Oct 1, 2026 · 47 min · 3 segments
No entities detected.
یہ چاشت کی اور یہ صلاة الضحىٰ کے حوالے سے سب سے معروف ترین مشہور روایت یہ ہے، ہم سیرت میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ عبد الرحمن ایک تاویخ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا اور کسی نے آپ علیہ السلام کی صلاة الضحىٰ کی خبر نہیں پہنچائی یعنی اپنی ذات کا ذکر کر رہے ہیں کہ مجھے انہوں نے خبر پہنچائی۔ البتہ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس روز جس دن مکہ مکرمہ فتح ہوا تھا، ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور غسل فرما کر آٹھ رکعات نماز پڑھی۔ میں نے ان آٹھ رکعات سے زیادہ مختصر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، لیکن باوجود مختصر ہونے کے رکوع سجود پورے پورے فرما رہے تھے۔ مراد مختصر سے یہ کہ چھوٹی سورت پڑھی اور البتہ باقی سارے ارکان صحیح طریقے سے ادا کیے، یہاں جلدی جلدی ادا کرنے سے وہ جلدی مراد نہیں جیسے ہم مانچاتے ہیں اور کوئی رکن بعض اوقات miss ہو جاتا ہے یا کمزور ہو جاتا ہے، ایسا نہیں تھا یعنی سورتیں چھوٹی پڑھی اس میں اور مختصر وقت میں اس کو مکمل فرما دیا۔ یہ موقع تھا فتح مکہ کا اور یہ عجیب شانتی آپ علیہ السلام کی عاجزی کا اعلیٰ نمونہ تھے، لوگ جب کوئی چیز فتح کرتے ہیں، ملکوں کو تو چھوڑیں آج کل ایک میچ فتح کرتے ہیں، ایک میچ جیت جاتے ہیں تو کس متکبرانہ انداز میں election جیت جاتے ہیں تو کس متکبرانہ انداز میں اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں، تو آپ علیہ السلام نے تو مکہ فتح کیا جہاں سے نکالے گئے تھے اور آٹھ سال کی قلیل مدت میں واپس آ گئے اور جب واپس تشریف لا رہے تھے مکہ میں تو گردن اتنی جھکی ہوئی تھی کہ گویا داڑھی مبارک جو ہے وہ اونٹ کے جو کوہان ہیں اس پر لگ رہی تھی اور قرآن کی آیت تلاوت فرما رہے تھے اور شکرانے کی بعض نے اس کو صلاة الشکر بھی کہا ہے کہ یہ صلاة یہ فتح حاصل کرنے کے بعد کی نماز ہے تو اس لیے مسلم فاتحین نے جب بعض میں اور محاذوں پر فتح حاصل کی تو وہ صلاة جو شکرانے کی نفل پڑھتے تھے ان میں سے وہ بعض اوقات اگر اس وقت یعنی موقع ملتا تھا چاشت کے وقت تو وہ اس سنت کو بھی دہراتے تھے کہ کوئی علاقہ فتح کیا تو پھر پہلے شکرانے کی نماز ادا کی۔ تو مسلمانوں کا ایک ہی طریقہ ہے، ہمارے یہاں بعض اوقات کوئی کرکٹر century بنا لیتا ہے تو یا پانچ وکٹیں لے لیتا ہے تو سجدہ کرتا ہے وہ شکرانے کا، تو بعض ہمارے liberal لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ بھائی یہ نماز ادھر دین کہاں سے آ گیا؟ تو ان کے جو ہمارے دیسی liberal ہوتے ہیں جو اپنی عقل تو ویسے استعمال نہیں کرتے، جو بھی ایسی چیزیں لیتے ہیں وہ بعض اوقات import کرتے ہیں اوروں سے، تو ان کا کیا علاج کیا جائے؟ دوائی مانگی جا سکتی ہے۔ تو ام ہانی کے گھر کیوں گئے؟ سوال یہ ہے، ام ہانی کون ہے؟ اب تو سیرت پڑھی ہوئی آپ لوگوں نے آپ لوگوں سے چھوٹا quiz بھی لے لیتے ہیں۔ ام ہانی کون ہیں؟ ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت علی کی بہن ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن ہیں، ان ہو کی بہن ہیں۔ یہ ان کا نسب ہے، ابو طالب کا family tree۔ ابو طالب کی بیگم تھی فاطمہ بنت اسد بن ہاشم اور ابو طالب تو مسلمان نہیں ہوئے تھے، فاطمہ مسلمان ہو گئی تھیں اور ہجرت بھی کی اور نبی علیہ السلام نے ان کا جنازہ بھی پڑھایا اور دفنانے کے وقت بہت رنجیدہ تھے کیونکہ فرمایا کہ یعنی وہ یاد کر رہے تھے جب میں اپنے اپنے teenage میں تھے اور دادا والد اور دادا کے انتقال کے بعد جب چچا کے گھر رہتے تھے تو چچی ہی تھیں جو اپنے بچوں کے ساتھ ان کا خیال رکھتی تھیں، کھانا پلانا، کپڑے ساری چیزوں کا خیال فاطمہ بنت اسد رکھا کرتی تھیں، تو آپ علیہ السلام نے دفناتے ہوئے بہت ان چیزوں کو یاد کیا، تو ان کی شادی سے ابو طالب اور فاطمہ کی شادی سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، طالب اسی وجہ سے ابو طالب کہلائے، پھر عقیل اور پھر جعفر اور علی اور ام ہانی اور جمانہ۔ یہ دو بہنیں تھیں، ام ہانی کی شادی ہوئی، ام ہانی کا جو اصل نام ہے وہ فاقہ تھا یا ہند ہے، یہ دو روایت ملتی ہیں اور شادی ان کی ہوئی حبیرہ ابن ابی وهب ابن امر سے جو کہ بنو مخزوم کے تھے لیکن مسلمان نہیں ہوئے اور جمانہ، جمانہ جو ہیں ان کی شادی ہوئی ابو سفیان بن حارث، یہ ابو سفیان بن حارث جو ہیں یہ وہ ابو سفیان نہیں ہیں جو آ first شروع میں دشمن تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے، حضور ﷺ کے سسر بنے۔ یہ عبد المطلب کے جو سب سے بڑے بیٹے تھے یعنی حضور ﷺ کے سب سے بڑے تایا حارث، ان کے بیٹے تھے ابو سفیان۔ تو یہ حضور ﷺ کے کیا ہوئے؟ ابو سفیان جو ہیں یہ ان کا حضور ﷺ سے کیا رشتہ ہوا؟ cousin ہوئے، تو علی کے بھی cousin ہوئے اور جمانہ کے بھی cousin ہوئے تو اس معاشرے میں cousin marriage ہوا کرتی تھی۔ ٹھیک ہے، خدا علیہ الصلاۃ والسلام کی ایک بیٹی جو ہیں زینب، پہلی بیٹی، ان کی اپنی cousin سے شادی ہوئی، یہ بات اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ بعض اوقات میں نے نوجوان بچوں کو دیکھا ہے چونکہ Christian ملک میں رہتے ہیں امریکہ کے بعض علاقوں میں اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے تو وہ بھی معیوب سمجھنے لگ جاتے ہیں اس کو، تو ایسا نہیں ہے۔ ہاں کسی کی اور طبی وجوہات ہیں اور اس وجہ سے نئی خاندان اندر خاندان میں شادی کرنا چاہتے ہیں ایک الگ بات ہے لیکن فی نفس ہی یہ اس دور میں ہوتا تھا خود حضور ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی cousin سے کی۔ تو ام ہانی نے جو ہے وہ فتح مکہ روایت میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور ان کے گھر میں کیوں تشریف لے گئے تھے؟ کھانا بھی کھایا تھا یہ وہی ہم نے شروع میں بھی پڑھا ہے شمائل کے جب وہ کھانا منگوایا تو صرف سرکہ موجود تھا تو روٹی کے ساتھ سرکہ کھایا اور کہا کہ کیا یہ اچھا کھانا ہے، تو ایک تو وجہ یہ تھی کہ یہ گھر ان کا بالکل حرم کے قریب تھا یعنی فتح مکہ فتح ہوا، اب جب بندہ کس کے گھر جاتا ہے آپ کسی بھی شہر میں جائیں گے سب سے پہلے کس کے گھر جائیں گے؟ جب آپ کا قریبی رشتہ دار ہوگا تو اس کے گھر جائیں گے تو اپنے علاقے کے گھر وغیرہ تو ان لوگوں کے قبضہ کر لیے گئے تھے، ام ہانی بھی مکہ میں ہی تھیں اور حضرت علی کی بہن بھی ہیں اور فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نند بھی ہوئیں، سمجھی بات، تو اس اعتبار سے قریبی رشتہ تھا تو لہذا ان کے گھر تشریف لے گئے اور غسل بھی فرمایا، یہیں پہ کھانا بھی نوش فرمایا اور یہ نماز بھی پڑھی۔ بعد میں بھی بعض روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں اور اس کے، ان سے پہلے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بعض اوقات صحابہ اس طریقے سے خاص طور پر حضرت علی جب موجود ہوتے تھے تو ایسا روایت میں ملتا ہے کہ وہ پھر حضرت ام ہانی کے گھر تشریف لے آتے تھے۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے آ ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تو جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں آ میرے بچے ہیں اور چھوٹے ہیں اور میں یا تو آپ کے حقوق ادا نہیں کر پاؤں گی یا بچوں کے حقوق نہیں ادا کر پاؤں گی، تو بعد میں اچھا ظاہری بات ہے جب اسلام قبول کیا تو پچھلے شوہر سے تعلق بھی ٹوٹ گیا، بعد میں انہوں نے خود حضور ﷺ کو فرمایا کہ اب میں تیار ہوں شادی کے لیے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب تو آیت قرآن کے آ گئی کہ شادی صرف اسی سے تم کر سکتے، آپ کر سکتے تھے جس نے ہجرت کی ہے تو چونکہ آپ نے ہجرت نہیں کی ہوئی تو آپ کے ساتھ شادی نہیں ہو سکتی۔ تو پہلے جو شادی کی پیشکش فرمائی اس کی ایک وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسے آ ایک تو خاندان ابی طالب تھا اور ابو طالب جو ہے وہ خود تو اسلام نہیں لا سکے لیکن بہت زیادہ احسانات ہیں ان کے آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر تو کسی کا حضور ﷺ کی زوجیت میں آ جانا تو ان کو محت المومنین بنا دیتا ہے اور یہ بہت بڑا مقام ہے خواتین کے لیے، تو اس ذریعے سے گویا ان کے آ درجات بلند کرنے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ تو بہرحال یہ ایک اس میں کچھ تفصیلات ہیں، دل چاہتا ہے کہ بھی اس پر مزید تحقیق کی جائے کہ یہ سارا معاملہ کیا تھا، میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کیونکہ بعض orientalist نے یا آ ان لوگوں نے جو آداب کا خیال نہیں رکھتے اس کو بڑے غلط طریقے سے پیش کیا ہے ان باتوں کو، تو اس لیے اس کو درست انداز سے پیش کرنا بہت ضروری ہے، ایک جگہ میں انٹرنیٹ پہ پڑھ رہا تھا کسی نے لکھا ہوا ہے نعوذ بالله کہ first love story of Muhammad یعنی اپنے ان کے جو اس میں شاید نبوت سے پہلے کا واقعہ، تو اب اس کو تعبیر کس طرح کر رہے ہیں الفاظ کیا اختیار کر رہے ہیں، یہ ساری چیزیں ہیں جو سیکھنے سکھانے کی ہوتی ہیں اس لیے ان چیزوں کو کی تفصیل میں بیان اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ ہو سکتا ہے آپ کے سامنے بھی یہ چیزیں آئیں، تو یہ ایسا واقعہ ہوا تھا کہ ہجرت کے بعد آ فتح مکہ کے موقع پر انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کو پیشکش کی نکاح کی لیکن انہوں نے رد کر دی، پھر جب انہوں نے کہا کہ میں نے نکاح کے لیے تیار ہوں تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرما دیا کہ اللہ نے حکم دے دیا کہ اب اور کہ ہجرت جس نے نہیں کسی سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ یہ تقریباً پچاس ہجری سے آگے تک جیتی رہی ہیں یعنی پچاس ہجری تک بھی زندہ تھیں، چار بن کے بچے تھے جعدہ، امر، یوسف اور ہانی جس کی وجہ سے ام ہانی کہلائیں، چالیس کے قریب انہوں نے احادیث نقل کی ہیں اور ان کے شاگرد جنہوں نے ان سے حدیث نقل کی ان میں ان کے اپنے پوتے بھی شامل ہیں اور باقی مزید یہ حضرات بھی شامل ہیں۔ حدیث نمبر چار ابھی قال حدثنا ابن ابی عمر، قال حدثنا وکیع، قال حدثنا کاہمس عن، کاہمس ابن الحسن، عن عبداللہ ابن شقیق، قال قلت لعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اکان النبي ﷺ يصلي الضحی، قالت لا الا یجوء من مغیبہ。 حضرت عبداللہ ابن شقیق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کیا صلاة الضحی پڑھتے تھے؟ فرمایا کہ معمولاً تو نہیں پڑھتے تھے ہاں سفر سے جب لوٹتے تو ضرور پڑھتے تھے، اب یہ بظاہر پچھلی روایت سے بعد الٹی آ گئی یہاں پر مخالف آ گئی لیکن مخالفت ظاہری ہے حقیقی نہیں ہے。 اس کی جو تفصیل بیان کی مولانا ذکریہ کاندلوی رحم اللہ نے کہ جب بھی آپ علیہ السلام اپنے شہر مدینہ منورہ میں واپس تشریف لاتے تھے تو صبح کے وقت شہر میں داخل ہوتے۔ یعنی آپ کا معمول تھا کہ سفر سے واپسی سفر میں جاتے بھی تھے تو بالکل رات کا جو وقت ہے یعنی رات سے مراد ہے جو دن کے شروع کا وقت ہے یعنی طلوع فجر کے قریب قریب اس میں تشریف لے جاتے تھے۔ کیا فرمایا کہ زمین اس موقع پر سمیٹ دی جاتی ہے یعنی سفر آسان ہوتا ہے، برکت بھی ہوتی ہے صبح کے وقت میں۔ آج کے دور سے دیکھیں ٹریفک بھی کم ہوتی ہے۔ اچھا واپسی میں بھی ترتیب ہوتی تھی کہ کوشش ہوتی تھی کس طریقے سے پہنچیں شہر میں کہ صبح کا وقت ہو اور پھر گھر اطلاع بھی بھجواتے تھے کسی کے ذریعے کہ ہم یعنی قافلہ پہنچنے لگا ہے تاکہ خواتین وغیرہ گھر والے ہو تیار بھی رہیں تمام معاملات سیٹ ہو جائیں۔ یہ جو surprise دینے والا ہمارے یہاں culture ہے نا جو بعض اوقات دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے تو اس میں کچھ چیزوں کا احتیاط کرنا چاہیے。 تو پھر آپ علیہ السلام مسجد تشریف لے جاتے اور پھر نفل نماز ادا کرتے اور پھر اپنے گھر تشریف لے آتے۔ بہرحال یاد رہے کہ گھر بالکل متصل تھا تو ہم بھی جب اپنے کبھی شہر کسی اور جگہ سفر کریں اور واپس آئیں اور مسجد قریب بھی ہوں خاص طور پر تو اس کا اہتمام کرنا آسان ہے کہ آ کے بندہ یہ سنت زندہ کرے، مسجد میں آ کے نفل پڑھے اور بعد میں گھر چلے جائیں۔ تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ جواب بذائر اس جواب کے برعکس ہے جو ہم نے پہلے پڑھا کہ آپ علیہ السلام کا معمول تھا چار رکعت پڑھنے کا کم سے کم۔ تو اس کی وضاحت یہ ہے کہ امام بیقی رحم اللہ نے فرمایا کہ جس حدیث میں نفی ہے کہ نہیں پڑھا جیسا کہ ابھی ہم نے یہ حدیث پڑھی، اس سے مراد ہے کہ اس کی پابندی نہیں تھی یعنی جیسے باقی بعض نمازیں جن کو ہم سنت موقتہ بھی کہتے ہیں، ان کی پابندی تھی اس کی پابندی نہیں تھی جیسے تہجد کی پابندی تھی، جس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کبھی کبھار نہیں پڑھتے تھے۔ اور جہاں پر اس بات کا ذکر ہے وہاں مراد یہ کہ اکثر پڑھا کرتے تھے。 دوسری بات جو بعض علماء نے بیان کی ہے کہ یہ جو نفی کی ہے یہ اس چیز کی ہے کہ مسجد میں صرف اسی وقت صلاة الضحی پڑھتے تھے جب سفر سے واپس آتے تھے ورنہ مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ ایک اور روایت آ رہی ہے اگلے باب کی کہ آپ علیہ السلام نوافل عموماً گھر میں پڑھا کرتے تھے تو گویا نفی یا تو اس چیز کی ہے کہ regular نہیں پڑھتے تھے، کبھی کبھی پڑھتے تھے یا پھر یہ کہ مسجد میں صلاة الضحی صرف تب پڑھتے تھے جب سفر سے واپس آتے تھے۔ حدیث نمبر پانچ، قال حدثنا زياد بن أيوب البغدادي قال حدثنا محمد بن ربيعة عن فضيل بن مرزوق عن عتية عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى حتى نقول لا يدعها ويدعها حتى نقول لا يصليها。 ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام صلاة الضحی کبھی تو اس قدر اہتمام سے پڑھتے تھے کہ ہم لوگوں کو یہ خیال ہوتا کہ اب کبھی نہیں چھوڑیں گے اور آپ علیہ السلام کبھی فرض ہونے کے خوف سے یا کسی اور مشقت سے ایسا چھوڑتے تھے کہ ہمیں لگتا تھا کہ کبھی دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔ تو یعنی اس میں سہولت کے بقدر بہت بہت جو ہے وہ آپ علیہ السلام کبھی پڑھتے کبھی نہ پڑھتے۔ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی رعایت اور ہمدردی کے پیش نظر بہت سے مستحب اور نفی اعمال ترک بھی فرماتے تھے جس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں نبی علیہ السلام بعض کاموں کو کرنا بہت پسند فرماتے تھے لیکن اس خوف سے انہیں ترک کر دیتے تھے کہ کہیں وہ امت پر فرض نہ ہو جائیں۔ تو اس لیے امت کی ان چیزوں کی بہت رعایت بھی کی۔ قال حدثنا أحمد بن منيع عن هشيم قال حدثنا عبيدة عن إبراهيم عن سحم بن منجاب عن قرفع الضبي أو عن قزع عن قرفع عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يدمن أربع ركعات عند زوال الشمس فقلت يا رسول الله إنك تدمن هذه الأربع ركعات عند زوال الشمس فقال إن أبواب السماء تُفتَح عند زوال الشمس فلا تُرْتَج حتى تُصَلَّى الظهر فأحب أن يُسْعَدَ لي في تلك الساعة خير قلت أفي كلهن قراءات قال نعم قلت هل فيهن تسليم فاحصل قال لا۔ قال حدثنا أحمد بن منيع قال حدثنا أبو معاوية قال حدثنا عبيدة عن إبراهيم عن سحم بن منجاب عن قزع عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه۔ تو فرمایا کہ آپ علیہ السلام زوال کے وقت چار رکعت پڑھتے تھے، یہ فرق بات آ گئی یہ چاشت کی بات نہیں ہو رہی۔ زوال کے وقت، زوال کے وقت تو منع ہے زوال کا جو ہی وقت ختم ہو اس کے فوراً بعد اور بہت اہتمام فرماتے تھے، آپ نے فرمایا ابوی بن انصاری کہتے ہیں میں نے عرض کیا آپ ان چار رکعتوں کا بہت اہتمام فرماتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ آسمان کے دروازے زوال کے وقت سے ظہر کی نماز تک کھلے رہتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی کار خیر اس وقت آسمان پر پہنچ جائے۔ میں نے عرض کیا کہ ان کی ہر رکعت میں قرأت کی جائے گی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں قرأت کی جائے گی۔ میں نے عرض کیا کیا کہ ان میں دو رکعت پر سلام پھرا جائے گا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں چاروں رکعات ایک ہی سلام سے ہونی چاہئیں تو بتایا کہ چار رکعت ہے زوال کے بعد پڑھتے ہیں regular پڑھتے ہیں تو یہ کون سی نماز ہوئی؟ یہ ظہر کی سنت موقتہ ہے یہ ظہر کی چار رکعتیں وہ ہیں۔ صوفیاء کرام نے اس کا نام صلاة الزوال رکھا ہے اور اسے مستحب نمازوں میں شمار فرماتے ہیں جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک اس سے مراد ظہر کی چار سنتیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ظہر کی سنتوں کے علاوہ زوال کے بعد ایسی کوئی اور نماز نفل کی ہے ہی نہیں جسے آپ علیہ السلام نے باقاعدگی سے پڑھا ہو۔ اس میں بھی اور اگلی حدیث میں بھی جس بات نماز کا ذکر ہو رہا ہے اس کا تعلق تو چاشت کی نماز سے ہے ہی نہیں تو سوال ہی پیدا ہوتا ہے کہ پھر امام ترمذی نے اس حدیث کو چاشت کے chapter میں کیوں رکھا ہے؟ اس حدیث کو چاشت کے chapter میں کیوں رکھا ہے؟ جبکہ نفل نماز والے باب جو ہے پیچھے گزر چکا ہے۔ تو ایک اس کی وجہ یہ ہے کہ چاشت کا یہ آخری وقت ہے اس لیے طبعی طور پر اسے اسی میں شامل کر لیا گیا اور الگ سے ایک chapter نہیں لکھا۔ جبکہ دوسری رائے یہ کہ بعض یہ کاتبین نے غلطی کر دی کہ اس حدیث کو پچھلے chapter میں لکھنے کی بجائے اس chapter میں لکھ دیا۔ دوبارہ یہ نماز چاشت کی نہیں ہے۔ اور بھی قال حدثنا محمد ابن مسنہ قال حدثنا اچھا ایک بات اور، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے علماء خاص طور پر جو حدیث کی کتاب، فقہ کی کتاب لکھنے والے، یہ بہت منظم تھے ہر چیز میں۔ حتی کہ جب کتاب بھی لکھنی ہے تو ایک ایک chapter ایک ایک ترتیب اتنی زیادہ انہوں نے اس کا خیال رکھا کہ جب کہیں ترتیب نہ نظر آئی تو اس پر علمائے نے باقاعدہ بحث کی کہ اس جگہ خاص طور پر ترتیب کی چھوٹ گئی۔ اس کا مطلب ہے ہر چیز بہت منظم تھی۔ اور بھی قال حدثنا محمد ابن مسنہ قال حدثنا ابو داؤد قال حدثنا محمد ابن مسلم ابن ابی الوداع ان عبد الکریم الجزری ان مجاہد ان عبد اللہ ابن السائب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی اربعا بعد ان تزول الشمس قبل ظہر وقال ان ساعة تفتح ابواب السماء فاحب ان يصعد فیها عمل صالح۔ عبد اللہ ابن السائب رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ نبی علیہ السلام زوال کے بعد ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی عمل صالح اس وقت بارگاہ عالی تک پہنچے۔ مفتی شفیع صاحب رحمة اللہ نے غالباً فرمایا یا ان کے کسی صاحبزادے نے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے فرمایا کہ جو بھی اچھا خیال آتا ہے کسی نیک کام کرنے کا وہ مہمان ہوتا ہے۔ تو مہمان کا اگر اکرام کرو گے مہمان بار بار آئے گا اور اگر اکرام نہیں کرو گے تو وہ نہیں آئے گا بار بار۔ تو اسی لیے جب کوئی اچھا خیال آئے نیکی کا تو اس کو کر دینا چاہیے。 شیطان ہمیں کیا کہتا ہے کہ چلو اب کل کر لیں گے، دیکھ بڑا ٹائم بڑا فرض تھوڑی ہے۔ تو بجائے اس کے کہ وہ کام جو ہم کر رہے ہیں اس وقت اگر کوئی بہت اعلی کام نہیں ہے، فارغ بیٹھے ہیں، فرصت ہے تو اس وقت کو invest اچھی جگہ invest کرنا چاہیے。 ہر سانس جو ہم لیتے ہیں ہمیں موت کے قریب لے جا رہا ہے۔ یہاں کی زندگی فانی ہے، قیامت کی زندگی باقی ہے اور وہ باقی زندگی کی quality کیسے ہوگی؟ یہ سب ہمارے اعمال پر dependent ہے۔ تو جس قدر ہم جیسے فٹ بال میچ ہے نا نوے منٹ کی گیم ہوتی ہے۔ مستقل کھلاڑی کوشش کر دیتے ہیں کہ ہر لمحہ، ہر منٹ، ہر سیکنڈ کے کسی طرح گول میں بال پہنچا دیں۔ حتی کہ میچ جیت بھی رہے ہوں تب بھی کوشش تو جاری رہتی ہے نا۔ بھئی تین زیرو ہو گیا، چار زیرو ہو گیا ہے۔ کوشش اگر ادھوری رہ جائے تو جیسے ابھی ایک ہماری مسلمان ٹیم ہاری تھی semi final میں اس طریقے سے آخر میں آ کے میں نے دیکھا تو نہیں بس خبروں میں کہیں دیکھا تھا ارجنٹینا سے ہارے تھے نا۔ ہاں وہ کیا ہوا تھا جیت گئے تھے لیکن شاید انہوں نے کہا اب کام ہو گیا تو آخر میں آ کے ہار گئے۔ تو بات یہ ہے کہ جس طرح فٹ بال اسٹیڈیم میں کھلاڑی کو نوے منٹ ہیں، اس نے کہا بھئی ہر لمحہ جو ہے وہ میرے لیے اہم ہے، میں نے اس کو ضائع نہیں کرنا۔ اسی طریقے سے مسلمان کی زندگی ایسی ہے کہ وہ ضائع نہیں ہونی چاہیے، ہاں راحت بیچ میں چاہیے، آرام چاہیے، طبعی تقاضے ہیں تو وہ بھی مسنون طریقے سے کرو تو وہ، وہ بھی بھاری اعمال بن جائیں گے ان شاء اللہ قیامت کے دن جو فائدہ پہنچائیں گے لیکن ضائع کرنا وقت کو فارغ بیٹھے رہنا یہ بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے استاد فرماتے تھے کہ بعض لوگ کہتے ہیں جی ہم bore ہو رہے ہیں، آج کل boredom کا بڑا مسئلہ ہے۔ کہ bore ہونے کا مطلب ہے انسان کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہے۔ ورنہ تو جوں ہی اسے وقت فارغ ملےے گا وہ تو اپنے مقصد کی طرف اس کو لگائے گا، سوچے گا، اپنے self reflection کرے گا، محاسبہ کرے گا، planning کرے گا لیکن آج ہم فوراً bore ہو جاتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے زندگی کا مقصد نہیں ہے، اس لیے bore ہو رہے ہیں۔ بوریت محسوس کرنے کا مطلب ہے یا تو زندگی کا مقصد نہیں ہے، زندگی میں کوئی تعلقات بھی نہیں ہیں لوگوں سے، رشتہ داروں سے، ہمسایوں سے تو اسی لیے ہم bore ہو جاتے ہیں۔ اور دوسرا ایک وجہ بھی ہے کہ ہم اتنا entertainment کا عادی ہو گئے ہیں کہ جس چیز میں ہمیں مزہ نہ آ رہا ہم فوراً bore ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ کوئی خطیب بیان کر رہا ہو تو ہم یہ بھی comment کر دیتے ہیں بھئی بڑا boring بیان تھا [ہنسی] کیونکہ ہم نے اس کو بھی entertainment بنا لیا۔ اللہ اکبر کبیرہ۔ آخری حدیث و بھی قال حدثنا ابو سلمة یحیی ابن خلف قال حدثنا عمر ابن علی المقدمی ان مسعل ابن کدام ان ابی اسحاق ان عاصم ابن دومرہ عن علی رضی اللہ تعالی عنہ انه کان یصلی قبل ظہر اربعا و ذکر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلیها عند زوالها و یمد فیها۔ علی رضی اللہ تعالی عنہ ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان چار رکعت کو پڑھتے تھے اور ان میں طویل قرأت پڑھتے تھے یعنی ظہر کی چار سنتیں ہیں۔ امام غزالی رحمة اللہ نے اپنی کتاب احیا علوم الدین میں بیان فرمایا ہے کہ ان چار رکعتوں میں سورہ بقرہ یا اس کی مانند کوئی ایسی سورت پڑھنا مستحب ہے جو سو سے زائد آیات پر مشتمل ہو تاکہ طویل تلاوت کے سلسلے میں نبی علیہ السلام کی ایک سنت پر عمل ہو سکے، حافظ کے لیے آسان ہے یہ کام کرنا۔ اچھا اب اگلا جو باب ہے باب الصلاة التتبع فی البیت کہ آپ علیہ السلام نفل جو ہے وہ گھر میں پڑھا کرتے تھے اس روایت باب میں ایک ہی حدیث ہے۔ حدیث یہ ہے و بھی قال حدثنا عباس الانبری قال حدثنا عبد الرحمن ابن مدین عن معاوية ابن صالح عن الای بن الحارث عن حرام ابن معاوية عن امہ عبد اللہ ابن سعد رضی اللہ تعالی عنہ قال سألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الصلاة فی بیتی و الصلاة فی المسجد قال قد ترى ما أقرب بيتي من المسجد فليصليا في بيتي أحب إلي من أن أصلي في المسجد إلا أن تكون صلاة مكتوبة سبحان الله عبد الله بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ نفل نماز مسجد میں پڑھنا افضل ہے گھر میں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے یعنی میرے لیے تو مسجد میں آنا کوئی مشکل ہی نہیں ہے۔ بالکل دروازہ کھولو تو کھولو تو مسجد ہے۔ تو فرمایا لیکن اس کے باوجود میں فرائض کے علاوہ نماز اپنے گھر میں ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ فرائض کے علاوہ مجھے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھنا زیادہ پسند ہے۔ تو نوافل کی ادائیگی گھر میں کرنا زیادہ افضل و بہتر ہے اور اس میں اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک تو آپ علیہ السلام نے ترغیب بھی دی ہے خود بھی عمل فرمایا۔ اس کے مختلف فائدے ہیں ایک فائدہ تو یہ ہے کہ نماز کی برکت سے گھر میں برکت پیدا ہوتی ہے، گھر نور سے بھرے گا، گھر میں اللہ کا ذکر ہوگا۔ اور دوسرا ہے کہ گھر کے اولاد بچے بیوی یہ سارے یہ نماز سیکھیں گے۔ ان کے اندر ایک ترغیب پیدا ہو گی۔ ماحول پیدا ہو گا اور کیونکہ مرد ہی کے ذمہ میں اولادوں کی بیوی کی تربیت بھی ہے تو اس کا ایک ماحول بنے گا۔ البتہ جیسے میں نے پچھلی بار عرض کیا تھا کہ اگر گھر دور ہے مسجد سے تو اور لگتا ہے کہ distraction ہو جائے گی تو نوافل یا سنتیں وہیں پڑھ لی جائیں اور اگر قریب ہے تو بہتر ہے کہ گھر ہی میں پڑھی جائیں ایک اور وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ گھر میں مسجد میں ظاہری بات ہے نبی علیہ السلام صحابہ آپ علیہ السلام سے ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنا چاہتے تھے تو جماعت کی نماز تو چونکہ فرض ہے اور وہ پڑھنا وہیں پر افضل ہے اسی طرح اور ہر وہ نماز جو جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے تراویح کی ہو گئی یا صلاة الكسوف والكسوف سورج گرہن اور چاند وغیرہ کی جو نمازیں ہیں۔ تو وہ نمازیں جو ہیں وہ تو وہاں پڑھی جائیں گی مسجد میں اس کے علاوہ باقی گھر میں چونکہ نوافل کی بنیادی بنیاد پوشیدی اور پردہ داری پر ہے انسان کا اور اللہ کا معاملہ ہے اس لیے انہیں گھر میں ادا کرنا زیادہ بہتر ہے لیکن کامل پوشیدگی حاصل ہو سکے اور انسان تاکہ کامل پوشیدگی حاصل اور انسان ریاکاری سے بچے البتہ فرائض کو تو چھپانا ناپسندیدہ ہے ان کی مسجد میں ادائیگی پر زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح ان نمازوں میں کعبہ کے طواف کے بعد کی جو رکعتیں ہیں صلاة التراویح یہ بھی آپ وہیں پہ مسجد میں پڑھیں گے چھپ کے تو نہیں پڑھیں گے۔ اگرچہ تراویح فرائض بنیں گے لیکن یہ رمضان مبارک کی خاص خصوصیت اور اسے بھی بعد جماعت ادا کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح جو سورج گرہن کی نماز ہے اسے اعلانیہ طور پر پڑھا جاتا ہے یہ مستحب طریقہ ہے تو یہ تو اعلانیہ پڑھی جائیں گی باقی بہتر ہے کہ گھر میں پڑھیں۔ اور جیسے پہلے عرض کیا تھا ایک دفعہ کہ اخلاص کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان تنہائی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اخلاص کی علامت یہ ہے کہ جب اسے کوئی نہیں دیکھ رہا تو مخلص ہے بندہ کہ نہیں ہے۔ تو دیکھیں تنہائی میں عبادت کرتا ہے کہ نہیں کسی پر آپ کو شک ہو جانا ایجنٹ تو نہیں ہے کسی کا تو check کریں کیونکہ جب اکیلا ہوتا ہے تو عبادت کرتا ہے کہ نہیں لوگوں کے سامنے تو شاید پہلی صف میں آیا ہو لیکن اکیلے میں پتہ چلے گا کہ اللہ کی عبادت کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے تعلق ہے۔ ایک وجہ میں عرض یہ کر رہا تھا آخری بات پھر انشااللہ درس ختم کرتے ہیں کہ گھر میں جب آپ علیہ السلام مسجد تشریف لے آتے تھے صحابہ کے سوالات ہوتے تھے ملاقاتیں ہوتی تھیں بہت کچھ ہوتا تھا۔ جبکہ گھر میں یکسوئی ہوتی تھی تو یکسوئی بھی ایک مقصود چیز ہے کہ انسان جو ہے وہ بالکل توجہ کے ساتھ presence of mind کے ساتھ نماز پڑھے presence of mind پر جو میں نے آپ کو بہت دفعہ پہلے بھی ذکر کیا ایک کتاب ہے نیچے ہمارے کتب خانے میں ملتی ہے۔ When Hearing Becomes Listening شیخ میکائل احمد کی بہت کمال کی کتاب ہے اس کا ایک ایک صفحہ قیمتی ہے۔ تو اس کو آپ اور چھوٹی کتاب ہے ڈیڑھ سو صفحے سے بھی کم ہے اس کو لازمی پڑھیں اپنے اس کے نتیجے میں آپ کا اللہ سے تعلق اپنے گھر والوں سے تعلق اپنی اولاد سے تعلق دوستوں سے تعلق بہت بہتر ہو گا۔ اس میں communication اور تعلق کے جو طریقے انہوں نے نقل کیے ہیں قرآن و حدیث سے بھی ثابت کیا اور جدید Psychology کے اصولوں کے تحت بھی اس کو بہت شاندار انداز میں انہوں نے بیان کیا ہے۔ تو اس میں انہوں نے ایک پورا اچھی خاصا بات اس موضوع پر کی ہے کہ presence of mind کتنا important ہے ہمارا ہمارے لیے گفتگو میں بھی اور اللہ کے ساتھ تعلق میں بھی۔ تو اللہ کے ساتھ تعلق میں بھی presence of mind کے لیے ظاہری بات ہے شور شرابا یہ ساری چیزیں نہ ہوں۔ تنہائی ہو میسر اکیلا ہو بندہ اور توجہ سے اللہ کی طرف پورے طرف توجہ ہو اور پھر نماز پڑھے تو اس کا زیادہ فائدہ ہو گا تو یہ بھی ایک وجہ معلوم ہوتی کہ آپ علیہ السلام نوافل کو گھر میں ترجیح پڑھنا گھر میں پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اللہ سے دعا اللہ تعالی ہمیں بھی عبادات کا ذوق عطا فرما دے اللہ تعالی ہمیں نبی علیہ السلام کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما دیجیے کسی کا کوئی سوال ہو تو کر لیں ورنہ پھر انشااللہ دعا کر لیتے ہیں۔ بہت اچھا سوال کیا آپ نے صلاة الأوابین اوابین کا مطلب ہے کہ رجوع کرنے والے یعنی توبہ کرنے والے اللہ کی طرف آنے والے۔ تو صلاة الأوابین کا لفظ شاست کے لیے بھی استعمال ہوا ہے بعض جگہوں پہ جبکہ مغرب کے بعد کی ان چھ رکعتوں کو اللہ سے مذکور ہے۔ یعنی یہ مراد اس سے کہ وہ لوگ اس نماز کو پڑھتے ہیں جو اللہ کی طرف آنے والے لوٹنے والے ہیں۔ جو مغرب کے بعد ہیں اس کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ چھ رکعت جو مغرب کے بعد پڑھے گا اوابین اس کو بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے جو قاری طیب صاحب کی تقریب میں میں نے پڑھا انہوں نے عمرے اور حج کے بارے میں لکھا کہ جیسے ایک لاکھ نماز کا ثواب ملتا ہے نا حرم میں ایک نماز کا تو انہوں نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جتنا روحانی ترقی ایک لاکھ نمازوں سے پڑھنے سے ہوتی ہے، اتنی روحانی ترقی وہاں ایک نماز پڑھنے سے ہو سکتی ہے۔ تو گویا بارہ سال کی عبادت کے ثواب کا ایک معنی بھی ہے کہ جتنی روحانی ترقی بارہ سال کی عبادت کے ساتھ ہوتی ہے تو ایک وابین جو پڑھے چھ رکعت اس کو اتنی ترقی بھی ملے گی۔ اب اس چھ رکعت کی کیا طریقے اس میں مختلف آراء علما کی موجود ہیں کہ ایک ہے دو سنت پلس چھ، آٹھ ہو گئیں第二个 ٹو پلس فور، دو سنت وہ بھی شامل ہوں گی اس میں اور چار پڑھ لیں اور اس کے ساتھ ایک اور چیز اگر آپ اضافہ کر لیں، صرف آپ کی روٹین میں دس سے پندرہ منٹ کا فرق آئے گا۔ ایک اس میں اور اضافہ یہ کر لیں کہ سورة واقع ساتھ پڑھ لیں، سورة الواقع۔ آیتیں تو نوے کے قریب ہیں لیکن بہت مختصر سورت ہے، دو صفوں کی سورت ہے، دو ڈھائی صفحے کی اور یاد بھی ہو جائے گی آپ اگر پڑھنا شروع کریں گے اور سورة الواقع جو ہے یہ حدیث میں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ جو اس کو مغرب کے بعد پڑھتا ہے اس کو فقر اس کو نہیں پیش آئے گا۔ اور فقر سے یہاں دونوں چیزیں مراد ہیں، فقر حقیقی بھی اور فقر صوری بھی یعنی خوف فقر کا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ہم نے بعض دیکھا لوگ بہت مالدار ہیں لیکن پھر بھی پریشان رہتے ہیں کہ ہمارا مال ضائع نہ ہو جائے، اس خوف میں رہتے ہیں، پریشانی میں رہتے ہیں اور بعض جو حقیقی فقیر ہوتے ہیں اور بعض اوقات حقیقی فقیر کو اتنا پریشانی نہیں ہوتی جتنا وہ جس کو فقر کا خوف ہوتا ہے اس کو پریشانی ہوتی ہے۔ استغناء مانگنا ہے اللہ سے تو سورة واقع جو پڑھتا ہے نا ریگولر مغرب کے بعد ان شاء اللہ اس کا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور امریکہ میں زیادہ بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہر طرف دوڑ ہے پیسے کی اور ہر وقت مال کی محبت。 طلبہ خمیب کہتے ہیں کہ آپ طلبہ بھی پڑھتے ہیں مدرسوں میں، ان کے ذہن میں بھی ہر وقت پریشانی ہوتی ہے۔ اس دن ایک طالب علم نے مجھے کہا کہ وہ بہن کو بتا رہا تھا کہ کون کون سی کام ہیں جو امت کی ضرورت ہیں، communal needs ہیں، تو ان میں ہم نے مختلف شعبوں کا ذکر کیا، ڈاکٹری کا بھی ذکر کیا، کچھ معاشرے کو ڈاکٹر چاہیے، کچھ lawyer چاہیے، پھر میں نے کہا کچھ مفتی بھی چاہیے، تو طالب علم نیا تھا پہلے سال کا، تو کہتا ہے کہ فوراً اس نے جو پڑھا نا مفتی لکھا ہوا ہے، مفتی چاہیے، تو کہتا ہے کہ do they get paid؟ میں نے کہا no they eat grass، گھاس کھاتے ہیں وہ۔ تو بالکل ہم لوگوں کو بعض اوقات ان کے ذہن میں خوف رہتا ہے کہ پتہ نہیں دین پڑھ لیں گے یا دین کی خدمت کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟ تو بہرحال مراد یہ ہے کہ یہ خوف ہوتا ہے اور اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ شیطان آپ سے وعدہ کرتا ہے آپ کو فقر، فقر کا، آپ کو ڈراتا ہے، تو اس کا علاج سورة واقع ہے۔ اس کو دونوں combine کر لیں انسان اگر چھ رکعت یعنی سورة واقع یاد کر لے اگر اور ان چھ رکعتوں میں سورة واقع کی تلاوت کر لے تو two in one ہو جائے گا اور بہترین ان شاء اللہ اس کا فائدہ ہو گا۔ کسی نے لکھا ہے، سوال کیا ہے کہ گناہگار دل کو نرم کیسے کیا جائے؟ توبہ سے، اللہ کے ذکر سے، تلاوت قرآن سے، ایک چیز سے ان شاء اللہ نرم ہو جائے گا۔ تلاوت قرآن کی جائے اگر صحیح ترجمہ آپ کو مل جائے، مفتی تقی صاحب کا اردو انگریزی دونوں ترجمے بہت اچھے ہیں، اس کو، اس کو پڑھیں اور تسبیحات مسنون، استغفار، درود شریف، لا الہ الا اللہ، تیسرا کلمہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ والله اکبر صبح شام سو سو سو مرتبہ پڑھیں ان شاء اللہ اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں اور گناہوں کو چھوڑ دیں یعنی گناہ کے ذریعے کو چھوڑ دیں، یہ Netflix وغیرہ کی subscription، YouTube اور social media، اس کو چھوڑ دیں ان شاء اللہ تو دل نرم ہو جائے گا اور گناہوں کے ذریعے جو ہے نا وہ دل خاص طور پر سخت ہوتا ہے اور اس میں خاص زبان کا گناہ بہت اہم ہے، اس سے بھی دل سخت ہو جاتا ہے۔ جب ہم اپنے پہلے بچے کی، کو expect کر رہے تھے تو میں نے اپنے شیخ رحمۃ اللہ سے، ان کو message بھیجا کربلا شریف میں کہ حضرت کوئی ذکر بتا دیں میری اہلیہ کے لیے کہ وہ کریں تاکہ اولاد نیک پیدا ہو۔ تو فرمایا کہ ذکر وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بس یہ جتنے ہمارے یہاں معروف خاندانی جھگڑے ہوتے ہیں، غیبت، چغلی اور اس طرح کے جتنے مسائل ہیں زبان کے گناہ، ان سے بچیں تو ان شاء اللہ فوائد حاصل ہو جائیں گے۔ تو یہ چیزیں بھی جو ہیں وہ دلوں کو سخت کرتی ہیں۔ How to love Allah more creation less اللہ کی محبت مخلوق سے کیسے یعنی مخلوق کی محبت کیسے کم اور اللہ کی کیسے زیادہ ہو؟ تو پچھلی دفع بھی ہم نے یہاں ذکر کیا تھا کہ وہ، وہ پڑھتے رہیں، ہر نماز کے بعد ایک دفعہ پڑھ لیں لا مرغوبی الا اللہ، لا مطلوبی الا اللہ، لا مقصودی الا اللہ، لا محبوبی الا اللہ، لا معبودی الا اللہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ ایک دفعہ پڑھ لیں ہر نماز کے بعد لا، اردو کے بھی لفظ ہیں آسانی سے آپ پڑھ سکتے ہیں، مرغوب، مطلوب، مقصود، محبوب، معبود پانچ چیزیں ہیں۔ تو میرا کوئی مرغوب نہیں ہے اللہ کے سوا، میرا کوئی محبوب نہیں ہے، کوئی مطلوب نہیں ہے اللہ کے سوا۔ اسی طرح اللہ تعالی کی جو مخلوقات ہیں ان پر غور کر کے اللہ، اللہ تعالی کی طرف پہنچنے کی کوشش کریں، اللہ کا ذکر، اللہ کا تذکرہ زیادہ کریں، مخلوق کا تذکرہ کم ہو، ان چیزوں سے بھی اللہ کی محبت پیدا ہو گی۔ دارالسلام کے پچھلے سال فجر ٹیم فجر میں اللہ کے ننانوے ناموں پر پوری جو ہے وہ series چلی تھی، تو YouTube پہ مل جائے گی، اس کو سنیں، اللہ کے صفاتی ناموں کی جب تفصیل آپ سن پڑھیں گے تو اس سے اللہ کی محبت پیدا ہو گی اور پھر اللہ ملتا ہے اللہ والوں سے، اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھیں اور اس سے مخلوق کی محبت کم ہو جائے گی۔ البتہ بعض مخلوق کی محبت ایسی ہی ہے کہ جو مطلوب ہے لیکن وہ اللہ کی محبت کے تابع ہو جیسے والدین کی محبت ہے، اولاد کی محبت ہے، بیوی مطلب میاں بیوی کی ایک دوسرے سے محبت ہے، یہ تو مقصود ہے، یہ محبت نہیں ہو رشتے کیسے قائم ہوں گے؟ لیکن یہ محبت اللہ کی محبت کے تابع ہے۔ یہ جو معروف حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس کو میں حضور نے اپنے بارے میں فرمایا، جب کہ جب تک میں اس کے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اور كما قال علیہ الصلاة والسلام بھی بچوں سے دنیا بھر کی چیزوں سے تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا تھا کہ کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو ایسا feel نہیں کر رہا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کیمل الامہ نے اس کا بڑا زبردست جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں محبت کی دو قسمیں ہیں ایک ہے محبت عقلی، ایک ہے محبت طبعی۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ بعض لوگ بلا وجہ confused ہو جاتے ہیں، پریشان رہتے ہیں کہ پتہ نہیں ہم بھی ابھی محسوس تو نہیں کر رہے اللہ سے اور اس کے نبی سے محبت تو پتہ نہیں ہم کہیں محروم تو نہیں ہیں。 