مختلف مجالس کی عرض کر چکا اور یہ قرات کے ساتھ بھی قرآن کی تلاوت ساتھ بھی ایک معاملہ آتا ہے، اس میں احتیاط کرنی چاہیے بہت زیادہ کہ بعض اوقات ہم قرآن کی بجائے قاری کی تعریف میں لگ جاتے ہیں اور نعت کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے اس نعت پڑھنے والے کی تعریف ہم زیادہ کر رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ اصل مقصد نعت کا یہ ہے کہ اس اس مجلس میں نعت پڑھنے یا سننے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اضافہ ہونا چاہیے، قرآن کی تلاوت سننے کے بعد اللہ کے ساتھ تعلق میں اضافہ ہونا چاہیے اور جو لوگ نماز پڑھاتے ہیں ان کے لیے بھی ایک اخلاص کا بڑا زبردست ٹیسٹ ہوتا ہے۔ کہ میں جب اکیلے میں دو سنت پڑھتا ہوں تو تب میں نماز تلاوت کیسے کرتا ہوں اور جب میں مجمع میں پڑھتا ہوں تو پھر میں کیسے کرتا ہوں؟ تو اگر وہ بھی اللہ کے لیے اور یہ بھی اللہ کے لیے ہے تو اللہ تو نہیں بدلے نا نعوذ باللہ من ذالک۔ مجمع بدلا ہے۔ ایک تو ہے کہ نیچرل ایک فرق آتا ہے کہ انسان اونچا پڑھے یا آہستہ پڑھے تو ایک نیچرل سپیڈ کا ایک فرق رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک نماز ورنہ دو رکعت کی اگر کوئی پانچ منٹ میں پڑھ رہا ہے تو اگر وہ اونچی آواز میں تلاوت کرے گا تو شاید سات آٹھ منٹ لگ جائیں، ایک نیچرل ایک فرق آ جاتا ہے۔ اور ایک ہے کہ اچھا خاصا فرق ہے ورنہ تو ٹھیک ٹھاک سپیڈ ہے اور جب مجمع کے سامنے کہیں کسی نے جماعت شروع کی نماز پڑھنا ہے تو اس ٹائم تو بالکل یہ ادائیں بدل گئیں تو یہ اخلاص کا ہم طلباء کو کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کے اخلاص کا ٹیسٹ ہے۔ آج آپ نے نئے سٹائل میں قرات کرنی ہے، کیوں کرنی ہے؟ کیونکہ کوئی پیچھے پوٹینشل سسر کھڑا ہوا ہے آپ کا اور اگلے ہفتے آپ کا بھی نکاح کا اعلان ہو سکتا ہے تو آج میں ایک نئی قرات میں نماز پڑھاتا ہوں۔ یا بس اس لیے کہ اللہ تعالی جو ہیں وہ انہوں نے کہ قرآن کا یہ بھی ایک انداز اتارا تو آج عوام کو اس سے بھی تھوڑا روشناس کرا دیتے ہیں تو یہ نیت کا معاملہ ہے، ہم نے تو دوسروں پر ہمیشہ اچھی نیت کا گمان کرنا ہے۔ خود جب ہماری باری آئی تو ہم اس کی بہت احتیاط کریں کہ اللہ تعالی کے لیے خالص پڑھیں، اس کا ایک آسان طریقہ یہ کہ حضرت ثانوی رحمۃ اللہ نے لکھا کہ نیت کو ٹھیک کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ عین عمل سے ایک سیکنڈ پہلے آپ یہ ارادہ کر لیں اللہ یہ میں آپ کے لیے کر رہا ہوں بس۔ زبان سے بے شک اس کو ادا کر لیں، پھر وسوسہ آتا رہے ذہن میں تو اس کو چھوڑ دیں۔ بس یہ کھڑے ہو کر کہیں یا اللہ آپ کے لیے پڑھوں، اللہ اکبر بات ختم۔ اچھا جی اگلی حدیث، و فی قال حدثنا علی ابن حجرن قال حدثنا یحیی ابن سعید الاموی عن ابن جریج عن ابن ابي مليکت عن ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا قالت کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يقطع قراءته يقول الحمد للہ رب العالمین ثم يقف ثم يقول الرحمن الرحيم ثم يقف وكان يقرأ مالك يوم الدين۔ ام سلمہ فرماتی ہیں رضی اللہ تعالی عنہا کہ آپ علیہ السلام تلاوت میں ہر آیت کو جدا جدا کر کے علیحدہ علیحدہ اس طرح پڑھتے کہ الحمد للہ رب العالمین پر ٹھہرتے، پھر الرحمن الرحيم پر وقف فرماتے، پھر مالك يوم الدين پہ فرماتے، اب دو طریقے ہیں نا، ایک ہے وقف کے ساتھ سیدھا پڑھنے کے، الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحيم مالك يوم الدين اور ایک طریقہ یہ ہے، الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحيم مالك يوم الدين ایاک نعبد یعنی اس کو ملا کے پڑھنا۔ طریقے دونوں جائز ہیں، افضل اور اعلی طریقہ یہ ہے جو یہاں پر لکھا ہے کہ وقف کے ساتھ پڑھا جائے، طریقے دونوں جائز ہیں، اعلی طریقہ ہے کہ ہر آیت پہ جہاں پر وقف ہے وہاں پر وقف کیا جائے۔ حضرت مولانا قنوجی رحمۃ اللہ نے اس موضوع پر اردو زبان میں خاص رسالہ رد الطغیان فی اوقاف القرآن تحریر فرمایا جو نہائے جامع ہے۔ اس قسم کے شریعی تجویدی احکام اور مسائل کو جاننے کے لیے کتاب انتہائی مفید اور کارآمد ہے۔ اب تو خیر بہت ساری مزید نئی کتابیں بھی شاید اس میں لکھی جا چکی ہوں گی تو بہرحال جیسا عرض کیا کہ طریقے دونوں جائز ہیں، افضل یہ ہے کہ ٹھہر ہر آیت پر یعنی الگ الگ ٹھہر ٹھہر کے اس کو پڑھا جائے۔ حدیث نمبر چار، و فی قال حدثنا قطیبہ قال حدثنا الليث عن معاوية بن صالح عن عبد اللہ بن ابي قيس قال سألت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا عن قراءت النبي صلی اللہ علیہ وسلم اكان يسر بالقرأت ام يظهر؟ قالت كل ذلک قد كان يفعل قد كان ربما اسر وربما اظهر فقلت الحمد للہ الذی جعل فی امری سعة۔ عبد اللہ ابن قیس کہتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ آپ علیہ السلام قرآن شریف آہستہ پڑھتے تھے یعنی سری آواز میں یا پکار کر اونچی آواز میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دونوں طرح کا معمول تھا، میں نے کہا الحمد للہ اللہ کا شکر احسان ہے جس نے ہر طرح سہولت عطا فرمائی ہے یعنی یہ جو سوال پوچھنے والے صحابی وہ تھے سائل تھے جو طالب تھے انہوں نے کہا یہ کمنٹ پاس کیا کہ اللہ کا شکر اللہ نے آسانی پیدا فرمائی ہے کہ کبھی انسان کا موڈ ہوتا ہے اونچا پڑھنے کا، کبھی آہستہ پڑھنے کا، یہ نفل کی بات ہو رہی ہے، جماعت کے لیے تو چیزیں متعین ہیں کہ فجر اور مغرب اور عشاء میں اونچی قرات ہوگی، اس کو جاہر بولتے ہیں اور عصر اور مغرب، ظہر اور عصر میں سری ہوگی یعنی خاموش قرات ہوگی، آواز نہیں آئے گی لوگوں کو تو یہ تو طے ہے لیکن عام نفل نماز وغیرہ کے حوالے سے یہ سوال ہے۔ جیسا کہ یہاں لکھا ہے کہ نماز تہجد کے وقت کی تلاوت کے بارے میں انہوں نے یہ سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ کبھی آہستہ پڑھتے ہیں، کبھی بلند۔ اس طرح اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ایک ہی رات میں دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کچھ حصہ آہستہ، کچھ حصہ بلند اور یہ مانا بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی کسی ایک دن بلند پڑھا، کسی ایک دن آہستہ پڑھا۔ بعض اوقات بلند آواز سے تلاوت کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے خاص طور پر وہاں جہاں مقصد دوسروں کو ترغیب دینا ہو یا اس سے تلاوت میں نشاط اور قوت پیدا ہوتی ہو، اپنا دل زیادہ نماز میں لگاؤ، لیکن جہاں کسی کے آرام میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو یا دل میں ریاکاری اور خودنمائی کے کا کا جو ہے وسوسہ آ سکتا ہو تو وہاں پر آہستہ سے تلاوت کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ جو موجود لوگ ہیں ان کی خیال رکھنا ضروری ہے۔ جب دونوں حالتیں یکساں ہوں تو پھر درمیانی آواز یعنی ہلکی بلند آواز سے پڑھنا زیادہ مناسب ہے یعنی اتنا اونچا بھی نہ پڑھا جائے اور بہت آہستہ بھی نہ پڑھا جائے یعنی جب کچھ ہلکے پھلکے لوگ بھی موجود ہیں تو ان کا بھی خیال رکھ لیا جائے۔ اور کسی کو تکلیف بھی نہ دی جائے。 ہم جب مدرسے میں پڑھتے تھے تو ایک ایک کمرے میں آٹھ بچے رہتے تھے، ایک کمرے میں آٹھ بچے سوتے تھے تو اب بعض لوگ اس میں تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو اب اس میں دو معاملات آتے ہیں کہ الارم لگا کے اٹھتے ہیں تو الارم سے وہ بندہ بھی اٹھ جاتا ہے جس نے تہجد کی نیت نہیں کی، اس کی نیند خراب ہو جاتی ہے، اگلے دن اس کا سبق بھی خراب ہو جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اگر جا رہا ہے، دروازہ مار رہا ہے اور اٹھ رہا ہے اور پتہ نہیں کیا وہ اس کی تہجد سے چھ اور چار پانچ اور لوگوں کی نیت خراب ہو رہی ہے تو ایسی تہجد سے تہجد نہ پڑھنا بہتر ہے کیونکہ تہجد تو نفلی نماز ہے جبکہ ایذاے مسلم حرام ہے، مسلمان کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔ یہ بات بڑی اہم ہے، اپنے نفل کے خاطر کسی کو نقصان پہنچا رہا ہوں۔ اونچی تلاوت کروں، کوئی بیمار ہے۔ ہم میں سے کالج میں پڑھتا تھا تو ہمارے علاقے کی مسجد میں کوئی پروگرام ہو رہا تھا، چاہے کوئی گیارہویں شریف تھی یا کیا تھا تو وہ لاؤڈ سپیکر تھے، چل رہے تھے لاؤڈ سپیکر باقاعدہ عشاء کے بعد۔ تو میں باہر نکلا، میں نے والد صاحب سے کہا کہ یہ تو بڑا مطلب مشکل ہے، تیاری بھی نہیں ہو رہی امتحانوں کی، نماز بھی مکمل ہو چکی ہے اب تو یعنی مغرب کے بعد کا وقت ہے، عشاء کا تو کے بعد کا تو ہم گئے تو ایک اور صاحب نکلے، گھر کے بالکل مسجد کے ساتھ تھا، انہوں نے کہا کہ میری تو خالدا سخت بیمار ہیں، بوڑھی ہیں اور ان کی لاؤڈ سپیکر میں تقریر چل رہی ہے۔ تو ہم نے ایک پرچی لکھ کر بھیجی اندر کہ مہربانی کر کے لاؤڈ سپیکر آپ صرف اندر والا آن کر رکھیں، باہر والا جو لاؤڈ سپیکر ہے وہ بند کر دیں، بچے بیمار ہیں، کچھ امتحان کی تیاری ہے، بوڑھے بیمار ہیں۔ تو اچانک لاؤڈ سپیکر میں آواز آئی استغفراللہ استغفراللہ یہ ہمیں روک رہے ہیں اور پھر خیر ہم اندر چلے گئے اور ان سے درخواست کی ہے، تھوڑا احتجاج کیا تو انہوں نے پھر باہر والا لاؤڈ سپیکر بند کر دیا تو لاؤڈ سپیکر کا ایسا استعمال جائز نہیں ہے کہ جس سے اہل علاقہ، اہل محلہ، ان کے آرام میں خلل پیدا ہو، اذان کے لیے آپ کر سکتے ہیں لاؤڈ سپیکر باقی وہاں پر آواز پہنچانا مقصود ہے، جن جو لوگ موقع پر موجود ہیں۔ تو بعض اوقات ہمارے یہاں تو پاکستان ہندوستان اب دیکھتے ہیں کبھی صبح صبح جمعہ کے دن نعت خوانی شروع ہو جاتی ہے کہیں پر کبھی کیا شروع ہو جاتا ہے۔ تو اس سے ایذا ہو، ایذاے مسلم حرام، مسلمان کے لیے اتنا اللہ تعالی نے خیال رکھا ہے، نبی علیہ السلام کے حدیث کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے۔ حضرت ثانوی رحمہ اللہ کو نا کسی نے خط لکھا کہ حضرت! میں اپنی اصلاح کرانا چاہتا ہوں آپ سے، تو اتنی اس کی بری ہینڈ رائٹنگ تھی کہ حضرت! اتنی مشکل سے پڑھا اس کو جواب دیا، پہلے تو اپنی تو خط یعنی ہینڈ رائٹنگ صحیح کرو کیونکہ اس کو پڑھنا خود اذیت اور ایذاے مسلم حرام ہے۔ ایذاے مسلم حرام ہے۔ ہم نے ایک طلباء کو ایک بار ٹیسٹ دیا تو انہوں نے جو جواب لکھ کر دیا آنسر تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کا ہم ٹیسٹ کر رہے ہیں یا آپ ہمیں ٹیسٹ کر رہے ہیں کہ ہینڈ رائٹنگ کیسی ہے تو اسی لیے ان چیزوں میں بھی یعنی انسان کو کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے اور خاص طور پر جب دین کے نام پر ہم دیتے ہیں کہ میں تو بھائی قرآن پڑھ رہا ہوں، آپ اپنا خود دوسرے کمرے میں چلے جائیں، آپ فلانا کر لیں۔ تو اگر آپ عبادت کر رہے ہیں تو آپ اپنے لیے ایسی سیٹنگ کریں کہ دوسرے کسی کو تکلیف نہ ہو، نقصان نہ ہو۔ ایک دفعہ میں ہم کاروبار میں تھے جب والد صاحب کے ساتھ تو وہ ہمارے یہاں جماعت کا اہتمام دکان پر ہی ہوتا تھا، اس سے فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کچھ مزدور بھی پڑھ لیتے تھے ورنہ وہ ڈنڈی مارتے تھے اور دائیں بائیں گاہک آ رہے مارکیٹ میں وہ بھی جماعت لے کر آ جاتے تھے۔ تو ایک دفعہ مغرب کی نماز کا وقت تھا تو ایک صاحب بیٹھے ہوئے ان کا نام کوئی تھا یوسف تھا غالباً۔ تو میں نے ان سے کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا تو چلیں نماز پڑھتے ہیں، جماعت شروع ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا نہیں بھی میں ابھی پتہ نہیں کوئی بحانہ کر دیا تو میں نے ان کو تھوڑا اصرار کیا کہ آئیں نماز ہو رہی ہے تو اصرار میں کرتا رہا تو بعد میں جب ان کا بل بنانے لگے جب نماز کے بعد تو وہ نام پوچھا کہ نہیں یوسف مسیح، یوسف مسیح کرشچن تھا۔ تو ظاہری بات ہے اس کو تم زبردستی نماز میں نہیں لا سکتے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا معمول تہجد کی نماز میں آہستہ آواز سے تلاوت کرنے کا تھا جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ بلند آواز سے تلاوت فرمایا کرتے تھے。 ایک مرتبہ رات کے وقت نبی علیہ السلام ان دونوں کے پاس سے گزرے اور ان کے معمولات کا خود مشاہدہ فرمایا۔ صبح کے وقت جب دونوں حضرات آپ علیہ السلام کی مجلس مبارک میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ السلام نے اس بات کا تذکرہ فرمایا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ جب میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بہت آہستہ آواز میں تلاوت کر رہے تھے، انہوں نے عرض کیا میں جس ذات بابرکت سے مناجات کر رہا تھا وہ تو میری بات بخوبی سن رہا تھا تو اللہ تعالی کو جو ہے وہ تو مجھے اونچی آواز سنانے کی ضرورت نہیں، اللہ تو دلوں کے حال بھی جان لیتا ہے۔ پھر جب حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میرا مقصد غفلت کی نیند سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنا اور شیطان کو بھگانا تھا تاکہ تلاوت میں میری یکسوئی رہے تو حضرت نبی علیہ السلام نے دونوں کے جوابات کو پسند فرمایا اور ان کی تصویب کی، یعنی کہا ٹھیک ہے البتہ پھر فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ آپ تھوڑا سا بلند کر لیں اور حضرت عمر سے کہا تھوڑی سی آہستہ کر لیں، کیا بہترین اعتدال کا سبق سکھایا، کیا بہترین اعتدال کا سبق سنا۔ اچھا اب اس میں بھی دیکھیں یہ نہیں کیا کہ وہیں پہ نماز پڑھنے ہیں چلتے ہوئے کہہ دیا تم آہستہ پڑھو، تم اونچی پڑھو، بعض اوقات یہ بھی کرتے ہیں، گھر میں نماز پڑھ رہا ہے کوئی اور ہم اپنا پیغام بھی پہنچا دیتے ہیں، اچھا بھائی میں وہ نماز پڑھ رہا ہے اس کو کہہ دیں یار نماز پڑھ کے نا لائٹ بند کر آنا، یار وہ نماز پڑھے یا آپ کی بات سنے۔ تو اس طرح کے مختلف کام بعض اوقات ہم کر لیتے ہیں، تو دیکھیں کس طرح نماز مکمل ہو گئی، اس کے بعد اگلے دن صبح یعنی جب فجر آ گئی تو اس کے بعد دونوں سے کہا کہ میں نے اس طرح کیا، آپ کی وجہ کیا تھی؟ پہلے ان سے وجہ بھی پوچھی، کیا خوبصورت بات ہے اس میں تربیت کے ادوار سے کہ ڈائریکٹ اپنی بات نہیں کی، پہلے وجہ پوچھی، آپ کیوں اونچا پڑھ رہے تھے؟ آپ کیوں آہستہ پڑھ رہے تھے؟ اس وجہ کے بعد پھر بتا دیا کہ اس کی اس میں بہتری کیسے لے آئیں۔ ہم بعض اوقات کیا کرتے ہیں کہ وجہ جانے بغیر ڈائریکٹ اوپن فائر شروع کر دیتے ہیں، تو بعض اوقات ہمیں معلوم بھی نہیں ہو سکتا اگلے بندے کے پیچھے کوئی اور اس کی وجہ ہو یا کوئی یوسف مسیح ہو، تو اسی لیے اس حوالے سے تھوڑا معلومات پہلے کر لینا بہتر ہے البتہ اس میں تھوڑا صبر چاہیے کیونکہ اس میں تھوڑا سا ٹائم زیادہ لگتا ہے۔ تو ہمارے ساتھ ایک طالب علم پڑھ رہا تھا، اس نے قرآن کا ایگزام دیا تو وہ ترجمہ کا، تو وہ اس نے بالکل ہی سمجھ نہیں قرآن میں یعنی ترجمہ لکھا ہی کچھ نہیں نا تقریباً زیرو اور جو لکھا وہ کیڑے مارے ہوئے تھے تو سمجھ نہیں آیا یار بچہ تو ایسا نہیں ہے ذہن بھی ہے، اس کو میں نے بلایا بھئی کیا ہوا؟ کہتا ہے میں تو ڈسلیکسیا کا مریض ہوں، مجھے ڈسلیکسیا ہے، مجھے تو حروف نظر ہی نہیں آتے، صحیح طریقے سے مکس ہو جاتے ہیں نا یعنی اور ڈسلیکسیا وہ مرض ہوتا ہے جس میں حروف کی پہچان میں مشکل ہوتی ہے۔ تو میں نے کہا اللہ کے بندے آپ مجھے سال پہلے بتاتے، اتنے عرصے سے پڑھ رہے ہو تو میں آپ کو question paper بڑا بنا کے دے دیتا، font size بڑا کر دیتا، پورے سال آپ کی ہم help کرتے، تو اس نے ڈر سے بتایا کوئی نہیں اور جب امتحان آیا تو اس میں اس نے کچھ کیا نہیں، میں نے اس سے کہا آپ نے اپنی والدہ کو بتایا ہوا ہے؟ کہتا ہے نہیں ان کو بھی ڈر سے نہیں بتایا وہ میری بات نہیں مانیں گے。 diagnose تھا ڈاکٹر نے اسے بتایا ہوا تھا۔ تو اس کو بہرحال ہم نے پھر الگ سے قاری صاحب لگا کے دیے کہ آپ اپنی تجوید پر محنت کریں، انگلش اس نے بہتر کر لی تھی محنت کر کے لیکن قرآن میں سے مسئلہ آ رہا تھا، تو مقصد یہ کہ اب یہ مسئلہ نہ پتا ہو اور ڈائریکٹ میں اس کو fail بھی کر دوں اور اعلان بھی کر دوں اس کا، تو پہلے کیسے خوبصورت انداز سے پہلے آپ نے استاد صاحب نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اسی طرح کی مثال کے طور پر کوئی بچہ کہیں late آ رہا ہے، نماز میں دیر کر دی، بھئی کیوں دیر کر دی؟ پہلے وجہ پوچھ لیں اور پھر اس کے بعد جو ہے وہ بات کر لیں، ہم میں سے اکثر لوگ جو زندگی میں پہلی تو جھوٹ بولتے ہیں وہ اپنی عزت نفس کو بچانے کے لیے بولتے ہیں، خوف کے ماحول میں بولتے ہیں، تو اسی لیے اس میں کیسے relax کر کے نبی ﷺ نے پوچھا اور پھر کس خوبصورتی سے اس میں اصلاح فرمائی یہ سیکھنے کا کی چیز ہے۔ اچھا یہاں پر ایک بڑی زبردست ایک نکتہ ہے مولانا سید احمد پالنپوری رحم اللہ ان کا میں ایک بیان سن رہا تھا، دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے حال ہی میں ان کا انتقال ہوا، تو وہ کہتے ہیں کہ حجة الله البالغة ایک بڑی مشہور کتاب ہے شاہ ولی اللہ رحم اللہ کی، جس میں انہوں نے اس زمانے میں یعنی آج سے شاہ ولی اللہ کا ٹائم وہ تھا کہ جس زمانے میں marxism پھیل رہا تھا انہوں نے اس زمانے میں بہترین کتابیں لکھیں Economics پر اور مسلمانوں کی Economics پر اور اسی طریقے سے شاہ ولی اللہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ قرآن کا ترجمہ کیا، کسی بھی non Arabic language میں پوری پورا قرآن کا ترجمہ پہلی دفعہ جس ہستی نے کیا وہ حضرت شاہ ولی اللہ ہیں رحم اللہ۔ کافی انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا اس دور میں، پھر ان کے بیٹے نے اردو میں پہلی دفعہ قرآن کا ترجمہ کیا۔ تو شاہ ولی اللہ رحم اللہ نے ایک اور کام یہ کیا کہ انہوں نے ایک کتاب لکھی حجة الله البالغة جس میں دین کے مسائل کی جو عقلی کچھ وہ جو اس کے پیچھے وجوہات ہیں وہ بیان کی، گو کہ اصول تو یہ ہے کہ دین کے مسئلے پر عمل کرنے کے لیے ہمیں اس کا انتظار نہیں کرنا کہ یہ سمجھ میں آئے تو کروں گا۔ بھئی ظہر کی نماز میں چار رکعتیں کیوں ہیں دو کیوں نہیں ہیں جب تک سمجھ نہیں آئے گی میں نہیں پڑھوں گا، یہ اس کا کوئی یہ بالکل صحیح طرح سے عمل نہیں ہے۔ البتہ جہاں پر جن احکامات کی ویسی تفصیل جاننے کا انسان کو ذوق و شوق ہوتا ہے کہ اس کا اس سے اس کے عمل پر اس سے اثر انداز نہیں ہو اثر نہیں پڑے گا کہ اگر مجھے نہ بھی سمجھے میں پھر بھی عمل کروں گا، لیکن میں پھر بھی جاننا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے کہا کہ آپ کیسے بندے زندہ کر دیں گے مرنے کے بعد، تو انہوں نے کہا اللہ نے فرمایا کہ کیا یقین نہیں ہے کہا یقین تو ہے لیکن اطمینان قلب کے لیے، قرآن میں واقعہ موجود ہے۔ تو بہرحال یہ کتاب بہت کمال کی ہے، تو حضرت نے لکھا کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اچھا یہ کتاب ہمارے علاقے میں جو زبردست طریقے سے پڑھاتے ہیں علماء کو پڑھائی جاتی ہے عربی میں، وہ شیخ امین پڑھاتے ہیں حفظہ اللہ وہ ان کا حجة الله کا درس مشہور ہے، علماء جا کر ان سے پڑھتے ہیں، تو حجة الله پڑھانے والے بھی لوگ کم ہی ہیں دنیا میں اس درجے کی کتاب ہے۔ امت مسلمہ میں علماء کہتے ہیں کہ اس سے اس جیسی کتاب نہ سے پہلے لکھی گئی نہ اس سے بعد لکھی گئی ہے۔ اس درجے کمال کی کتاب ہے حجة الله البالغة۔ تو اس میں حضرت نے مولانا سید احمد نے کہا کہ اس کو پڑھنے پڑھانے کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ مزاج بن جاتا ہے کہ دین کی جو حکمتیں ہیں وہ سمجھ آنے لگ جاتی ہیں، کہتے ہیں ایک دفعہ میں انگلینڈ میں تھا تو کسی نے میرے سے پوچھا کہ مجھے بتائیں کہ ظہر اور عصر کی نماز میں ظہری قرات کیوں نہیں ہے؟ اس کی حکمت کیا ہے اور فجر، عصر، عشاء اور مغرب میں ظہری قرات کیوں ہیں؟ تو حضرت نے کہا کہ اس حجة الله سے جو میرا مزاج بن گیا تھا تو اس کے ذہن میں میری بات آ گئی اللہ کی طرف سے، تو میں نے ان سے کہا بات یہ ہے کہ ظہر کے وقت اور عصر کے وقت عموماً انسان کام کاج کر رہا ہوتا ہے اور کام کے بیچ میں چھٹی کر کے ایک break لے کے نماز پڑھتا ہے، تو اس کی طبیعت میں عموماً اتنا نشاط ہوتا ہی نہیں ہے کہ اونچا کچھ پڑھے۔ انہوں نے اس کی پھر ایک دلیل دی انہوں نے کہا کہ آپ کسی سے آپ نے محبت کی باتیں کرنی ہوں تو آپ دن کا وقت چنتے ہیں یا رات کا وقت چنتے ہیں؟ آپ رات کا وقت چنتے ہیں، کیونکہ دن میں اور ذہن بھی مشغول ہوتا ہے اور بھی چیزیں ہوتی ہیں، تو کہا یہ اللہ نماز تو اللہ سے باتیں ہیں، تو اس کے لیے دن کا جو وقت ہے اس میں انسان کو عموماً اتنا نشاط بھی نہیں ہوتا کہ اونچا پڑھے یا زیادہ تلاوت کرے تو اسی لیے اس میں صری قرات ہے اور فجر، عصر، مغرب اور عشاء میں معاملہ دوسرا ہے۔ تو پھر اس نے کہا کہ جمعہ اور عید کے بارے میں پھر کیا ہے وہ تو دن کے وقت ہوتی ہیں، تو حضرت نے فرمایا کہ اگر کسی کی شادی جمعہ کو ہو رہی ہو یا دن کے وقت ہو رہی ہو کسی کی برات، تو اس دن تو وہ special تیار ہوتے ہیں نا دن کو پورا protocol اختیار کرتے ہیں۔ کہ آج میرا ولیمہ ہے وہ دن کو ہی تیار ہوتا ہے۔ ابھی عصر میں ہوتے ہیں نیا لوگوں کے نکاح تو دن میں ہی تیار ہوتے ہیں وہ۔ تو کہا اسی طرح دیکھیں جمعہ میں اللہ نے بتا دیا مصنون غسل بھی کرنا ہے، پوری تیاری کر کے آنی ہے تو اس سے پہلے جو جمعہ کے عید کے جو پورے پروٹوکول ہیں مصنون اس کے نتیجے میں ایک نشاط آ جاتا ہے۔ کیونکہ آپ غسل بھی کر رہے ہیں، نیا لباس بھی پہن رہے ہیں، خوشبو بھی لگا رہے ہیں، ناخن بھی کاٹ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک اضافی کام کرنے کے ساتھ وہ نشاط آ جاتا ہے اس لیے اس میں ظہری قرات ہے۔ جبکہ باقی نمازوں میں سیدھی ورنہ دوپہر کے وقت سیدھی قرات ہے۔ بہرحال یہ تو ایک حکمت کی اضافی بات تھی جو عرض کر دی。 حدیث نمبر پانچ میں بھی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا وکیع قال حدثنا مسعر نا نبیل اعلی ابن عبدی ان یحیی ابن جعدت عن ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا قالت کنت اسمع قرات النبي صلى الله عليه وسلم بالليل وانا علی عریشی ام ہانی فرماتی ہیں رضی اللہ تعالی عنہا کہ میں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں قرآن شریف پڑھتے تھے اور میں ان کے پڑھنے کی آواز رات کو اپنے گھر کی چھت پر سے سنا کرتی تھی۔ یہ مکہ کے دور کا واقعہ ہے。 حضرت ام ہانی کے بارے میں ہم نے پچھلے کسی درس میں پڑھا تھا کہ وہ مدینہ میں جا کے یعنی فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئیں، جبکہ یہ مکی دور کا واقعہ ہے۔ تو مسلمان تو مکہ میں ہیں لیکن فتح مکہ کے موقع پر تو اس وقت مسلمان نہیں تھیں لیکن فرما رہی ہیں کہ میں اپنے گھر میں سنتی تھی قرآن تو ان کا گھر چونکہ بہت قریب تھا حرم سے کتنا قریب تھا اس کو آپ پڑھ لیں یہاں پہ کہ ان کا مکان رکن یمانی کے قریب ہی واقع تھا یعنی کعبہ کے جو چار کونے ان میں سے حجرا اسود سے جو پچھلا کونہ آتا ہے پہلے وہ رکن یمانی ہے تو اس کے بالکل قریب گھر تھا۔ آج تو بہت بڑا صحن ہو گیا، زمانے میں تو گھر لوگوں کے بالکل قریب قریب تھے تو ان کا گھر بالکل قریب تھا، اسی لیے آپ دیکھیں نا فتح مکہ کے موقع پر بھی کیوں ان کے گھر کا یہ فرمان ہے کہ گھر بالکل ساتھ تھا، گویا آج کے دور کا جو مطاف ہے اس کے اندر ہی گھر تھا۔ تو کہا وہ پڑھتے تھے کعبہ کے سامنے قرآن اور مجھے اپنے چھت پر آواز آتی تھی۔ ایک وجہ تو اس کی یہ بھی ہے مطلب یہ ہے نا کہ اتنی بلند آواز میں پڑھتے تھے کہ ساتھ آواز آ جاتی تھی مجھے اور رات کے وقت ویسی خاموشی ہوتی اور نبی علیہ السلام کیوں اونچا پڑھتے تھے؟ اس میں تو قرآن کا ایک مقصود یہ بھی تھا کہ کفار سنیں اور قرآن اس طریقے سے کفار کے کانوں میں پڑھتا تھا کئی دفعہ اور بعض لوگوں نے واقعتاً سن سن چھپ چھپ کر سنا اور اس طریقے سے بھی ان کا دل اسلام کی طرف آیا۔ حدیث نمبر چھ، و بھی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا ابو داؤد قال حدثنا شعبہ عن معاویہ بن قرہ عن قال سمعت عبداللہ ابن مغفل يقول رايت النبي صلى الله عليه وسلم علی ناقته يوم الفتح وهو یقرأ "انا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر" قال فقرأ قرأ ورجع قال وقال معاویہ بن قرہ لولا ان يجتمی الناس علی لاخذت لکم في ذلك الصوت وقال اللحن عبداللہ ابن مغفل فرماتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ میں نے آپ علیہ السلام کو فتح مکہ کے دن اس سورہ فتح کی آیت پڑھتے ہوئے دیکھا "انا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر" اور آپ علیہ السلام ترجیع کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ ترجیع کیا ہوتا ہے اس کو بھی سمجھاتا ہوں میں。 معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کے جمع ہونے کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ میری بات میں جیسے پڑھوں گا تو اکٹھے ہو جائیں گے تو میں اس طرح پڑھ کے آپ کو دکھاتا۔ ترجیع کا لفظ ہوتا ہے رجوع سے "انا لله وانا الیہ راجعون" میں بھی یہ لفظ آتا ہے لوٹنا، بار بار لوٹانا تو اس سے مراد یہ ہے، ایک روایت میں تو اس کی مراد یہ لی گئی ہے کہ یعنی مد کی جو آواز ہے وہ حلق میں گونج رہی تھی آ آ آ نا یعنی وہ repeat ہو رہا تھا تو علماء نے اس کا ایک مطلب یہ نکالا ہے جو کہ حضرت مولانا زکریا صاحب کے والد صاحب نے نکالا ہے۔ یہاں لکھا ہوا ہے تفصیل سے کہ وہ چونکہ اونٹنی پہ سوار تھے اور جب "انا فتحنا" الف آتا تھا اور اونٹنی پہ سوار ہوتے بندے جھٹکے لگ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ میں سے کسی نے تجربہ کیا اونٹ پہ سوار ہونے کا تو جھٹکا لگنے کی وجہ سے وہ لگ رہا تھا جیسے الف کی آواز لوٹ کر بار بار آ رہی ہے۔ انا تو اسی لیے انہوں نے کہا کہ اگر میں لوگوں کے سامنے سنوں گا، لوگ کہیں گے یار کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا اس ڈر سے کہ لوگ جمع نہ ہو جائیں تو میں آپ کو پڑھ کے سنا بھی نہیں رہا۔ تو یہ ایک معنی مولانا زکریا صاحب کے والد مولانا یحییٰ صاحب نے اس سے نکالا ہے کہ یہاں ترجیع سے مراد یہ ہے۔ ترجیع کا ایک اور معنی یہ ہے کہ ایک چیز کو بار بار پڑھنا یعنی ایک ہی آیت کو۔ کیونکہ خوشی کا موقع تھا، اللہ تعالی نے فتح نصیب فرمائی تھی تو اس وعدے کو بار بار یاد کر رہے تھے اور repeat کر کر کے آیات میں پڑھ رہے تھے تو یہ اس کا دوسرا معنی ہے۔ حدیث نمبر سات، و بھی قال حدثنا قطیبہ بن سعید قال حدثنا نحح بن قیس الاحدانی عن حساب بن مسکین عن قتادہ قال ما بعث اللہ نبیا الا حسن الوجه حسن الصوت وكان نبيکم صلى الله عليه وسلم حسن الوجه حسن الصوت وكان لا یرجع قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر نبی کو حسین صورت اور حسین آواز والا مبعوث فرمایا ہے اور اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسین صورت اور خوبصورت آواز والے تھے، آپ علیہ السلام قرآن شریف گانے والوں کی طرح آواز بنا کر نہیں پڑھتے تھے یعنی یہاں پر اس ترجیع کی مخالفت کی یعنی وہاں کیا ہے کہ گانے والے جیسا سور اضافی لگاتے ہیں تکلف کے ساتھ اس طرح نہیں پڑھتے تھے جہاں اس سے مراد یہ ہے۔ تو بظاہر پچھلی اور اس حدیث میں ایک تضاد معلوم ہو رہا ہے لیکن اس کی تشریح جیسا کہ مولانا زکریا صاحب کے والد صاحب نے کی ہے تو وہ اگر لے لیں تو اس میں کوئی بظاہر تضاد معلوم نہیں ہوگا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ فطری اور قدرتی طور پر خوبصورت اور خوش الالہا آواز سے تلاوت کرنا مستحب اور پسندیدہ ہے اور ممانعت یا نفی کا تعلق تکلف کے ساتھ یعنی مصنوعی بناوٹ کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کر رہا ہے تو وہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قرآن میں تدبر و غور و فکر کرنا ہے مقصود ہے اور وہ جب انسان تکلف میں جاتا ہے تو وہ حاصل نہیں ہوتا۔ آخری حدیث، و بھی قال حدثنا عبداللہ بن عبد الرحمن قال حدثنا یحیی بن حسن قال حدثنا عبد الرحمن بن ابی زناد الزناد عن امر بن ابی عمرو عن اقرم عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما قال كانت قراءۃ النبي صلى الله عليه وسلم ربما يسمعها من في الحجرة وهو في البيت ابن عباس فرماتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی آواز صرف اس قدر بلند ہوتی تھی کہ آپ گھر کی کوٹھڑی میں پڑھتے تو صحن والے سن لیتے تھے۔ گھر چھوٹے سے تھے۔ یعنی اس مسجد کے ہال کا بھی میرے خیال سے ایک چوتھائی بھی اگر کریں تو اس سے بھی چھوٹا شاید گھر ہو تو اس گھر میں فرما رہے ہیں کہ اگر وہ صحن میں اندر پڑھتے تھے تو باہر جو صحن کا علاقہ تھا، اس میں آواز آ جاتی تھی، وہ بھی بیت بنا دی، جو کمرہ اندر کا اور حجرا جو باہر صحن سا بنا ہوتا ہے تو تھوڑا سا نہیں اتنا اونچا پڑھتے تھے تو خلاصہ اس کا یہ کہ انسان جب گھر میں نماز پڑھتا ہے تو اس کو کوشش کرنی چاہیے اگر کوئی سو نہیں رہا تو اگر اونچی آواز میں پڑھ لے تاکہ اپنا نشاط باقی رہے اور دھیان باقی رہے تو بالکل اچھی بات ہے.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ وسلم على رسولہ کریم اما بعد۔ فقد قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ورفعنا لك ذكرک صدق اللہ العظيم۔ اللهم رب اشرح لی صدری ويسر لي امری واحلل عقدة من لسانی يفقهوا قولی۔ الحمد للہ شمائل محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروس کے سلسلے میں آج ہم Chapter Number Forty Four چوتالیسواں جو باب ہے وہ ہم پڑھیں گے اور اس سے پہلے جو ہم نے پچھلا ہفتہ تھا اس میں اکتالیس اور بیالیس پڑھا تھا تو سوال یہ ہے کہ ترتالیس نمبر Forty Three نمبر کہاں چلا گیا؟ اگر کسی کو یاد ہے تو رمضان سے پہلے ہم نے پڑھا تھا وہ تھا روزے کے حوالے سے اسی لیے کتابیں جو لوگ نہیں لاتے تو ان کو تو یاد ہی نہیں ہے۔ ان کے پاس چونکہ ماشاءاللہ کتاب ہوتی ہے تو انہیں نظر آ گیا کہ باب ما جاء فی صوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے رمضان سے پہلے پڑھ لیا تھا تاکہ وہ مناسبت اس وقت زیادہ ہو رہی تھی تو وہ مکمل ہو چکا تو آج ہم اس سے اگلا باب جو ہے وہ پڑھیں گے。باب ما جاء فی قراءت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض نسخوں میں ہے۔باب ما جاء فی صفة قراءت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی نبی علیہ الصلاة والسلام کس انداز سے قراءت فرماتے تھے، قرآن پڑھتے تھے، اس کے حوالے سے امام ترمذی نے اس Chapter میں اس باب میں آٹھ حدیثیں نقل کی ہیں۔ اب قراءت ایسی چیز ہے کہ ہر مسلمان کو کرنی پڑتی ہے کیونکہ نماز فرض ہے جب نماز فرض ہے مرد اور عورت پر تو نماز میں قرآن بھی پڑھنا ہے اور جب قرآن پڑھنا ہے تو قراءت کرنی ہے تو یعنی یہ ایسی چیز ہے جو ہر کسی کے ساتھ متعلق ہے اور کسی کو جو ہے وہ اس میں دلچسپی لینی چاہیے کہ نبی علیہ الصلاة والسلام کا قراءت کا طریقہ کیا تھا؟ مسنون انداز میں ہم نماز کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ قرآن کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ اور سنت کی ایسی عجیب برکت ہوتی ہے کہ کوئی بھی کام جب مسنون انداز سے کیا جاتا ہے تو اس میں دل میں خاص حلاوت محسوس ہوتی ہے، اس عمل کو کرنے کے بعد یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ بار بار پھر انسان کا دل چاہتا ہے سکون حاصل ہوتا ہے تو یہ حال قراءت کا بھی ہے چاہے بندہ نماز میں قراءت جو قرآن پڑھ رہا ہے اس کی بات ہو یا نماز سے باہر تلاوت کر رہی ہو اگر اس میں مسنون انداز سے تلاوت نہ کی جائے یہ بعض مرتبہ تو ایسا ہو جاتا ہے کہ انسان مسنون نہیں بھی کر رہا ہے لیکن ایک جائز صورت ہے وہ کر رہا ہے تب بھی ٹھیک ہے لیکن اگر وہ مکروہ کی طرف چلا جاتا ہے یعنی اس انداز سے تلاوت کرتا ہے کہ باقاعدہ اس میں غلطیاں ہوتی ہیں تو دل پر ایک بوجھ باقی رہتا ہے، عبادت کرنے کے باوجود بھی ایک بوجھ باقی رہتا ہے کیونکہ غلطی ہو رہی ہے، اس کو صحیح انداز سے ادا نہیں کیا جا رہا تو اس حوالے سے ہمیں نہ صرف یہ کہ یہ شوق ہو کہ ہمارے بچے حافظ بنیں بلکہ اپنی قراءت بھی ٹھیک کرنے کا جو ہے وہ جذبہ ہونا چاہیے اور اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہونی چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قید ہے ہی نہیں اس میں عمر کی صحابہ نے تو بڑی عمر میں قرآن سیکھا صحابہ جو ایمان لاتے جا رہے تھے اس وقت تو اکثر بڑی عمر کے تھے تو وہ تو بڑی عمر میں سیکھ رہے تھے تو اس میں ہمیں کیا اس میں مزائقہ ہے؟ اس میں کیا شرم کی بات ہے کہ اگر کوئی بڑی عمر کا ہے اور قراءت سیکھ رہا ہے تو اس میں ہمیں شرم نہیں کرنی چاہیے اور اب تو بہت آسانی ہو گئی، آن لائن اتنی سہولتیں مل گئی ہیں قراءت کو تجوید کو بہتر کرنے کے لیے آن سائٹ بھی لوگ مل جاتے ہیں تو اس حوالے سے اس میں کوشش کرنی چاہیے کہ انسان اپنی قراءت جو ہے وہ ٹھیک کرے اور وقتاً فوقتاً اس کو چیک بھی کراتا رہے قراء حضرات کو کہ میں کیا ٹھیک پڑھ رہا ہوں کہ نہیں؟ تو اس باب میں نبی علیہ الصلاة والسلام کی قراءت کے احوال ہیں کہ رک رک کے ٹھہر ٹھہر کے پڑھتے تھے یا ملا کر پڑھتے تھے، اونچا پڑھتے تھے یا آہستہ پڑھتے تھے کس انداز میں تلاوت ہوتی تھی تو اس حوالے سے کچھ روایت موجود ہیں یعنی آیا وہ ترتیل کے ساتھ ترتیل سے مراد واضح صاف اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور یا اور تجوید یعنی تلفظ اور ادائیگی کے جو قواعد ہیں اس کو صحیح انداز سے جو ہے وہ پڑھنا اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ تلفظ اور ادائیگی سے مراد ہے کہ حروف کو کیسے ادا کیا جا رہا ہے، خا موٹا پڑھنا ہے یا جو ہے وہ ہلکا پڑھنا ہے، قاف موٹی ہے یا پتلی ہے کس انداز سے پڑھنا یہ تلفظ آ گیا اور جو باقی ادائیگی کے قواعد ہیں کہاں پر رکنا ہے، کہاں پر ٹھہرنا ہے، کہاں پر لمبا کرنا ہے، کہاں پر ملانا ہے یہ ساری چیزیں ہمارے ہاں الحمد للہ دارالسلام میں جو weekend کے تفہیم course ہوتا ہے اس میں بھی میرا خیال ہے ہر سال میں ایک دفعہ یہ تجوید کا بھی ایک course Saturday کو پڑھایا جاتا ہے جس میں فن ایک تو ہے کہ قرآن پڑھنا ہے ایک اس کے اصول پڑھنا تجوید کے اصول ہے چھوٹی سی کتاب ہوتی ہے تو وہ اگر کسی نے کبھی نہیں پڑھی تو باقاعدہ یہ اچھا طریقہ ہے کہ Saturday Sundays میں سے ایک دن نکال کر تین چار مہینے کی ایک class ہوتی ہے یعنی پندرہ سولہ ہفتے ہوتے ہیں Saturday یعنی پندرہ سولہ دن یا بیس دن بہت ہوتا ہے دو گی تیس دن ہو جائیں گے تو وہ کم سے کم ایک دفعہ اس سے گزر جانا چاہیے کیونکہ قرآن تو قرآن کی بنیادی تجوید سیکھنا ہر انسان پر فرض ہے، حفظ کرنا فرض نہیں ہے، چند سورتیں یاد ہو جائیں ٹھیک ہے لیکن تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا آتا ہو یہ تو فرض ہے اور ہمارے یہاں دیسی ماحول میں خاص طور پر بہت سے گھروں میں پاکستان ہندوستان میں رواج ہوتا تھا کہ خواتین ہی کوئی پڑھاتی تھیں قرآن یا محلے کی کوئی خاتون ہے وہ قارئہ ہے بھی کہ نہیں پھر پنجابی style میں کہیں قرآن چل رہا ہے کہیں کسی style میں چل رہا ہے تو اس سے بہت سارے اور بعض لوگ تو دیکھ کے بتا دیتے ہیں کہ یہ لگتا ہے کہ آپ نے کسی باقاعدہ سند یافتہ استاد یا استاذہ سے نہیں پڑھا بلکہ کسی محلے کی aunty سے پڑھا کہ اس طرح کی جو ہے وہ غلطیاں بعض اوقات ہو رہی ہوتی ہیں تو اس میں آ سیکھنا چاہیے اور ویسے ہی مسلمان کی تو شان یہ ہے کہ وہ کبھی علم سے بیزار نہیں ہوتا۔ وہ علم سیکھتا ہی رہتا ہے قبر تک تو اس لیے یہ ایسی چیز ہے کہ اس میں انشاء اللہ ہمیں خیال رکھنا چاہیے اور ہماری ایک خوش قسمتی ہے ما شاء اللہ کہ ادھر ہمارے علاقے میں مسجد میں قرات کا ایسا ڈیپارٹمنٹ قائم ہے مدرسے میں کہ جس کے نتیجے میں نئے نوجوان ایسے بہترین قاری تیار ہو رہے ہیں کہ کسی کو بھی آپ جا کر درخواست کر سکتے ہیں کہ میری ذرا تجوید چیک کر لیں اور مجھے اس میں مدد دے دیں۔ بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ ہماری نا سامنے ایک ایگو آ جاتی ہے وہ یہ کہ اگر میری بچی نے یا میرے بیٹے نے بیٹی نے قرآن حفظ کر لیا یا پوتا پوتی نے کر لیا اور ما شاء اللہ وہ قرآن میرے سے اچھا پڑھتی ہیں تو کیا میں ان کے سامنے بیٹھ کر کبھی کہوں گا کہ مجھے میرا بھی سن لو تو کرنا چاہیے؟ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے ساتھی اس مسجد کے نمازی ہیں، ان کی بچیاں یہاں حفظ کر رہی ہیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں کبھی کبھی اور کہتا ہوں کہ میری غلطیاں نکالو تو میں نے کہا بہت خوشی کی بات ہے کہ تو آپ ایسا کرتے ہیں کہ بس ایک چیز میں وہ بات جیسے ہم ان سے یہ پوچھتے ہیں نا کہ مجھے کمپیوٹر نہیں آتا صحیح بھائی میں ذرا پرانا آدمی ہوں، ذرا میرا کمپیوٹر ہی سیٹ کر دو، میرا فیس بک آئی ڈی بنا دو تو اس میں تو ہمیں نہیں شرم آتی اتنی تو قرآن میں کیوں آتی ہے؟ تو یہ تو بلکہ خوشی کی بات ہے کہ اللہ نے توفیق دی آپ کا بچہ آپ کی اولاد میں سے کوئی قرآن کا ماہر بن گیا تو اس سے مزہ لیں، اس کا فائدہ اٹھائیں۔ دوبارہ یہ تو ہو گئی اس کی ترغیبی بات。 حدیث نمبر ایک و بسند المقتصر منا الی امام الترمذی قال حدثنا قطیبہ بن سعید قال حدثنا الليث عن ابن ابي مليكة عن یعل یعل بن مملک انه سأل ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا عن قراءۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذا هي تنعت قراءۃ مفسرة حرفا حرفا。 یعل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا جو کہ امہات المومنین میں سے ہماری ایک ماں ہیں، ان سے پوچھا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی قرات کی کیفیت کیا تھی؟ تو انہوں نے ایک ایک حرف علیحدہ علیحدہ صاف صاف کیفیت بتائی۔ مفسرة تن کا مطلب ہے مفسرة تن کہ تفسیر اس کی یعنی اس کو بہت واضح کر کے بتایا کہ کیسے پڑھتے تھے تو یہ تنعت تنعت یعنی اس کو بتا اس اس کو اس کی کیفیت بتائی جو نعت ہے نا نعت اردو میں بھی ہم نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں نعت کس کو کہتے ہیں؟ تعریف کو صفت بیان کرنے کو۔ تو ہمارے یہاں بعض اوقات لوگ اس کو بھی مکس کر دیتے ہیں کہ بھائی میں نعت پڑھوں گا اور آگے حمد پڑھ دیتے ہیں یا کوئی اور علامہ اقبال کی نظم پڑھ دیتے ہیں تو نعت کا مطلب ہے جس میں تا تعریف کی جائے اور اصطلاحا حمد کا لفظ حمد بھی تعریف کو کہتے ہیں。 حمد کا لفظ استعمال ہوتا ہے اللہ تعالی کی تعریف کے لیے جس نشید میں جس شعری مجموعے میں جس شاعرانہ کلام میں اللہ کی تعریف بیان کی جائے اس کو حمد کہتے ہیں جس میں نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی بیان کی جائے اس کو نعت کہا جاتا ہے۔ تو تنعت تو انہوں نے صفت بیان کی قرات قرات کی مفسرة تن تفصیل کے ساتھ حرف عن حرف ایک ایک حرف کا کو واضح بتایا۔ اب علماء نے اس کے جو معنی لیے وہ یہ کہ ایک بات تو اس کا معنی یہ ہوا کہ ہر حرف کو اور لفظ کو الگ الگ پڑھتے تھے، پڑھتے تھے یعنی لفظ کھاتے نہیں تھے، مکس نہیں ہوتے تھے بیچ میں دوسرا یہ کہ اس اس کے مراد یہ کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس کیفیت کو لفظی طور پر بیان فرمایا کہ اس انداز میں آہستہ آہستہ آرام آرام سے پڑھتے تھے اور دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ خود تلاوت کر کے شاید دکھائی ہو ایک ایک حرف جیسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام پڑھتے تھے ویسے ہی پڑھ کر اس کو دکھایا دونوں معنی سے لیے جا سکتے ہیں۔ ہیں تو یہ لکھا ہے یہاں پہ بھی کہ دوسری تشریح زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے خود پڑھ پڑھ کے جیسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام پڑھتے تھے اس انداز میں پڑھ کر آگے بیان فرمایا۔ اب کیا خوبصورت مجالسیں ہوتی تھیں صحابہ کی اور تابعین کی کہ وہ بیٹھ رہے ہیں تو کیا پوچھ رہے ہیں کہ ہاں بھئی حضور کی کوئی بات ہمیں بھی بتا دو اور ان کی کوئی بات اب کیا یہ جو حضرات ہیں خود طلباء ہیں اور استاد جو ہیں یا استانی جو ہے وہ دیکھ کیا ان کا اعلی مقام ہے لیکن جب بیٹھتے ہیں ہم پورے شمائل میں یہ تو دیکھ رہے ہیں پوری شمائل کتاب ابھی آخر کے قریب پہنچے ہوئے ہیں اختتام کے قریب کہ صحابہ بیٹھتے ہیں ایک دوسرے سے یہی پوچھ رہے ہیں کہ حضور کی وہ ادا مجھے بتا دو، یہ ادا مجھے بتا دو، فلانا کام کیسے کرتے تھے، یہ کیسے کرتے تھے؟ یہ وہ تذکرے تھے جو اس ماحول میں زندہ تھے。 ظاہری بات ہے نبوی دور قریب بھی تھا اور یہ وہ تذکرے جو ہمارے یہاں فوت ہو گئے ان تذکروں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے اندر، ہمارے نوجوانوں کے اندر وہ رمق پیدا ہو محبت اور عشق کی کیفیت پیدا ہو جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا حق ہے ہم پر کہ وہ ابھی مسئلہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے اندر وہ تعظیم ہی پیدا نہیں ہو پا رہی۔ یہ انتہائی مشکل کام ہے ان کو اسلامک اسٹڈیز پڑھا دینا آسان کام ہے لیکن وہ دل میں تعظیم پیدا کرنا وہ مشکل ہو گیا کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی، اللہ کے نبی کی ایسی عظمت دل میں پیدا ہو جائے کہ پھر ہر کام اس کے مطابق ہو۔ تو یہ تذکروں سے ہوتا ہے تو اس طریقے سے ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو عام کریں اور اپنا اپنا ماحول بنائیں جن ہم گیدرنگز میں بیٹھے ہیں اور جن جس موقع پر ہوں تو اس میں کوئی نہ کوئی حصہ ایسا ضرور ہو کہ جس میں ہم کوئی ایسی تعلیم کر لیں، کچھ اس کا ذکر ہو جائے، بعض سنتوں کا ذکر ہو جائے۔ اسی لیے جماعت میں وقت لگانے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سارے آ جو مشرووع اعمال ہیں ان کی انسان پریکٹس کر لیتا ہے وہ وہ تعلیم کا ایک حصہ ہوتے ہیں بھائی سونے سے پہلے کہ جاگنے سے جاگنے کے بعد کہ کھانا کھانے کے مذاکرہ وہ چلتا رہنا چاہیے۔ حدیث نمبر دو بھی قال حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا وهب بن جریر بن حازم قال حدثنا ابي عن قتادة قال قلت لاناس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کیفا کانت قراءۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال مدا۔ کیا مطلب؟ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام مد والے حروف کو مد کے ساتھ کھینچ کر پڑھتے تھے یعنی جہاں پر مد آتی ہے تو اس کو باقاعدہ اس کا حق ادا کرتے تھے، اس کو کھا نہیں جاتے تھے جلدی میں۔ اب یہاں ایک مسئلہ ہمیں جو درپیش آتا ہے، رمضان آنے لگا ہے، اللہ تعالی ہمیں سب کو قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب اس میں دو طرح کے ذوق ہوتے ہیں لوگوں کے، اہل ذوق کی بات کروں بے ذوق ہے اس کا تو ذوق ہی نہیں ہو گا نا پھر تو وہ تو یعنی پڑھ ہی نہیں رہا قرآن، اللہ ہمیں ایسا نہ بنائے۔ ذوق والوں کے دو ذوق ہیں، ایک ذوق یہ ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، ترجمے کے ساتھ پڑھیں چاہے کم مقدار میں پڑھیں اور دوسرا ذوق یہ ہوتا ہے کہ بس جتنا زیادہ ہو سکتا ہے رمضان کی مبارک گھڑیاں ہیں تو پانچ پارے روز پڑھیں، دس پڑھیں، کوئی کہتا ہے پندرہ پڑھیں، کوئی بیس پچیس اور بعض تو ایک قرآن بھی پڑھ لیتے ہیں، گو کہ ایسے لوگ کم ہیں لیکن ذوق مختلف ہیں یعنی ایک تعداد پر فوکس کرتے ہیں، دوسری معیار پر فوکس کرتی ہے۔ تو اس حوالے سے کیا چیز بہتر ہے؟ جہاں تک تو حفاظ کا تعلق ہے اور حفاظ چونکہ تجوید اور قرات کے اصول جانتے ہوں تو وہ تو ظاہری بات انہوں نے تراویح بھی پڑھانی ہے، ان کو مقدار زیادہ بھی کرنی چاہیے لیکن جو غیر حفاظ ہیں اور اگر وہ speed کے چکر میں جو تجوید کی quality ہے اس پر compromise کر رہے ہیں تو یہ تو خطرناک بات ہو گئی، اب وہاں پر پھر test یہ ہوتا ہے کہ آیا میں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اپنے بہن بھائیوں کو دکھانے کے لیے، گھر والوں کو، دوستوں کو اچھا میں نے تو اتنا پڑھ لیا یا اپنے آپ کے ساتھ ہی بندہ ایک بات کر رہا کہ یار میں اتنا پڑھ لوں گا، طے کر لیا اس نے لیکن اس کے نتیجے میں غلطیاں تجوید کی بہت ہو رہی ہیں تو اس کا معنی یہ ہوا کہ ہم تو اس کا حق ہی ادا نہیں کر رہے، کسی ایک آپ کا خط ہی آپ لکھیں، کوئی بات آپ لکھیں، کوئی شاعرانہ کلام آپ لکھیں اور آپ کے سامنے کوئی اس کو غلط انداز میں پڑھے تو ہمیں کتنا برا لگے گا، یہ تو اللہ کا کلام ہے اور اللہ سن رہا ہے اور اس کو بھی چھوڑ دیں صرف اتنا سوچ لیں کہ جس style میں قرآن ابھی پڑھ رہا ہوں اگر مجھے مجمع کے سامنے اونچا پڑھنا پڑ جائے تو کیا میں پڑھوں گا؟ کتنی خطرناک بات ہے۔ کتنی خطرناک، اللہ کا کلام ہے یہ، اس کی عزت توقیر تو ضروری ہے۔ اب میں آپ علامہ اقبال کا کوئی شعر پڑھتا ہوں، تندیا کیا نام ہے کہ "محمد سے وفا تو نے تو ہم ترے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم ترے ہیں" اب میں نے شعر پڑھ لیا، کوئی مزہ آیا کسی کو؟ کسی کو بھی نہیں اور اس کا دوسرا انداز ہے کہ "کہ محمد سے وفا تو نے تو ہم ترے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم ترے ہیں" یہ دونوں میں کتنا فرق ہے تو اللہ کے کلام میں کہیں مد ہے، کہیں جو بھی اس کے اصول ہیں اگر اس کو ہم لحاظ نہیں رکھ رہے، صرف speed میں بس مکمل ہی کرنا ہے تو یہ گویا کہ ہم اپنی خواہش پوری کر رہے ہیں، اللہ تعالی کی رضا کا کام نہیں کر رہے، اس میں نفس پرستی ایک گویا آ گئی کہ میں نے تو اتنا کرنا ہے چاہے غلط کروں اور پاکستان میں بعض ٹھیکے دار ہوتے ہیں، وہ گھر ٹھیکے جلدی مکمل کرنے ہوتے ہیں، پانچ چھ مہینے میں وہ کہا کر نیا ٹھیکا پکڑنا ہوتا ہے تو وہ ہر کام اتنی جلدی کرتے ہیں کہ وہ بیچ میں گھر میں بہت سارے نقص نکل آتے ہیں لیکن انہیں گھر complete کرنا ہے time پہ۔ تو یہ اللہ کا کلام ہے یا تو بندہ اتنا ماہر بن چکا ہو جیسے بعض حفاظ ہوتے ہیں کہ وہ اگر روانی سے بھی پڑھتے ہیں تو ان کی بیس رکعت تراویح بھی جو ہے وہ ایک گھنٹے کے اندر مکمل ہو جاتی ہے لیکن کوئی نقص بھی باقی نہیں رہتا، بعض ہوتے ہیں اتنے ماہرانہ انداز ہوتا ہے ان کا لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو quality کی ویسے بھی اللہ کے یہاں اعمال گنے نہیں جائیں گے، تولے جائیں گے تو quality matter کرتی ہے کہ ہم کس انداز سے پڑھ رہے ہیں، اسی طرح ترجمہ قرآن کا اگر کسی نے پڑھنا ہے، رمضان کا موقع ہے بعض لوگوں کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے تو اس سے کیا ہوگا کہ ہو سکتا ہے ورنہ بغیر ترجمے کے وہ پانچ قرآن پڑھ لے تا، اس طرح شاید ایک ہی پڑھے گا تو میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ اس میں جو ایک قرآن پڑھ رہا ہے لیکن ٹھہر ٹھہر کے پڑھ رہا ہے اور ترجمہ سمجھ کے پڑھ رہا ہے، اس کو محسوس کر رہا ہے، اس کی کیفیت لے رہا ہے، اس کے نتیجے میں ظاہری بات ہے اس کی زندگی میں تبدیلی آئے گی تو اسی لیے اس حوالے سے جو ذوق ہے وہ اللہ سے مانگنا چاہیے، اللہ وہ ذوق عطا فرما جو آپ کو پسند ہے اور یہ بات اس کو ہم سوچ لیں جو بھی ہم پڑھ رہے ہیں جس انداز میں اگر ابھی اسی وقت میرے ساتھ کوئی بندہ بیٹھا ہو اور میں اس کو اونچا پڑھ کے اسی style میں اسی speed میں سنا سکوں گا، اگر جواب نہیں ہے تو میں اس بندے سے بہت افضل اور اعلی اللہ تعالی کو سنا رہا ہوں یہ تو پھر میں کیسے اس طریقے سے پڑھوں کلام بھی اللہ کا ہی ہے تو اس حوالے سے ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ تو بہرحال یہ حدیث میں لکھا ہے کہ مد کے ساتھ آپ علیہ السلام جہاں کھینچنا ہوتا تھا، کھینچ کے پڑھتے تھے۔ دیکھیں کیا لکھا ہے کہ یہ کیفیت صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان ٹھہر ٹھہر کر توجہ احتیاط سے تلاوت کرے، اگر جلدی جلدی اور عجلت پسندی میں پڑھا جائے تو مد کو صحیح طور پر ادا کرنا مشکل ہو جائے گا، اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں، ایک یہ کہ تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرنی چاہیے، دوسرا یہ کہ جہاں مد آئے وہاں اسے مد کے ساتھ ہی ادا کرنا چاہیے، شارحین نے حدیث لکھا کہ مد ادا کرنے کے کچھ مخصوص قوانین و قواعد ہیں جو فن تجوید کی کتابوں میں بیان ہوئے ہیں، اس کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ ہمارے دور میں بعض قراء مد کو حد سے زیادہ لمبا کر دیتے ہیں، اب یہ ایک اور extreme ہے، ایک یہ کھا جانا، ایک حد سے زیادہ لمبا کر دینا، قرات competition وغیرہ اور یہ ہوتی ہیں، قرآن nights میں بعض اوقات فن قرات کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے تو حالانکہ وہی ادات درست اور معتبر ہے جو تجوید کے قواعد اور اصولوں کے مطابق ہو، کسی بھی چیز میں زیادتی یا کمی، افراط و تفریط دونوں ہی ناپسندیدہ ہیں۔ ہیں اب یہاں ایک مسئلہ آتا ہے نعت میں بھی اب میں مختلف مجالس کی عرض کر چکا اور یہ قرات کے ساتھ بھی قرآن کی تلاوت ساتھ بھی ایک معاملہ آتا ہے، اس میں احتیاط کرنی چاہیے بہت زیادہ کہ بعض اوقات ہم قرآن کی بجائے قاری کی تعریف میں لگ جاتے ہیں اور نعت کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے اس نعت پڑھنے والے کی تعریف ہم زیادہ کر رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ اصل مقصد نعت کا یہ ہے کہ اس اس مجلس میں نعت پڑھنے یا سننے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اضافہ ہونا چاہیے، قرآن کی تلاوت سننے کے بعد اللہ کے ساتھ تعلق میں اضافہ ہونا چاہیے اور جو لوگ نماز پڑھاتے ہیں ان کے لیے بھی ایک اخلاص کا بڑا زبردست ٹیسٹ ہوتا ہے۔ کہ میں جب اکیلے میں دو سنت پڑھتا ہوں تو تب میں نماز تلاوت کیسے کرتا ہوں اور جب میں مجمع میں پڑھتا ہوں تو پھر میں کیسے کرتا ہوں؟ تو اگر وہ بھی اللہ کے لیے اور یہ بھی اللہ کے لیے ہے تو اللہ تو نہیں بدلے نا نعوذ باللہ من ذالک۔ مجمع بدلا ہے۔ ایک تو ہے کہ نیچرل ایک فرق آتا ہے کہ انسان اونچا پڑھے یا آہستہ پڑھے تو ایک نیچرل سپیڈ کا ایک فرق رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک نماز ورنہ دو رکعت کی اگر کوئی پانچ منٹ میں پڑھ رہا ہے تو اگر وہ اونچی آواز میں تلاوت کرے گا تو شاید سات آٹھ منٹ لگ جائیں، ایک نیچرل ایک فرق آ جاتا ہے۔ اور ایک ہے کہ اچھا خاصا فرق ہے ورنہ تو ٹھیک ٹھاک سپیڈ ہے اور جب مجمع کے سامنے کہیں کسی نے جماعت شروع کی نماز پڑھنا ہے تو اس ٹائم تو بالکل یہ ادائیں بدل گئیں تو یہ اخلاص کا ہم طلباء کو کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کے اخلاص کا ٹیسٹ ہے۔ آج آپ نے نئے سٹائل میں قرات کرنی ہے، کیوں کرنی ہے؟ کیونکہ کوئی پیچھے پوٹینشل سسر کھڑا ہوا ہے آپ کا اور اگلے ہفتے آپ کا بھی نکاح کا اعلان ہو سکتا ہے تو آج میں ایک نئی قرات میں نماز پڑھاتا ہوں۔ یا بس اس لیے کہ اللہ تعالی جو ہیں وہ انہوں نے کہ قرآن کا یہ بھی ایک انداز اتارا تو آج عوام کو اس سے بھی تھوڑا روشناس کرا دیتے ہیں تو یہ نیت کا معاملہ ہے، ہم نے تو دوسروں پر ہمیشہ اچھی نیت کا گمان کرنا ہے۔ خود جب ہماری باری آئی تو ہم اس کی بہت احتیاط کریں کہ اللہ تعالی کے لیے خالص پڑھیں، اس کا ایک آسان طریقہ یہ کہ حضرت ثانوی رحمۃ اللہ نے لکھا کہ نیت کو ٹھیک کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ عین عمل سے ایک سیکنڈ پہلے آپ یہ ارادہ کر لیں اللہ یہ میں آپ کے لیے کر رہا ہوں بس۔ زبان سے بے شک اس کو ادا کر لیں، پھر وسوسہ آتا رہے ذہن میں تو اس کو چھوڑ دیں۔ بس یہ کھڑے ہو کر کہیں یا اللہ آپ کے لیے پڑھوں، اللہ اکبر بات ختم۔ اچھا جی اگلی حدیث، و فی قال حدثنا علی ابن حجرن قال حدثنا یحیی ابن سعید الاموی عن ابن جریج عن ابن ابي مليکت عن ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا قالت کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يقطع قراءته يقول الحمد للہ رب العالمین ثم يقف ثم يقول الرحمن الرحيم ثم يقف وكان يقرأ مالك يوم الدين۔ ام سلمہ فرماتی ہیں رضی اللہ تعالی عنہا کہ آپ علیہ السلام تلاوت میں ہر آیت کو جدا جدا کر کے علیحدہ علیحدہ اس طرح پڑھتے کہ الحمد للہ رب العالمین پر ٹھہرتے، پھر الرحمن الرحيم پر وقف فرماتے، پھر مالك يوم الدين پہ فرماتے، اب دو طریقے ہیں نا، ایک ہے وقف کے ساتھ سیدھا پڑھنے کے، الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحيم مالك يوم الدين اور ایک طریقہ یہ ہے، الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحيم مالك يوم الدين ایاک نعبد یعنی اس کو ملا کے پڑھنا۔ طریقے دونوں جائز ہیں، افضل اور اعلی طریقہ یہ ہے جو یہاں پر لکھا ہے کہ وقف کے ساتھ پڑھا جائے، طریقے دونوں جائز ہیں، اعلی طریقہ ہے کہ ہر آیت پہ جہاں پر وقف ہے وہاں پر وقف کیا جائے۔ حضرت مولانا قنوجی رحمۃ اللہ نے اس موضوع پر اردو زبان میں خاص رسالہ رد الطغیان فی اوقاف القرآن تحریر فرمایا جو نہائے جامع ہے۔ اس قسم کے شریعی تجویدی احکام اور مسائل کو جاننے کے لیے کتاب انتہائی مفید اور کارآمد ہے۔ اب تو خیر بہت ساری مزید نئی کتابیں بھی شاید اس میں لکھی جا چکی ہوں گی تو بہرحال جیسا عرض کیا کہ طریقے دونوں جائز ہیں، افضل یہ ہے کہ ٹھہر ہر آیت پر یعنی الگ الگ ٹھہر ٹھہر کے اس کو پڑھا جائے۔ حدیث نمبر چار، و فی قال حدثنا قطیبہ قال حدثنا الليث عن معاوية بن صالح عن عبد اللہ بن ابي قيس قال سألت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا عن قراءت النبي صلی اللہ علیہ وسلم اكان يسر بالقرأت ام يظهر؟ قالت كل ذلک قد كان يفعل قد كان ربما اسر وربما اظهر فقلت الحمد للہ الذی جعل فی امری سعة۔ عبد اللہ ابن قیس کہتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ آپ علیہ السلام قرآن شریف آہستہ پڑھتے تھے یعنی سری آواز میں یا پکار کر اونچی آواز میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دونوں طرح کا معمول تھا، میں نے کہا الحمد للہ اللہ کا شکر احسان ہے جس نے ہر طرح سہولت عطا فرمائی ہے یعنی یہ جو سوال پوچھنے والے صحابی وہ تھے سائل تھے جو طالب تھے انہوں نے کہا یہ کمنٹ پاس کیا کہ اللہ کا شکر اللہ نے آسانی پیدا فرمائی ہے کہ کبھی انسان کا موڈ ہوتا ہے اونچا پڑھنے کا، کبھی آہستہ پڑھنے کا، یہ نفل کی بات ہو رہی ہے، جماعت کے لیے تو چیزیں متعین ہیں کہ فجر اور مغرب اور عشاء میں اونچی قرات ہوگی، اس کو جاہر بولتے ہیں اور عصر اور مغرب، ظہر اور عصر میں سری ہوگی یعنی خاموش قرات ہوگی، آواز نہیں آئے گی لوگوں کو تو یہ تو طے ہے لیکن عام نفل نماز وغیرہ کے حوالے سے یہ سوال ہے۔ جیسا کہ یہاں لکھا ہے کہ نماز تہجد کے وقت کی تلاوت کے بارے میں انہوں نے یہ سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ کبھی آہستہ پڑھتے ہیں، کبھی بلند۔ اس طرح اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ایک ہی رات میں دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کچھ حصہ آہستہ، کچھ حصہ بلند اور یہ مانا بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی کسی ایک دن بلند پڑھا، کسی ایک دن آہستہ پڑھا۔ بعض اوقات بلند آواز سے تلاوت کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے خاص طور پر وہاں جہاں مقصد دوسروں کو ترغیب دینا ہو یا اس سے تلاوت میں نشاط اور قوت پیدا ہوتی ہو، اپنا دل زیادہ نماز میں لگاؤ، لیکن جہاں کسی کے آرام میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو یا دل میں ریاکاری اور خودنمائی کے کا کا جو ہے وسوسہ آ سکتا ہو تو وہاں پر آہستہ سے تلاوت کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ جو موجود لوگ ہیں ان کی خیال رکھنا ضروری ہے۔ جب دونوں حالتیں یکساں ہوں تو پھر درمیانی آواز یعنی ہلکی بلند آواز سے پڑھنا زیادہ مناسب ہے یعنی اتنا اونچا بھی نہ پڑھا جائے اور بہت آہستہ بھی نہ پڑھا جائے یعنی جب کچھ ہلکے پھلکے لوگ بھی موجود ہیں تو ان کا بھی خیال رکھ لیا جائے۔ اور کسی کو تکلیف بھی نہ دی جائے。 ہم جب مدرسے میں پڑھتے تھے تو ایک ایک کمرے میں آٹھ بچے رہتے تھے، ایک کمرے میں آٹھ بچے سوتے تھے تو اب بعض لوگ اس میں تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو اب اس میں دو معاملات آتے ہیں کہ الارم لگا کے اٹھتے ہیں تو الارم سے وہ بندہ بھی اٹھ جاتا ہے جس نے تہجد کی نیت نہیں کی، اس کی نیند خراب ہو جاتی ہے، اگلے دن اس کا سبق بھی خراب ہو جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اگر جا رہا ہے، دروازہ مار رہا ہے اور اٹھ رہا ہے اور پتہ نہیں کیا وہ اس کی تہجد سے چھ اور چار پانچ اور لوگوں کی نیت خراب ہو رہی ہے تو ایسی تہجد سے تہجد نہ پڑھنا بہتر ہے کیونکہ تہجد تو نفلی نماز ہے جبکہ ایذاے مسلم حرام ہے، مسلمان کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔ یہ بات بڑی اہم ہے، اپنے نفل کے خاطر کسی کو نقصان پہنچا رہا ہوں۔ اونچی تلاوت کروں، کوئی بیمار ہے۔ ہم میں سے کالج میں پڑھتا تھا تو ہمارے علاقے کی مسجد میں کوئی پروگرام ہو رہا تھا، چاہے کوئی گیارہویں شریف تھی یا کیا تھا تو وہ لاؤڈ سپیکر تھے، چل رہے تھے لاؤڈ سپیکر باقاعدہ عشاء کے بعد۔ تو میں باہر نکلا، میں نے والد صاحب سے کہا کہ یہ تو بڑا مطلب مشکل ہے، تیاری بھی نہیں ہو رہی امتحانوں کی، نماز بھی مکمل ہو چکی ہے اب تو یعنی مغرب کے بعد کا وقت ہے، عشاء کا تو کے بعد کا تو ہم گئے تو ایک اور صاحب نکلے، گھر کے بالکل مسجد کے ساتھ تھا، انہوں نے کہا کہ میری تو خالدا سخت بیمار ہیں، بوڑھی ہیں اور ان کی لاؤڈ سپیکر میں تقریر چل رہی ہے۔ تو ہم نے ایک پرچی لکھ کر بھیجی اندر کہ مہربانی کر کے لاؤڈ سپیکر آپ صرف اندر والا آن کر رکھیں، باہر والا جو لاؤڈ سپیکر ہے وہ بند کر دیں، بچے بیمار ہیں، کچھ امتحان کی تیاری ہے، بوڑھے بیمار ہیں۔ تو اچانک لاؤڈ سپیکر میں آواز آئی استغفراللہ استغفراللہ یہ ہمیں روک رہے ہیں اور پھر خیر ہم اندر چلے گئے اور ان سے درخواست کی ہے، تھوڑا احتجاج کیا تو انہوں نے پھر باہر والا لاؤڈ سپیکر بند کر دیا تو لاؤڈ سپیکر کا ایسا استعمال جائز نہیں ہے کہ جس سے اہل علاقہ، اہل محلہ، ان کے آرام میں خلل پیدا ہو، اذان کے لیے آپ کر سکتے ہیں لاؤڈ سپیکر باقی وہاں پر آواز پہنچانا مقصود ہے، جن جو لوگ موقع پر موجود ہیں۔ تو بعض اوقات ہمارے یہاں تو پاکستان ہندوستان اب دیکھتے ہیں کبھی صبح صبح جمعہ کے دن نعت خوانی شروع ہو جاتی ہے کہیں پر کبھی کیا شروع ہو جاتا ہے۔ تو اس سے ایذا ہو، ایذاے مسلم حرام، مسلمان کے لیے اتنا اللہ تعالی نے خیال رکھا ہے، نبی علیہ السلام کے حدیث کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے۔ حضرت ثانوی رحمہ اللہ کو نا کسی نے خط لکھا کہ حضرت! میں اپنی اصلاح کرانا چاہتا ہوں آپ سے، تو اتنی اس کی بری ہینڈ رائٹنگ تھی کہ حضرت! اتنی مشکل سے پڑھا اس کو جواب دیا، پہلے تو اپنی تو خط یعنی ہینڈ رائٹنگ صحیح کرو کیونکہ اس کو پڑھنا خود اذیت اور ایذاے مسلم حرام ہے۔ ایذاے مسلم حرام ہے۔ ہم نے ایک طلباء کو ایک بار ٹیسٹ دیا تو انہوں نے جو جواب لکھ کر دیا آنسر تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کا ہم ٹیسٹ کر رہے ہیں یا آپ ہمیں ٹیسٹ کر رہے ہیں کہ ہینڈ رائٹنگ کیسی ہے تو اسی لیے ان چیزوں میں بھی یعنی انسان کو کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے اور خاص طور پر جب دین کے نام پر ہم دیتے ہیں کہ میں تو بھائی قرآن پڑھ رہا ہوں، آپ اپنا خود دوسرے کمرے میں چلے جائیں، آپ فلانا کر لیں۔ تو اگر آپ عبادت کر رہے ہیں تو آپ اپنے لیے ایسی سیٹنگ کریں کہ دوسرے کسی کو تکلیف نہ ہو، نقصان نہ ہو۔ ایک دفعہ میں ہم کاروبار میں تھے جب والد صاحب کے ساتھ تو وہ ہمارے یہاں جماعت کا اہتمام دکان پر ہی ہوتا تھا، اس سے فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کچھ مزدور بھی پڑھ لیتے تھے ورنہ وہ ڈنڈی مارتے تھے اور دائیں بائیں گاہک آ رہے مارکیٹ میں وہ بھی جماعت لے کر آ جاتے تھے۔ تو ایک دفعہ مغرب کی نماز کا وقت تھا تو ایک صاحب بیٹھے ہوئے ان کا نام کوئی تھا یوسف تھا غالباً۔ تو میں نے ان سے کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا تو چلیں نماز پڑھتے ہیں، جماعت شروع ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا نہیں بھی میں ابھی پتہ نہیں کوئی بحانہ کر دیا تو میں نے ان کو تھوڑا اصرار کیا کہ آئیں نماز ہو رہی ہے تو اصرار میں کرتا رہا تو بعد میں جب ان کا بل بنانے لگے جب نماز کے بعد تو وہ نام پوچھا کہ نہیں یوسف مسیح، یوسف مسیح کرشچن تھا۔ تو ظاہری بات ہے اس کو تم زبردستی نماز میں نہیں لا سکتے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا معمول تہجد کی نماز میں آہستہ آواز سے تلاوت کرنے کا تھا جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ بلند آواز سے تلاوت فرمایا کرتے تھے。 ایک مرتبہ رات کے وقت نبی علیہ السلام ان دونوں کے پاس سے گزرے اور ان کے معمولات کا خود مشاہدہ فرمایا۔ صبح کے وقت جب دونوں حضرات آپ علیہ السلام کی مجلس مبارک میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ السلام نے اس بات کا تذکرہ فرمایا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ جب میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بہت آہستہ آواز میں تلاوت کر رہے تھے، انہوں نے عرض کیا میں جس ذات بابرکت سے مناجات کر رہا تھا وہ تو میری بات بخوبی سن رہا تھا تو اللہ تعالی کو جو ہے وہ تو مجھے اونچی آواز سنانے کی ضرورت نہیں، اللہ تو دلوں کے حال بھی جان لیتا ہے۔ پھر جب حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میرا مقصد غفلت کی نیند سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنا اور شیطان کو بھگانا تھا تاکہ تلاوت میں میری یکسوئی رہے تو حضرت نبی علیہ السلام نے دونوں کے جوابات کو پسند فرمایا اور ان کی تصویب کی، یعنی کہا ٹھیک ہے البتہ پھر فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ آپ تھوڑا سا بلند کر لیں اور حضرت عمر سے کہا تھوڑی سی آہستہ کر لیں، کیا بہترین اعتدال کا سبق سکھایا، کیا بہترین اعتدال کا سبق سنا۔ اچھا اب اس میں بھی دیکھیں یہ نہیں کیا کہ وہیں پہ نماز پڑھنے ہیں چلتے ہوئے کہہ دیا تم آہستہ پڑھو، تم اونچی پڑھو، بعض اوقات یہ بھی کرتے ہیں، گھر میں نماز پڑھ رہا ہے کوئی اور ہم اپنا پیغام بھی پہنچا دیتے ہیں، اچھا بھائی میں وہ نماز پڑھ رہا ہے اس کو کہہ دیں یار نماز پڑھ کے نا لائٹ بند کر آنا، یار وہ نماز پڑھے یا آپ کی بات سنے۔ تو اس طرح کے مختلف کام بعض اوقات ہم کر لیتے ہیں، تو دیکھیں کس طرح نماز مکمل ہو گئی، اس کے بعد اگلے دن صبح یعنی جب فجر آ گئی تو اس کے بعد دونوں سے کہا کہ میں نے اس طرح کیا، آپ کی وجہ کیا تھی؟ پہلے ان سے وجہ بھی پوچھی، کیا خوبصورت بات ہے اس میں تربیت کے ادوار سے کہ ڈائریکٹ اپنی بات نہیں کی، پہلے وجہ پوچھی، آپ کیوں اونچا پڑھ رہے تھے؟ آپ کیوں آہستہ پڑھ رہے تھے؟ اس وجہ کے بعد پھر بتا دیا کہ اس کی اس میں بہتری کیسے لے آئیں۔ ہم بعض اوقات کیا کرتے ہیں کہ وجہ جانے بغیر ڈائریکٹ اوپن فائر شروع کر دیتے ہیں، تو بعض اوقات ہمیں معلوم بھی نہیں ہو سکتا اگلے بندے کے پیچھے کوئی اور اس کی وجہ ہو یا کوئی یوسف مسیح ہو، تو اسی لیے اس حوالے سے تھوڑا معلومات پہلے کر لینا بہتر ہے البتہ اس میں تھوڑا صبر چاہیے کیونکہ اس میں تھوڑا سا ٹائم زیادہ لگتا ہے۔ تو ہمارے ساتھ ایک طالب علم پڑھ رہا تھا، اس نے قرآن کا ایگزام دیا تو وہ ترجمہ کا، تو وہ اس نے بالکل ہی سمجھ نہیں قرآن میں یعنی ترجمہ لکھا ہی کچھ نہیں نا تقریباً زیرو اور جو لکھا وہ کیڑے مارے ہوئے تھے تو سمجھ نہیں آیا یار بچہ تو ایسا نہیں ہے ذہن بھی ہے، اس کو میں نے بلایا بھئی کیا ہوا؟ کہتا ہے میں تو ڈسلیکسیا کا مریض ہوں، مجھے ڈسلیکسیا ہے، مجھے تو حروف نظر ہی نہیں آتے، صحیح طریقے سے مکس ہو جاتے ہیں نا یعنی اور ڈسلیکسیا وہ مرض ہوتا ہے جس میں حروف کی پہچان میں مشکل ہوتی ہے۔ تو میں نے کہا اللہ کے بندے آپ مجھے سال پہلے بتاتے، اتنے عرصے سے پڑھ رہے ہو تو میں آپ کو question paper بڑا بنا کے دے دیتا، font size بڑا کر دیتا، پورے سال آپ کی ہم help کرتے، تو اس نے ڈر سے بتایا کوئی نہیں اور جب امتحان آیا تو اس میں اس نے کچھ کیا نہیں، میں نے اس سے کہا آپ نے اپنی والدہ کو بتایا ہوا ہے؟ کہتا ہے نہیں ان کو بھی ڈر سے نہیں بتایا وہ میری بات نہیں مانیں گے。 diagnose تھا ڈاکٹر نے اسے بتایا ہوا تھا۔ تو اس کو بہرحال ہم نے پھر الگ سے قاری صاحب لگا کے دیے کہ آپ اپنی تجوید پر محنت کریں، انگلش اس نے بہتر کر لی تھی محنت کر کے لیکن قرآن میں سے مسئلہ آ رہا تھا، تو مقصد یہ کہ اب یہ مسئلہ نہ پتا ہو اور ڈائریکٹ میں اس کو fail بھی کر دوں اور اعلان بھی کر دوں اس کا، تو پہلے کیسے خوبصورت انداز سے پہلے آپ نے استاد صاحب نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اسی طرح کی مثال کے طور پر کوئی بچہ کہیں late آ رہا ہے، نماز میں دیر کر دی، بھئی کیوں دیر کر دی؟ پہلے وجہ پوچھ لیں اور پھر اس کے بعد جو ہے وہ بات کر لیں، ہم میں سے اکثر لوگ جو زندگی میں پہلی تو جھوٹ بولتے ہیں وہ اپنی عزت نفس کو بچانے کے لیے بولتے ہیں، خوف کے ماحول میں بولتے ہیں، تو اسی لیے اس میں کیسے relax کر کے نبی ﷺ نے پوچھا اور پھر کس خوبصورتی سے اس میں اصلاح فرمائی یہ سیکھنے کا کی چیز ہے۔ اچھا یہاں پر ایک بڑی زبردست ایک نکتہ ہے مولانا سید احمد پالنپوری رحم اللہ ان کا میں ایک بیان سن رہا تھا، دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے حال ہی میں ان کا انتقال ہوا، تو وہ کہتے ہیں کہ حجة الله البالغة ایک بڑی مشہور کتاب ہے شاہ ولی اللہ رحم اللہ کی، جس میں انہوں نے اس زمانے میں یعنی آج سے شاہ ولی اللہ کا ٹائم وہ تھا کہ جس زمانے میں marxism پھیل رہا تھا انہوں نے اس زمانے میں بہترین کتابیں لکھیں Economics پر اور مسلمانوں کی Economics پر اور اسی طریقے سے شاہ ولی اللہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ قرآن کا ترجمہ کیا، کسی بھی non Arabic language میں پوری پورا قرآن کا ترجمہ پہلی دفعہ جس ہستی نے کیا وہ حضرت شاہ ولی اللہ ہیں رحم اللہ۔ کافی انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا اس دور میں، پھر ان کے بیٹے نے اردو میں پہلی دفعہ قرآن کا ترجمہ کیا۔ تو شاہ ولی اللہ رحم اللہ نے ایک اور کام یہ کیا کہ انہوں نے ایک کتاب لکھی حجة الله البالغة جس میں دین کے مسائل کی جو عقلی کچھ وہ جو اس کے پیچھے وجوہات ہیں وہ بیان کی، گو کہ اصول تو یہ ہے کہ دین کے مسئلے پر عمل کرنے کے لیے ہمیں اس کا انتظار نہیں کرنا کہ یہ سمجھ میں آئے تو کروں گا۔ بھئی ظہر کی نماز میں چار رکعتیں کیوں ہیں دو کیوں نہیں ہیں جب تک سمجھ نہیں آئے گی میں نہیں پڑھوں گا، یہ اس کا کوئی یہ بالکل صحیح طرح سے عمل نہیں ہے۔ البتہ جہاں پر جن احکامات کی ویسی تفصیل جاننے کا انسان کو ذوق و شوق ہوتا ہے کہ اس کا اس سے اس کے عمل پر اس سے اثر انداز نہیں ہو اثر نہیں پڑے گا کہ اگر مجھے نہ بھی سمجھے میں پھر بھی عمل کروں گا، لیکن میں پھر بھی جاننا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے کہا کہ آپ کیسے بندے زندہ کر دیں گے مرنے کے بعد، تو انہوں نے کہا اللہ نے فرمایا کہ کیا یقین نہیں ہے کہا یقین تو ہے لیکن اطمینان قلب کے لیے، قرآن میں واقعہ موجود ہے۔ تو بہرحال یہ کتاب بہت کمال کی ہے، تو حضرت نے لکھا کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اچھا یہ کتاب ہمارے علاقے میں جو زبردست طریقے سے پڑھاتے ہیں علماء کو پڑھائی جاتی ہے عربی میں، وہ شیخ امین پڑھاتے ہیں حفظہ اللہ وہ ان کا حجة الله کا درس مشہور ہے، علماء جا کر ان سے پڑھتے ہیں، تو حجة الله پڑھانے والے بھی لوگ کم ہی ہیں دنیا میں اس درجے کی کتاب ہے۔ امت مسلمہ میں علماء کہتے ہیں کہ اس سے اس جیسی کتاب نہ سے پہلے لکھی گئی نہ اس سے بعد لکھی گئی ہے۔ اس درجے کمال کی کتاب ہے حجة الله البالغة۔ تو اس میں حضرت نے مولانا سید احمد نے کہا کہ اس کو پڑھنے پڑھانے کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ مزاج بن جاتا ہے کہ دین کی جو حکمتیں ہیں وہ سمجھ آنے لگ جاتی ہیں، کہتے ہیں ایک دفعہ میں انگلینڈ میں تھا تو کسی نے میرے سے پوچھا کہ مجھے بتائیں کہ ظہر اور عصر کی نماز میں ظہری قرات کیوں نہیں ہے؟ اس کی حکمت کیا ہے اور فجر، عصر، عشاء اور مغرب میں ظہری قرات کیوں ہیں؟ تو حضرت نے کہا کہ اس حجة الله سے جو میرا مزاج بن گیا تھا تو اس کے ذہن میں میری بات آ گئی اللہ کی طرف سے، تو میں نے ان سے کہا بات یہ ہے کہ ظہر کے وقت اور عصر کے وقت عموماً انسان کام کاج کر رہا ہوتا ہے اور کام کے بیچ میں چھٹی کر کے ایک break لے کے نماز پڑھتا ہے، تو اس کی طبیعت میں عموماً اتنا نشاط ہوتا ہی نہیں ہے کہ اونچا کچھ پڑھے۔ انہوں نے اس کی پھر ایک دلیل دی انہوں نے کہا کہ آپ کسی سے آپ نے محبت کی باتیں کرنی ہوں تو آپ دن کا وقت چنتے ہیں یا رات کا وقت چنتے ہیں؟ آپ رات کا وقت چنتے ہیں، کیونکہ دن میں اور ذہن بھی مشغول ہوتا ہے اور بھی چیزیں ہوتی ہیں، تو کہا یہ اللہ نماز تو اللہ سے باتیں ہیں، تو اس کے لیے دن کا جو وقت ہے اس میں انسان کو عموماً اتنا نشاط بھی نہیں ہوتا کہ اونچا پڑھے یا زیادہ تلاوت کرے تو اسی لیے اس میں صری قرات ہے اور فجر، عصر، مغرب اور عشاء میں معاملہ دوسرا ہے۔ تو پھر اس نے کہا کہ جمعہ اور عید کے بارے میں پھر کیا ہے وہ تو دن کے وقت ہوتی ہیں، تو حضرت نے فرمایا کہ اگر کسی کی شادی جمعہ کو ہو رہی ہو یا دن کے وقت ہو رہی ہو کسی کی برات، تو اس دن تو وہ special تیار ہوتے ہیں نا دن کو پورا protocol اختیار کرتے ہیں۔ کہ آج میرا ولیمہ ہے وہ دن کو ہی تیار ہوتا ہے۔ ابھی عصر میں ہوتے ہیں نیا لوگوں کے نکاح تو دن میں ہی تیار ہوتے ہیں وہ۔ تو کہا اسی طرح دیکھیں جمعہ میں اللہ نے بتا دیا مصنون غسل بھی کرنا ہے، پوری تیاری کر کے آنی ہے تو اس سے پہلے جو جمعہ کے عید کے جو پورے پروٹوکول ہیں مصنون اس کے نتیجے میں ایک نشاط آ جاتا ہے۔ کیونکہ آپ غسل بھی کر رہے ہیں، نیا لباس بھی پہن رہے ہیں، خوشبو بھی لگا رہے ہیں، ناخن بھی کاٹ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک اضافی کام کرنے کے ساتھ وہ نشاط آ جاتا ہے اس لیے اس میں ظہری قرات ہے۔ جبکہ باقی نمازوں میں سیدھی ورنہ دوپہر کے وقت سیدھی قرات ہے۔ بہرحال یہ تو ایک حکمت کی اضافی بات تھی جو عرض کر دی。 حدیث نمبر پانچ میں بھی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا وکیع قال حدثنا مسعر نا نبیل اعلی ابن عبدی ان یحیی ابن جعدت عن ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا قالت کنت اسمع قرات النبي صلى الله عليه وسلم بالليل وانا علی عریشی ام ہانی فرماتی ہیں رضی اللہ تعالی عنہا کہ میں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں قرآن شریف پڑھتے تھے اور میں ان کے پڑھنے کی آواز رات کو اپنے گھر کی چھت پر سے سنا کرتی تھی۔ یہ مکہ کے دور کا واقعہ ہے。 حضرت ام ہانی کے بارے میں ہم نے پچھلے کسی درس میں پڑھا تھا کہ وہ مدینہ میں جا کے یعنی فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئیں، جبکہ یہ مکی دور کا واقعہ ہے۔ تو مسلمان تو مکہ میں ہیں لیکن فتح مکہ کے موقع پر تو اس وقت مسلمان نہیں تھیں لیکن فرما رہی ہیں کہ میں اپنے گھر میں سنتی تھی قرآن تو ان کا گھر چونکہ بہت قریب تھا حرم سے کتنا قریب تھا اس کو آپ پڑھ لیں یہاں پہ کہ ان کا مکان رکن یمانی کے قریب ہی واقع تھا یعنی کعبہ کے جو چار کونے ان میں سے حجرا اسود سے جو پچھلا کونہ آتا ہے پہلے وہ رکن یمانی ہے تو اس کے بالکل قریب گھر تھا۔ آج تو بہت بڑا صحن ہو گیا، زمانے میں تو گھر لوگوں کے بالکل قریب قریب تھے تو ان کا گھر بالکل قریب تھا، اسی لیے آپ دیکھیں نا فتح مکہ کے موقع پر بھی کیوں ان کے گھر کا یہ فرمان ہے کہ گھر بالکل ساتھ تھا، گویا آج کے دور کا جو مطاف ہے اس کے اندر ہی گھر تھا۔ تو کہا وہ پڑھتے تھے کعبہ کے سامنے قرآن اور مجھے اپنے چھت پر آواز آتی تھی۔ ایک وجہ تو اس کی یہ بھی ہے مطلب یہ ہے نا کہ اتنی بلند آواز میں پڑھتے تھے کہ ساتھ آواز آ جاتی تھی مجھے اور رات کے وقت ویسی خاموشی ہوتی اور نبی علیہ السلام کیوں اونچا پڑھتے تھے؟ اس میں تو قرآن کا ایک مقصود یہ بھی تھا کہ کفار سنیں اور قرآن اس طریقے سے کفار کے کانوں میں پڑھتا تھا کئی دفعہ اور بعض لوگوں نے واقعتاً سن سن چھپ چھپ کر سنا اور اس طریقے سے بھی ان کا دل اسلام کی طرف آیا۔ حدیث نمبر چھ، و بھی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا ابو داؤد قال حدثنا شعبہ عن معاویہ بن قرہ عن قال سمعت عبداللہ ابن مغفل يقول رايت النبي صلى الله عليه وسلم علی ناقته يوم الفتح وهو یقرأ "انا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر" قال فقرأ قرأ ورجع قال وقال معاویہ بن قرہ لولا ان يجتمی الناس علی لاخذت لکم في ذلك الصوت وقال اللحن عبداللہ ابن مغفل فرماتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ میں نے آپ علیہ السلام کو فتح مکہ کے دن اس سورہ فتح کی آیت پڑھتے ہوئے دیکھا "انا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر" اور آپ علیہ السلام ترجیع کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ ترجیع کیا ہوتا ہے اس کو بھی سمجھاتا ہوں میں。 معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کے جمع ہونے کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ میری بات میں جیسے پڑھوں گا تو اکٹھے ہو جائیں گے تو میں اس طرح پڑھ کے آپ کو دکھاتا۔ ترجیع کا لفظ ہوتا ہے رجوع سے "انا لله وانا الیہ راجعون" میں بھی یہ لفظ آتا ہے لوٹنا، بار بار لوٹانا تو اس سے مراد یہ ہے، ایک روایت میں تو اس کی مراد یہ لی گئی ہے کہ یعنی مد کی جو آواز ہے وہ حلق میں گونج رہی تھی آ آ آ نا یعنی وہ repeat ہو رہا تھا تو علماء نے اس کا ایک مطلب یہ نکالا ہے جو کہ حضرت مولانا زکریا صاحب کے والد صاحب نے نکالا ہے۔ یہاں لکھا ہوا ہے تفصیل سے کہ وہ چونکہ اونٹنی پہ سوار تھے اور جب "انا فتحنا" الف آتا تھا اور اونٹنی پہ سوار ہوتے بندے جھٹکے لگ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ میں سے کسی نے تجربہ کیا اونٹ پہ سوار ہونے کا تو جھٹکا لگنے کی وجہ سے وہ لگ رہا تھا جیسے الف کی آواز لوٹ کر بار بار آ رہی ہے۔ انا تو اسی لیے انہوں نے کہا کہ اگر میں لوگوں کے سامنے سنوں گا، لوگ کہیں گے یار کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا اس ڈر سے کہ لوگ جمع نہ ہو جائیں تو میں آپ کو پڑھ کے سنا بھی نہیں رہا۔ تو یہ ایک معنی مولانا زکریا صاحب کے والد مولانا یحییٰ صاحب نے اس سے نکالا ہے کہ یہاں ترجیع سے مراد یہ ہے۔ ترجیع کا ایک اور معنی یہ ہے کہ ایک چیز کو بار بار پڑھنا یعنی ایک ہی آیت کو۔ کیونکہ خوشی کا موقع تھا، اللہ تعالی نے فتح نصیب فرمائی تھی تو اس وعدے کو بار بار یاد کر رہے تھے اور repeat کر کر کے آیات میں پڑھ رہے تھے تو یہ اس کا دوسرا معنی ہے۔ حدیث نمبر سات، و بھی قال حدثنا قطیبہ بن سعید قال حدثنا نحح بن قیس الاحدانی عن حساب بن مسکین عن قتادہ قال ما بعث اللہ نبیا الا حسن الوجه حسن الصوت وكان نبيکم صلى الله عليه وسلم حسن الوجه حسن الصوت وكان لا یرجع قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر نبی کو حسین صورت اور حسین آواز والا مبعوث فرمایا ہے اور اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسین صورت اور خوبصورت آواز والے تھے، آپ علیہ السلام قرآن شریف گانے والوں کی طرح آواز بنا کر نہیں پڑھتے تھے یعنی یہاں پر اس ترجیع کی مخالفت کی یعنی وہاں کیا ہے کہ گانے والے جیسا سور اضافی لگاتے ہیں تکلف کے ساتھ اس طرح نہیں پڑھتے تھے جہاں اس سے مراد یہ ہے۔ تو بظاہر پچھلی اور اس حدیث میں ایک تضاد معلوم ہو رہا ہے لیکن اس کی تشریح جیسا کہ مولانا زکریا صاحب کے والد صاحب نے کی ہے تو وہ اگر لے لیں تو اس میں کوئی بظاہر تضاد معلوم نہیں ہوگا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ فطری اور قدرتی طور پر خوبصورت اور خوش الالہا آواز سے تلاوت کرنا مستحب اور پسندیدہ ہے اور ممانعت یا نفی کا تعلق تکلف کے ساتھ یعنی مصنوعی بناوٹ کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کر رہا ہے تو وہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قرآن میں تدبر و غور و فکر کرنا ہے مقصود ہے اور وہ جب انسان تکلف میں جاتا ہے تو وہ حاصل نہیں ہوتا۔ آخری حدیث، و بھی قال حدثنا عبداللہ بن عبد الرحمن قال حدثنا یحیی بن حسن قال حدثنا عبد الرحمن بن ابی زناد الزناد عن امر بن ابی عمرو عن اقرم عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما قال كانت قراءۃ النبي صلى الله عليه وسلم ربما يسمعها من في الحجرة وهو في البيت ابن عباس فرماتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی آواز صرف اس قدر بلند ہوتی تھی کہ آپ گھر کی کوٹھڑی میں پڑھتے تو صحن والے سن لیتے تھے۔ گھر چھوٹے سے تھے۔ یعنی اس مسجد کے ہال کا بھی میرے خیال سے ایک چوتھائی بھی اگر کریں تو اس سے بھی چھوٹا شاید گھر ہو تو اس گھر میں فرما رہے ہیں کہ اگر وہ صحن میں اندر پڑھتے تھے تو باہر جو صحن کا علاقہ تھا، اس میں آواز آ جاتی تھی، وہ بھی بیت بنا دی، جو کمرہ اندر کا اور حجرا جو باہر صحن سا بنا ہوتا ہے تو تھوڑا سا نہیں اتنا اونچا پڑھتے تھے تو خلاصہ اس کا یہ کہ انسان جب گھر میں نماز پڑھتا ہے تو اس کو کوشش کرنی چاہیے اگر کوئی سو نہیں رہا تو اگر اونچی آواز میں پڑھ لے تاکہ اپنا نشاط باقی رہے اور دھیان باقی رہے تو بالکل اچھی بات ہے.
The rest of this transcript — segmented and speaker-labeled, so you land on the exact moment something was said
Search every transcript — by keyword, by phrase, or by meaning, across every show Radar indexes
Trends — what is surging across podcasts, measured against its own baseline
Alerts — when a name you follow appears in a newly indexed episode
No account is needed to search Radar.