تو کہا ایک ہے محبت عقلی، ایک ہے محبت طبعی۔ طبعی مطلب طبیعت کا جو ملان ہوتا ہے۔ تو کہا یہ جو حضور علیہ الصلاة والسلام نے شرط بتائی نا کہ اتنی محبت میری سے میری میری محبت سب سے زیادہ ہو مخلوق میں تو محبت عقلی مراد ہے۔ یعنی جب میں سوچوں کہ کس سے زیادہ محبت کرنی چاہیے تو جواب حضور علیہ الصلاة والسلام اور اللہ اس سے اوپر ہے۔ تو یہ ہے محبت عقلی یعنی جب عقل سے سوچوں کہ محبت انسان کسی وجہ سے کرتا ہے نا کسی کی شکل صورت پسند ہے، اخلاق کردار پسند ہے، کسی نے تحفہ دے دیا تو اس سے محبت ہو جائے گی، اچھا کوئی پیش آ گیا مشکل میں اس سے محبت ہو جائے گی تو محبت صفات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب انسان سوچے سب سے اچھی صفات کس کی ہیں؟ اللہ تعالی کی مخلوق میں کس کی ہیں؟ نبی علیہ الصلاة والسلام کی تو عقل آپ کو وہاں لے جائے。 تو فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جو اشکال کیا اور آپ علیہ الصلاة والسلام نے پھر ان کے سینے پر ہاتھ رکھا، وہ کیا تھا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کیفیت حاصل ہو گئی کہا اس سے محبت عقلی تو حضرت عمر کو پہلے بھی حاصل تھی لیکن اس سے محبت عقلی محبت طبعی میں تبدیل ہو گئی۔ محبت طبعی میں تبدیل ہو گئی۔ تو اسی طرح کیونکہ کیفیات ایسی ہیں کہ اس میں انسان کو پوچھ نہیں ہے۔ کیفیات معتبر نہیں ہاں انسان کو مانگنا چاہیے اللہ میری کیفیات بنے یعنی کسی موقع پر انسان کو بیوی سے محبت سب سے زیادہ ہو رہی ہو گی، کسی موقع پر ماں کے لیے وہ رو رہا ہو گا، کسی موقع پر اپنے بچوں کے ساتھ سب سے زیادہ وہ اس کی کیفیت بنی ہو گی اور کسی وقت نماز میں اس کی کیفیت بنی ہو گی تو کیفیات تو بدلتی رہتی ہیں۔ یہ variable ہے اللہ کی رحمت ہے اللہ نے نہیں کہا کہ ہر وقت میرے ہی کیفیات میں رہو۔ ہاں عقلی طور پر جب سوچو تو تمہیں اللہ جواب تمہارا اللہ ہونا چاہیے。 تو باقی قرآن، ذکر، تلاوت، ان شاء اللہ گناہوں سے بچنا اور اللہ کا اللہ کی صفات بیان کرنا، اس سے اللہ کی محبت بڑھے گی۔ جماعت میں جو لوگ جاتے ہیں تو لیگ میں اس میں انسان ایک چیز یہ سیکھ لیتا ہے کہ اللہ کا نام لینا، اللہ کا ذکر کرنا آ جاتا ہے۔ اللہ سے دعا اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسول کریم ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکنن من الخاسرین رب اغفر وارحمنا انت خیر الراحمین لا الہ الا انت سبحانک انا کنا من الظالمین یا اللہ! یا اللہ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما یا اللہ محبت عقلی بھی عطا فرما، محبت طبعی بھی عطا فرما یا اللہ اپنے حبیب کی محبت عطا فرما یا اللہ محبت محبت ایسی عطا فرما جو کہ صرف دعوائے محبت نہ ہو بلکہ اللہ حقیقی محبت ہو اور آپ علیہ الصلاة والسلام کے طریقوں پر عمل پیدا کرنے عمل پر ہونے کی توفیق عطا فرما。 یا اللہ! گناہوں سے سو فیصد نجات عطا فرما。 سچی پکی توبہ کی توفیق عطا فرما۔ گناہوں کے جو sources ہیں یا اللہ ان سے بھی ہمیں نجات عطا فرما یا اللہ! یا اللہ! امت مسلمہ کی حفاظت فرما، حرمین کی شریفین کی حفاظت فرما یا اللہ! مکہ مکرمہ کی مدینہ منورہ کی حفاظت فرما یا اللہ! جو ان کی طرف مہلی نگاہ سے دیکھے یا اللہ آپ اس کے لیے کافی ہو جائیں یا اللہ! امت مسلمہ کو یا اللہ مضبوط و متحد فرما یا اللہ! امت مسلمہ کو مضبوط و متحد فرما یا اللہ! امت مسلمہ کو مضبوط و متحد فرما یا اللہ! اتفاق و اتحاد نصیب فرما، محبت عطا فرما یا اللہ! جو جو جو جس کی پریشانی ہے وہ حل فرما دیجیے یا اللہ مشکلات آسان فرما دیجیے یا اللہ! زندگی آپ علیہ الصلاة والسلام کے طریقوں پر گزرے اور یا اللہ جب موت آئے تو زبان پر کلمہ جاری ہو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ وصلی اللہ تعالی علی خیر الخلق محمد وعلی آلہ واصحاب اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین。
یہ چاشت کی اور یہ صلاة الضحىٰ کے حوالے سے سب سے معروف ترین مشہور روایت یہ ہے، ہم سیرت میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ عبد الرحمن ایک تاویخ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا اور کسی نے آپ علیہ السلام کی صلاة الضحىٰ کی خبر نہیں پہنچائی یعنی اپنی ذات کا ذکر کر رہے ہیں کہ مجھے انہوں نے خبر پہنچائی۔ البتہ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس روز جس دن مکہ مکرمہ فتح ہوا تھا، ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور غسل فرما کر آٹھ رکعات نماز پڑھی۔ میں نے ان آٹھ رکعات سے زیادہ مختصر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، لیکن باوجود مختصر ہونے کے رکوع سجود پورے پورے فرما رہے تھے۔ مراد مختصر سے یہ کہ چھوٹی سورت پڑھی اور البتہ باقی سارے ارکان صحیح طریقے سے ادا کیے، یہاں جلدی جلدی ادا کرنے سے وہ جلدی مراد نہیں جیسے ہم مانچاتے ہیں اور کوئی رکن بعض اوقات miss ہو جاتا ہے یا کمزور ہو جاتا ہے، ایسا نہیں تھا یعنی سورتیں چھوٹی پڑھی اس میں اور مختصر وقت میں اس کو مکمل فرما دیا۔ یہ موقع تھا فتح مکہ کا اور یہ عجیب شانتی آپ علیہ السلام کی عاجزی کا اعلیٰ نمونہ تھے، لوگ جب کوئی چیز فتح کرتے ہیں، ملکوں کو تو چھوڑیں آج کل ایک میچ فتح کرتے ہیں، ایک میچ جیت جاتے ہیں تو کس متکبرانہ انداز میں election جیت جاتے ہیں تو کس متکبرانہ انداز میں اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں، تو آپ علیہ السلام نے تو مکہ فتح کیا جہاں سے نکالے گئے تھے اور آٹھ سال کی قلیل مدت میں واپس آ گئے اور جب واپس تشریف لا رہے تھے مکہ میں تو گردن اتنی جھکی ہوئی تھی کہ گویا داڑھی مبارک جو ہے وہ اونٹ کے جو کوہان ہیں اس پر لگ رہی تھی اور قرآن کی آیت تلاوت فرما رہے تھے اور شکرانے کی بعض نے اس کو صلاة الشکر بھی کہا ہے کہ یہ صلاة یہ فتح حاصل کرنے کے بعد کی نماز ہے تو اس لیے مسلم فاتحین نے جب بعض میں اور محاذوں پر فتح حاصل کی تو وہ صلاة جو شکرانے کی نفل پڑھتے تھے ان میں سے وہ بعض اوقات اگر اس وقت یعنی موقع ملتا تھا چاشت کے وقت تو وہ اس سنت کو بھی دہراتے تھے کہ کوئی علاقہ فتح کیا تو پھر پہلے شکرانے کی نماز ادا کی۔ تو مسلمانوں کا ایک ہی طریقہ ہے، ہمارے یہاں بعض اوقات کوئی کرکٹر century بنا لیتا ہے تو یا پانچ وکٹیں لے لیتا ہے تو سجدہ کرتا ہے وہ شکرانے کا، تو بعض ہمارے liberal لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ بھائی یہ نماز ادھر دین کہاں سے آ گیا؟ تو ان کے جو ہمارے دیسی liberal ہوتے ہیں جو اپنی عقل تو ویسے استعمال نہیں کرتے، جو بھی ایسی چیزیں لیتے ہیں وہ بعض اوقات import کرتے ہیں اوروں سے، تو ان کا کیا علاج کیا جائے؟ دوائی مانگی جا سکتی ہے۔ تو ام ہانی کے گھر کیوں گئے؟ سوال یہ ہے، ام ہانی کون ہے؟ اب تو سیرت پڑھی ہوئی آپ لوگوں نے آپ لوگوں سے چھوٹا quiz بھی لے لیتے ہیں۔ ام ہانی کون ہیں؟ ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت علی کی بہن ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن ہیں، ان ہو کی بہن ہیں۔ یہ ان کا نسب ہے، ابو طالب کا family tree۔ ابو طالب کی بیگم تھی فاطمہ بنت اسد بن ہاشم اور ابو طالب تو مسلمان نہیں ہوئے تھے، فاطمہ مسلمان ہو گئی تھیں اور ہجرت بھی کی اور نبی علیہ السلام نے ان کا جنازہ بھی پڑھایا اور دفنانے کے وقت بہت رنجیدہ تھے کیونکہ فرمایا کہ یعنی وہ یاد کر رہے تھے جب میں اپنے اپنے teenage میں تھے اور دادا والد اور دادا کے انتقال کے بعد جب چچا کے گھر رہتے تھے تو چچی ہی تھیں جو اپنے بچوں کے ساتھ ان کا خیال رکھتی تھیں، کھانا پلانا، کپڑے ساری چیزوں کا خیال فاطمہ بنت اسد رکھا کرتی تھیں، تو آپ علیہ السلام نے دفناتے ہوئے بہت ان چیزوں کو یاد کیا، تو ان کی شادی سے ابو طالب اور فاطمہ کی شادی سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، طالب اسی وجہ سے ابو طالب کہلائے، پھر عقیل اور پھر جعفر اور علی اور ام ہانی اور جمانہ۔ یہ دو بہنیں تھیں، ام ہانی کی شادی ہوئی، ام ہانی کا جو اصل نام ہے وہ فاقہ تھا یا ہند ہے، یہ دو روایت ملتی ہیں اور شادی ان کی ہوئی حبیرہ ابن ابی وهب ابن امر سے جو کہ بنو مخزوم کے تھے لیکن مسلمان نہیں ہوئے اور جمانہ، جمانہ جو ہیں ان کی شادی ہوئی ابو سفیان بن حارث، یہ ابو سفیان بن حارث جو ہیں یہ وہ ابو سفیان نہیں ہیں جو آ first شروع میں دشمن تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے، حضور ﷺ کے سسر بنے۔ یہ عبد المطلب کے جو سب سے بڑے بیٹے تھے یعنی حضور ﷺ کے سب سے بڑے تایا حارث، ان کے بیٹے تھے ابو سفیان۔ تو یہ حضور ﷺ کے کیا ہوئے؟ ابو سفیان جو ہیں یہ ان کا حضور ﷺ سے کیا رشتہ ہوا؟ cousin ہوئے، تو علی کے بھی cousin ہوئے اور جمانہ کے بھی cousin ہوئے تو اس معاشرے میں cousin marriage ہوا کرتی تھی۔ ٹھیک ہے، خدا علیہ الصلاۃ والسلام کی ایک بیٹی جو ہیں زینب، پہلی بیٹی، ان کی اپنی cousin سے شادی ہوئی، یہ بات اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ بعض اوقات میں نے نوجوان بچوں کو دیکھا ہے چونکہ Christian ملک میں رہتے ہیں امریکہ کے بعض علاقوں میں اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے تو وہ بھی معیوب سمجھنے لگ جاتے ہیں اس کو، تو ایسا نہیں ہے۔ ہاں کسی کی اور طبی وجوہات ہیں اور اس وجہ سے نئی خاندان اندر خاندان میں شادی کرنا چاہتے ہیں ایک الگ بات ہے لیکن فی نفس ہی یہ اس دور میں ہوتا تھا خود حضور ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی cousin سے کی۔ تو ام ہانی نے جو ہے وہ فتح مکہ روایت میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور ان کے گھر میں کیوں تشریف لے گئے تھے؟ کھانا بھی کھایا تھا یہ وہی ہم نے شروع میں بھی پڑھا ہے شمائل کے جب وہ کھانا منگوایا تو صرف سرکہ موجود تھا تو روٹی کے ساتھ سرکہ کھایا اور کہا کہ کیا یہ اچھا کھانا ہے، تو ایک تو وجہ یہ تھی کہ یہ گھر ان کا بالکل حرم کے قریب تھا یعنی فتح مکہ فتح ہوا، اب جب بندہ کس کے گھر جاتا ہے آپ کسی بھی شہر میں جائیں گے سب سے پہلے کس کے گھر جائیں گے؟ جب آپ کا قریبی رشتہ دار ہوگا تو اس کے گھر جائیں گے تو اپنے علاقے کے گھر وغیرہ تو ان لوگوں کے قبضہ کر لیے گئے تھے، ام ہانی بھی مکہ میں ہی تھیں اور حضرت علی کی بہن بھی ہیں اور فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نند بھی ہوئیں، سمجھی بات، تو اس اعتبار سے قریبی رشتہ تھا تو لہذا ان کے گھر تشریف لے گئے اور غسل بھی فرمایا، یہیں پہ کھانا بھی نوش فرمایا اور یہ نماز بھی پڑھی۔ بعد میں بھی بعض روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں اور اس کے، ان سے پہلے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بعض اوقات صحابہ اس طریقے سے خاص طور پر حضرت علی جب موجود ہوتے تھے تو ایسا روایت میں ملتا ہے کہ وہ پھر حضرت ام ہانی کے گھر تشریف لے آتے تھے۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے آ ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تو جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں آ میرے بچے ہیں اور چھوٹے ہیں اور میں یا تو آپ کے حقوق ادا نہیں کر پاؤں گی یا بچوں کے حقوق نہیں ادا کر پاؤں گی، تو بعد میں اچھا ظاہری بات ہے جب اسلام قبول کیا تو پچھلے شوہر سے تعلق بھی ٹوٹ گیا، بعد میں انہوں نے خود حضور ﷺ کو فرمایا کہ اب میں تیار ہوں شادی کے لیے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب تو آیت قرآن کے آ گئی کہ شادی صرف اسی سے تم کر سکتے، آپ کر سکتے تھے جس نے ہجرت کی ہے تو چونکہ آپ نے ہجرت نہیں کی ہوئی تو آپ کے ساتھ شادی نہیں ہو سکتی۔ تو پہلے جو شادی کی پیشکش فرمائی اس کی ایک وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسے آ ایک تو خاندان ابی طالب تھا اور ابو طالب جو ہے وہ خود تو اسلام نہیں لا سکے لیکن بہت زیادہ احسانات ہیں ان کے آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر تو کسی کا حضور ﷺ کی زوجیت میں آ جانا تو ان کو محت المومنین بنا دیتا ہے اور یہ بہت بڑا مقام ہے خواتین کے لیے، تو اس ذریعے سے گویا ان کے آ درجات بلند کرنے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ تو بہرحال یہ ایک اس میں کچھ تفصیلات ہیں، دل چاہتا ہے کہ بھی اس پر مزید تحقیق کی جائے کہ یہ سارا معاملہ کیا تھا، میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کیونکہ بعض orientalist نے یا آ ان لوگوں نے جو آداب کا خیال نہیں رکھتے اس کو بڑے غلط طریقے سے پیش کیا ہے ان باتوں کو، تو اس لیے اس کو درست انداز سے پیش کرنا بہت ضروری ہے، ایک جگہ میں انٹرنیٹ پہ پڑھ رہا تھا کسی نے لکھا ہوا ہے نعوذ بالله کہ first love story of Muhammad یعنی اپنے ان کے جو اس میں شاید نبوت سے پہلے کا واقعہ، تو اب اس کو تعبیر کس طرح کر رہے ہیں الفاظ کیا اختیار کر رہے ہیں، یہ ساری چیزیں ہیں جو سیکھنے سکھانے کی ہوتی ہیں اس لیے ان چیزوں کو کی تفصیل میں بیان اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ ہو سکتا ہے آپ کے سامنے بھی یہ چیزیں آئیں، تو یہ ایسا واقعہ ہوا تھا کہ ہجرت کے بعد آ فتح مکہ کے موقع پر انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کو پیشکش کی نکاح کی لیکن انہوں نے رد کر دی، پھر جب انہوں نے کہا کہ میں نے نکاح کے لیے تیار ہوں تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرما دیا کہ اللہ نے حکم دے دیا کہ اب اور کہ ہجرت جس نے نہیں کسی سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ یہ تقریباً پچاس ہجری سے آگے تک جیتی رہی ہیں یعنی پچاس ہجری تک بھی زندہ تھیں، چار بن کے بچے تھے جعدہ، امر، یوسف اور ہانی جس کی وجہ سے ام ہانی کہلائیں، چالیس کے قریب انہوں نے احادیث نقل کی ہیں اور ان کے شاگرد جنہوں نے ان سے حدیث نقل کی ان میں ان کے اپنے پوتے بھی شامل ہیں اور باقی مزید یہ حضرات بھی شامل ہیں۔ حدیث نمبر چار ابھی قال حدثنا ابن ابی عمر، قال حدثنا وکیع، قال حدثنا کاہمس عن، کاہمس ابن الحسن، عن عبداللہ ابن شقیق، قال قلت لعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اکان النبي ﷺ يصلي الضحی، قالت لا الا یجوء من مغیبہ。 حضرت عبداللہ ابن شقیق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کیا صلاة الضحی پڑھتے تھے؟ فرمایا کہ معمولاً تو نہیں پڑھتے تھے ہاں سفر سے جب لوٹتے تو ضرور پڑھتے تھے، اب یہ بظاہر پچھلی روایت سے بعد الٹی آ گئی یہاں پر مخالف آ گئی لیکن مخالفت ظاہری ہے حقیقی نہیں ہے。 اس کی جو تفصیل بیان کی مولانا ذکریہ کاندلوی رحم اللہ نے کہ جب بھی آپ علیہ السلام اپنے شہر مدینہ منورہ میں واپس تشریف لاتے تھے تو صبح کے وقت شہر میں داخل ہوتے۔ یعنی آپ کا معمول تھا کہ سفر سے واپسی سفر میں جاتے بھی تھے تو بالکل رات کا جو وقت ہے یعنی رات سے مراد ہے جو دن کے شروع کا وقت ہے یعنی طلوع فجر کے قریب قریب اس میں تشریف لے جاتے تھے۔ کیا فرمایا کہ زمین اس موقع پر سمیٹ دی جاتی ہے یعنی سفر آسان ہوتا ہے، برکت بھی ہوتی ہے صبح کے وقت میں۔ آج کے دور سے دیکھیں ٹریفک بھی کم ہوتی ہے۔ اچھا واپسی میں بھی ترتیب ہوتی تھی کہ کوشش ہوتی تھی کس طریقے سے پہنچیں شہر میں کہ صبح کا وقت ہو اور پھر گھر اطلاع بھی بھجواتے تھے کسی کے ذریعے کہ ہم یعنی قافلہ پہنچنے لگا ہے تاکہ خواتین وغیرہ گھر والے ہو تیار بھی رہیں تمام معاملات سیٹ ہو جائیں۔ یہ جو surprise دینے والا ہمارے یہاں culture ہے نا جو بعض اوقات دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے تو اس میں کچھ چیزوں کا احتیاط کرنا چاہیے。 تو پھر آپ علیہ السلام مسجد تشریف لے جاتے اور پھر نفل نماز ادا کرتے اور پھر اپنے گھر تشریف لے آتے۔ بہرحال یاد رہے کہ گھر بالکل متصل تھا تو ہم بھی جب اپنے کبھی شہر کسی اور جگہ سفر کریں اور واپس آئیں اور مسجد قریب بھی ہوں خاص طور پر تو اس کا اہتمام کرنا آسان ہے کہ آ کے بندہ یہ سنت زندہ کرے، مسجد میں آ کے نفل پڑھے اور بعد میں گھر چلے جائیں۔ تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ جواب بذائر اس جواب کے برعکس ہے جو ہم نے پہلے پڑھا کہ آپ علیہ السلام کا معمول تھا چار رکعت پڑھنے کا کم سے کم۔ تو اس کی وضاحت یہ ہے کہ امام بیقی رحم اللہ نے فرمایا کہ جس حدیث میں نفی ہے کہ نہیں پڑھا جیسا کہ ابھی ہم نے یہ حدیث پڑھی، اس سے مراد ہے کہ اس کی پابندی نہیں تھی یعنی جیسے باقی بعض نمازیں جن کو ہم سنت موقتہ بھی کہتے ہیں، ان کی پابندی تھی اس کی پابندی نہیں تھی جیسے تہجد کی پابندی تھی، جس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کبھی کبھار نہیں پڑھتے تھے۔ اور جہاں پر اس بات کا ذکر ہے وہاں مراد یہ کہ اکثر پڑھا کرتے تھے。 دوسری بات جو بعض علماء نے بیان کی ہے کہ یہ جو نفی کی ہے یہ اس چیز کی ہے کہ مسجد میں صرف اسی وقت صلاة الضحی پڑھتے تھے جب سفر سے واپس آتے تھے ورنہ مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ ایک اور روایت آ رہی ہے اگلے باب کی کہ آپ علیہ السلام نوافل عموماً گھر میں پڑھا کرتے تھے تو گویا نفی یا تو اس چیز کی ہے کہ regular نہیں پڑھتے تھے، کبھی کبھی پڑھتے تھے یا پھر یہ کہ مسجد میں صلاة الضحی صرف تب پڑھتے تھے جب سفر سے واپس آتے تھے۔ حدیث نمبر پانچ، قال حدثنا زياد بن أيوب البغدادي قال حدثنا محمد بن ربيعة عن فضيل بن مرزوق عن عتية عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى حتى نقول لا يدعها ويدعها حتى نقول لا يصليها。 ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام صلاة الضحی کبھی تو اس قدر اہتمام سے پڑھتے تھے کہ ہم لوگوں کو یہ خیال ہوتا کہ اب کبھی نہیں چھوڑیں گے اور آپ علیہ السلام کبھی فرض ہونے کے خوف سے یا کسی اور مشقت سے ایسا چھوڑتے تھے کہ ہمیں لگتا تھا کہ کبھی دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔ تو یعنی اس میں سہولت کے بقدر بہت بہت جو ہے وہ آپ علیہ السلام کبھی پڑھتے کبھی نہ پڑھتے۔ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی رعایت اور ہمدردی کے پیش نظر بہت سے مستحب اور نفی اعمال ترک بھی فرماتے تھے جس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں نبی علیہ السلام بعض کاموں کو کرنا بہت پسند فرماتے تھے لیکن اس خوف سے انہیں ترک کر دیتے تھے کہ کہیں وہ امت پر فرض نہ ہو جائیں۔ تو اس لیے امت کی ان چیزوں کی بہت رعایت بھی کی۔ قال حدثنا أحمد بن منيع عن هشيم قال حدثنا عبيدة عن إبراهيم عن سحم بن منجاب عن قرفع الضبي أو عن قزع عن قرفع عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يدمن أربع ركعات عند زوال الشمس فقلت يا رسول الله إنك تدمن هذه الأربع ركعات عند زوال الشمس فقال إن أبواب السماء تُفتَح عند زوال الشمس فلا تُرْتَج حتى تُصَلَّى الظهر فأحب أن يُسْعَدَ لي في تلك الساعة خير قلت أفي كلهن قراءات قال نعم قلت هل فيهن تسليم فاحصل قال لا۔ قال حدثنا أحمد بن منيع قال حدثنا أبو معاوية قال حدثنا عبيدة عن إبراهيم عن سحم بن منجاب عن قزع عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه۔ تو فرمایا کہ آپ علیہ السلام زوال کے وقت چار رکعت پڑھتے تھے، یہ فرق بات آ گئی یہ چاشت کی بات نہیں ہو رہی۔ زوال کے وقت، زوال کے وقت تو منع ہے زوال کا جو ہی وقت ختم ہو اس کے فوراً بعد اور بہت اہتمام فرماتے تھے، آپ نے فرمایا ابوی بن انصاری کہتے ہیں میں نے عرض کیا آپ ان چار رکعتوں کا بہت اہتمام فرماتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ آسمان کے دروازے زوال کے وقت سے ظہر کی نماز تک کھلے رہتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی کار خیر اس وقت آسمان پر پہنچ جائے۔ میں نے عرض کیا کہ ان کی ہر رکعت میں قرأت کی جائے گی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں قرأت کی جائے گی۔ میں نے عرض کیا کیا کہ ان میں دو رکعت پر سلام پھرا جائے گا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں چاروں رکعات ایک ہی سلام سے ہونی چاہئیں تو بتایا کہ چار رکعت ہے زوال کے بعد پڑھتے ہیں regular پڑھتے ہیں تو یہ کون سی نماز ہوئی؟ یہ ظہر کی سنت موقتہ ہے یہ ظہر کی چار رکعتیں وہ ہیں۔ صوفیاء کرام نے اس کا نام صلاة الزوال رکھا ہے اور اسے مستحب نمازوں میں شمار فرماتے ہیں جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک اس سے مراد ظہر کی چار سنتیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ظہر کی سنتوں کے علاوہ زوال کے بعد ایسی کوئی اور نماز نفل کی ہے ہی نہیں جسے آپ علیہ السلام نے باقاعدگی سے پڑھا ہو۔ اس میں بھی اور اگلی حدیث میں بھی جس بات نماز کا ذکر ہو رہا ہے اس کا تعلق تو چاشت کی نماز سے ہے ہی نہیں تو سوال ہی پیدا ہوتا ہے کہ پھر امام ترمذی نے اس حدیث کو چاشت کے chapter میں کیوں رکھا ہے؟ اس حدیث کو چاشت کے chapter میں کیوں رکھا ہے؟ جبکہ نفل نماز والے باب جو ہے پیچھے گزر چکا ہے۔ تو ایک اس کی وجہ یہ ہے کہ چاشت کا یہ آخری وقت ہے اس لیے طبعی طور پر اسے اسی میں شامل کر لیا گیا اور الگ سے ایک chapter نہیں لکھا۔ جبکہ دوسری رائے یہ کہ بعض یہ کاتبین نے غلطی کر دی کہ اس حدیث کو پچھلے chapter میں لکھنے کی بجائے اس chapter میں لکھ دیا۔ دوبارہ یہ نماز چاشت کی نہیں ہے۔ اور بھی قال حدثنا محمد ابن مسنہ قال حدثنا اچھا ایک بات اور، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے علماء خاص طور پر جو حدیث کی کتاب، فقہ کی کتاب لکھنے والے، یہ بہت منظم تھے ہر چیز میں۔ حتی کہ جب کتاب بھی لکھنی ہے تو ایک ایک chapter ایک ایک ترتیب اتنی زیادہ انہوں نے اس کا خیال رکھا کہ جب کہیں ترتیب نہ نظر آئی تو اس پر علمائے نے باقاعدہ بحث کی کہ اس جگہ خاص طور پر ترتیب کی چھوٹ گئی۔ اس کا مطلب ہے ہر چیز بہت منظم تھی۔ اور بھی قال حدثنا محمد ابن مسنہ قال حدثنا ابو داؤد قال حدثنا محمد ابن مسلم ابن ابی الوداع ان عبد الکریم الجزری ان مجاہد ان عبد اللہ ابن السائب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی اربعا بعد ان تزول الشمس قبل ظہر وقال ان ساعة تفتح ابواب السماء فاحب ان يصعد فیها عمل صالح۔ عبد اللہ ابن السائب رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ نبی علیہ السلام زوال کے بعد ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی عمل صالح اس وقت بارگاہ عالی تک پہنچے۔ مفتی شفیع صاحب رحمة اللہ نے غالباً فرمایا یا ان کے کسی صاحبزادے نے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے فرمایا کہ جو بھی اچھا خیال آتا ہے کسی نیک کام کرنے کا وہ مہمان ہوتا ہے۔ تو مہمان کا اگر اکرام کرو گے مہمان بار بار آئے گا اور اگر اکرام نہیں کرو گے تو وہ نہیں آئے گا بار بار۔ تو اسی لیے جب کوئی اچھا خیال آئے نیکی کا تو اس کو کر دینا چاہیے。 شیطان ہمیں کیا کہتا ہے کہ چلو اب کل کر لیں گے، دیکھ بڑا ٹائم بڑا فرض تھوڑی ہے۔ تو بجائے اس کے کہ وہ کام جو ہم کر رہے ہیں اس وقت اگر کوئی بہت اعلی کام نہیں ہے، فارغ بیٹھے ہیں، فرصت ہے تو اس وقت کو invest اچھی جگہ invest کرنا چاہیے。 ہر سانس جو ہم لیتے ہیں ہمیں موت کے قریب لے جا رہا ہے۔ یہاں کی زندگی فانی ہے، قیامت کی زندگی باقی ہے اور وہ باقی زندگی کی quality کیسے ہوگی؟ یہ سب ہمارے اعمال پر dependent ہے۔ تو جس قدر ہم جیسے فٹ بال میچ ہے نا نوے منٹ کی گیم ہوتی ہے۔ مستقل کھلاڑی کوشش کر دیتے ہیں کہ ہر لمحہ، ہر منٹ، ہر سیکنڈ کے کسی طرح گول میں بال پہنچا دیں۔ حتی کہ میچ جیت بھی رہے ہوں تب بھی کوشش تو جاری رہتی ہے نا۔ بھئی تین زیرو ہو گیا، چار زیرو ہو گیا ہے۔ کوشش اگر ادھوری رہ جائے تو جیسے ابھی ایک ہماری مسلمان ٹیم ہاری تھی semi final میں اس طریقے سے آخر میں آ کے میں نے دیکھا تو نہیں بس خبروں میں کہیں دیکھا تھا ارجنٹینا سے ہارے تھے نا۔ ہاں وہ کیا ہوا تھا جیت گئے تھے لیکن شاید انہوں نے کہا اب کام ہو گیا تو آخر میں آ کے ہار گئے۔ تو بات یہ ہے کہ جس طرح فٹ بال اسٹیڈیم میں کھلاڑی کو نوے منٹ ہیں، اس نے کہا بھئی ہر لمحہ جو ہے وہ میرے لیے اہم ہے، میں نے اس کو ضائع نہیں کرنا۔ اسی طریقے سے مسلمان کی زندگی ایسی ہے کہ وہ ضائع نہیں ہونی چاہیے، ہاں راحت بیچ میں چاہیے، آرام چاہیے، طبعی تقاضے ہیں تو وہ بھی مسنون طریقے سے کرو تو وہ، وہ بھی بھاری اعمال بن جائیں گے ان شاء اللہ قیامت کے دن جو فائدہ پہنچائیں گے لیکن ضائع کرنا وقت کو فارغ بیٹھے رہنا یہ بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے استاد فرماتے تھے کہ بعض لوگ کہتے ہیں جی ہم bore ہو رہے ہیں، آج کل boredom کا بڑا مسئلہ ہے۔ کہ bore ہونے کا مطلب ہے انسان کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہے۔ ورنہ تو جوں ہی اسے وقت فارغ ملےے گا وہ تو اپنے مقصد کی طرف اس کو لگائے گا، سوچے گا، اپنے self reflection کرے گا، محاسبہ کرے گا، planning کرے گا لیکن آج ہم فوراً bore ہو جاتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے زندگی کا مقصد نہیں ہے، اس لیے bore ہو رہے ہیں۔ بوریت محسوس کرنے کا مطلب ہے یا تو زندگی کا مقصد نہیں ہے، زندگی میں کوئی تعلقات بھی نہیں ہیں لوگوں سے، رشتہ داروں سے، ہمسایوں سے تو اسی لیے ہم bore ہو جاتے ہیں۔ اور دوسرا ایک وجہ بھی ہے کہ ہم اتنا entertainment کا عادی ہو گئے ہیں کہ جس چیز میں ہمیں مزہ نہ آ رہا ہم فوراً bore ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ کوئی خطیب بیان کر رہا ہو تو ہم یہ بھی comment کر دیتے ہیں بھئی بڑا boring بیان تھا [ہنسی] کیونکہ ہم نے اس کو بھی entertainment بنا لیا۔ اللہ اکبر کبیرہ۔ آخری حدیث و بھی قال حدثنا ابو سلمة یحیی ابن خلف قال حدثنا عمر ابن علی المقدمی ان مسعل ابن کدام ان ابی اسحاق ان عاصم ابن دومرہ عن علی رضی اللہ تعالی عنہ انه کان یصلی قبل ظہر اربعا و ذکر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلیها عند زوالها و یمد فیها۔ علی رضی اللہ تعالی عنہ ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان چار رکعت کو پڑھتے تھے اور ان میں طویل قرأت پڑھتے تھے یعنی ظہر کی چار سنتیں ہیں۔ امام غزالی رحمة اللہ نے اپنی کتاب احیا علوم الدین میں بیان فرمایا ہے کہ ان چار رکعتوں میں سورہ بقرہ یا اس کی مانند کوئی ایسی سورت پڑھنا مستحب ہے جو سو سے زائد آیات پر مشتمل ہو تاکہ طویل تلاوت کے سلسلے میں نبی علیہ السلام کی ایک سنت پر عمل ہو سکے، حافظ کے لیے آسان ہے یہ کام کرنا۔ اچھا اب اگلا جو باب ہے باب الصلاة التتبع فی البیت کہ آپ علیہ السلام نفل جو ہے وہ گھر میں پڑھا کرتے تھے اس روایت باب میں ایک ہی حدیث ہے۔ حدیث یہ ہے و بھی قال حدثنا عباس الانبری قال حدثنا عبد الرحمن ابن مدین عن معاوية ابن صالح عن الای بن الحارث عن حرام ابن معاوية عن امہ عبد اللہ ابن سعد رضی اللہ تعالی عنہ قال سألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الصلاة فی بیتی و الصلاة فی المسجد قال قد ترى ما أقرب بيتي من المسجد فليصليا في بيتي أحب إلي من أن أصلي في المسجد إلا أن تكون صلاة مكتوبة سبحان الله عبد الله بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ نفل نماز مسجد میں پڑھنا افضل ہے گھر میں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے یعنی میرے لیے تو مسجد میں آنا کوئی مشکل ہی نہیں ہے۔ بالکل دروازہ کھولو تو کھولو تو مسجد ہے۔ تو فرمایا لیکن اس کے باوجود میں فرائض کے علاوہ نماز اپنے گھر میں ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ فرائض کے علاوہ مجھے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھنا زیادہ پسند ہے۔ تو نوافل کی ادائیگی گھر میں کرنا زیادہ افضل و بہتر ہے اور اس میں اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک تو آپ علیہ السلام نے ترغیب بھی دی ہے خود بھی عمل فرمایا۔ اس کے مختلف فائدے ہیں ایک فائدہ تو یہ ہے کہ نماز کی برکت سے گھر میں برکت پیدا ہوتی ہے، گھر نور سے بھرے گا، گھر میں اللہ کا ذکر ہوگا۔ اور دوسرا ہے کہ گھر کے اولاد بچے بیوی یہ سارے یہ نماز سیکھیں گے۔ ان کے اندر ایک ترغیب پیدا ہو گی۔ ماحول پیدا ہو گا اور کیونکہ مرد ہی کے ذمہ میں اولادوں کی بیوی کی تربیت بھی ہے تو اس کا ایک ماحول بنے گا۔ البتہ جیسے میں نے پچھلی بار عرض کیا تھا کہ اگر گھر دور ہے مسجد سے تو اور لگتا ہے کہ distraction ہو جائے گی تو نوافل یا سنتیں وہیں پڑھ لی جائیں اور اگر قریب ہے تو بہتر ہے کہ گھر ہی میں پڑھی جائیں ایک اور وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ گھر میں مسجد میں ظاہری بات ہے نبی علیہ السلام صحابہ آپ علیہ السلام سے ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنا چاہتے تھے تو جماعت کی نماز تو چونکہ فرض ہے اور وہ پڑھنا وہیں پر افضل ہے اسی طرح اور ہر وہ نماز جو جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے تراویح کی ہو گئی یا صلاة الكسوف والكسوف سورج گرہن اور چاند وغیرہ کی جو نمازیں ہیں۔ تو وہ نمازیں جو ہیں وہ تو وہاں پڑھی جائیں گی مسجد میں اس کے علاوہ باقی گھر میں چونکہ نوافل کی بنیادی بنیاد پوشیدی اور پردہ داری پر ہے انسان کا اور اللہ کا معاملہ ہے اس لیے انہیں گھر میں ادا کرنا زیادہ بہتر ہے لیکن کامل پوشیدگی حاصل ہو سکے اور انسان تاکہ کامل پوشیدگی حاصل اور انسان ریاکاری سے بچے البتہ فرائض کو تو چھپانا ناپسندیدہ ہے ان کی مسجد میں ادائیگی پر زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح ان نمازوں میں کعبہ کے طواف کے بعد کی جو رکعتیں ہیں صلاة التراویح یہ بھی آپ وہیں پہ مسجد میں پڑھیں گے چھپ کے تو نہیں پڑھیں گے۔ اگرچہ تراویح فرائض بنیں گے لیکن یہ رمضان مبارک کی خاص خصوصیت اور اسے بھی بعد جماعت ادا کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح جو سورج گرہن کی نماز ہے اسے اعلانیہ طور پر پڑھا جاتا ہے یہ مستحب طریقہ ہے تو یہ تو اعلانیہ پڑھی جائیں گی باقی بہتر ہے کہ گھر میں پڑھیں۔ اور جیسے پہلے عرض کیا تھا ایک دفعہ کہ اخلاص کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان تنہائی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اخلاص کی علامت یہ ہے کہ جب اسے کوئی نہیں دیکھ رہا تو مخلص ہے بندہ کہ نہیں ہے۔ تو دیکھیں تنہائی میں عبادت کرتا ہے کہ نہیں کسی پر آپ کو شک ہو جانا ایجنٹ تو نہیں ہے کسی کا تو check کریں کیونکہ جب اکیلا ہوتا ہے تو عبادت کرتا ہے کہ نہیں لوگوں کے سامنے تو شاید پہلی صف میں آیا ہو لیکن اکیلے میں پتہ چلے گا کہ اللہ کی عبادت کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے تعلق ہے۔ ایک وجہ میں عرض یہ کر رہا تھا آخری بات پھر انشااللہ درس ختم کرتے ہیں کہ گھر میں جب آپ علیہ السلام مسجد تشریف لے آتے تھے صحابہ کے سوالات ہوتے تھے ملاقاتیں ہوتی تھیں بہت کچھ ہوتا تھا۔ جبکہ گھر میں یکسوئی ہوتی تھی تو یکسوئی بھی ایک مقصود چیز ہے کہ انسان جو ہے وہ بالکل توجہ کے ساتھ presence of mind کے ساتھ نماز پڑھے presence of mind پر جو میں نے آپ کو بہت دفعہ پہلے بھی ذکر کیا ایک کتاب ہے نیچے ہمارے کتب خانے میں ملتی ہے۔ When Hearing Becomes Listening شیخ میکائل احمد کی بہت کمال کی کتاب ہے اس کا ایک ایک صفحہ قیمتی ہے۔ تو اس کو آپ اور چھوٹی کتاب ہے ڈیڑھ سو صفحے سے بھی کم ہے اس کو لازمی پڑھیں اپنے اس کے نتیجے میں آپ کا اللہ سے تعلق اپنے گھر والوں سے تعلق اپنی اولاد سے تعلق دوستوں سے تعلق بہت بہتر ہو گا۔ اس میں communication اور تعلق کے جو طریقے انہوں نے نقل کیے ہیں قرآن و حدیث سے بھی ثابت کیا اور جدید Psychology کے اصولوں کے تحت بھی اس کو بہت شاندار انداز میں انہوں نے بیان کیا ہے۔ تو اس میں انہوں نے ایک پورا اچھی خاصا بات اس موضوع پر کی ہے کہ presence of mind کتنا important ہے ہمارا ہمارے لیے گفتگو میں بھی اور اللہ کے ساتھ تعلق میں بھی۔ تو اللہ کے ساتھ تعلق میں بھی presence of mind کے لیے ظاہری بات ہے شور شرابا یہ ساری چیزیں نہ ہوں۔ تنہائی ہو میسر اکیلا ہو بندہ اور توجہ سے اللہ کی طرف پورے طرف توجہ ہو اور پھر نماز پڑھے تو اس کا زیادہ فائدہ ہو گا تو یہ بھی ایک وجہ معلوم ہوتی کہ آپ علیہ السلام نوافل کو گھر میں ترجیح پڑھنا گھر میں پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اللہ سے دعا اللہ تعالی ہمیں بھی عبادات کا ذوق عطا فرما دے اللہ تعالی ہمیں نبی علیہ السلام کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما دیجیے کسی کا کوئی سوال ہو تو کر لیں ورنہ پھر انشااللہ دعا کر لیتے ہیں۔ بہت اچھا سوال کیا آپ نے صلاة الأوابین اوابین کا مطلب ہے کہ رجوع کرنے والے یعنی توبہ کرنے والے اللہ کی طرف آنے والے۔ تو صلاة الأوابین کا لفظ شاست کے لیے بھی استعمال ہوا ہے بعض جگہوں پہ جبکہ مغرب کے بعد کی ان چھ رکعتوں کو اللہ سے مذکور ہے۔ یعنی یہ مراد اس سے کہ وہ لوگ اس نماز کو پڑھتے ہیں جو اللہ کی طرف آنے والے لوٹنے والے ہیں۔ جو مغرب کے بعد ہیں اس کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ چھ رکعت جو مغرب کے بعد پڑھے گا اوابین اس کو بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے جو قاری طیب صاحب کی تقریب میں میں نے پڑھا انہوں نے عمرے اور حج کے بارے میں لکھا کہ جیسے ایک لاکھ نماز کا ثواب ملتا ہے نا حرم میں ایک نماز کا تو انہوں نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جتنا روحانی ترقی ایک لاکھ نمازوں سے پڑھنے سے ہوتی ہے، اتنی روحانی ترقی وہاں ایک نماز پڑھنے سے ہو سکتی ہے۔ تو گویا بارہ سال کی عبادت کے ثواب کا ایک معنی بھی ہے کہ جتنی روحانی ترقی بارہ سال کی عبادت کے ساتھ ہوتی ہے تو ایک وابین جو پڑھے چھ رکعت اس کو اتنی ترقی بھی ملے گی۔ اب اس چھ رکعت کی کیا طریقے اس میں مختلف آراء علما کی موجود ہیں کہ ایک ہے دو سنت پلس چھ، آٹھ ہو گئیں第二个 ٹو پلس فور، دو سنت وہ بھی شامل ہوں گی اس میں اور چار پڑھ لیں اور اس کے ساتھ ایک اور چیز اگر آپ اضافہ کر لیں، صرف آپ کی روٹین میں دس سے پندرہ منٹ کا فرق آئے گا۔ ایک اس میں اور اضافہ یہ کر لیں کہ سورة واقع ساتھ پڑھ لیں، سورة الواقع۔ آیتیں تو نوے کے قریب ہیں لیکن بہت مختصر سورت ہے، دو صفوں کی سورت ہے، دو ڈھائی صفحے کی اور یاد بھی ہو جائے گی آپ اگر پڑھنا شروع کریں گے اور سورة الواقع جو ہے یہ حدیث میں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ جو اس کو مغرب کے بعد پڑھتا ہے اس کو فقر اس کو نہیں پیش آئے گا۔ اور فقر سے یہاں دونوں چیزیں مراد ہیں، فقر حقیقی بھی اور فقر صوری بھی یعنی خوف فقر کا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ہم نے بعض دیکھا لوگ بہت مالدار ہیں لیکن پھر بھی پریشان رہتے ہیں کہ ہمارا مال ضائع نہ ہو جائے، اس خوف میں رہتے ہیں، پریشانی میں رہتے ہیں اور بعض جو حقیقی فقیر ہوتے ہیں اور بعض اوقات حقیقی فقیر کو اتنا پریشانی نہیں ہوتی جتنا وہ جس کو فقر کا خوف ہوتا ہے اس کو پریشانی ہوتی ہے۔ استغناء مانگنا ہے اللہ سے تو سورة واقع جو پڑھتا ہے نا ریگولر مغرب کے بعد ان شاء اللہ اس کا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور امریکہ میں زیادہ بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہر طرف دوڑ ہے پیسے کی اور ہر وقت مال کی محبت。 طلبہ خمیب کہتے ہیں کہ آپ طلبہ بھی پڑھتے ہیں مدرسوں میں، ان کے ذہن میں بھی ہر وقت پریشانی ہوتی ہے۔ اس دن ایک طالب علم نے مجھے کہا کہ وہ بہن کو بتا رہا تھا کہ کون کون سی کام ہیں جو امت کی ضرورت ہیں، communal needs ہیں، تو ان میں ہم نے مختلف شعبوں کا ذکر کیا، ڈاکٹری کا بھی ذکر کیا، کچھ معاشرے کو ڈاکٹر چاہیے، کچھ lawyer چاہیے، پھر میں نے کہا کچھ مفتی بھی چاہیے، تو طالب علم نیا تھا پہلے سال کا، تو کہتا ہے کہ فوراً اس نے جو پڑھا نا مفتی لکھا ہوا ہے، مفتی چاہیے، تو کہتا ہے کہ do they get paid؟ میں نے کہا no they eat grass، گھاس کھاتے ہیں وہ۔ تو بالکل ہم لوگوں کو بعض اوقات ان کے ذہن میں خوف رہتا ہے کہ پتہ نہیں دین پڑھ لیں گے یا دین کی خدمت کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟ تو بہرحال مراد یہ ہے کہ یہ خوف ہوتا ہے اور اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ شیطان آپ سے وعدہ کرتا ہے آپ کو فقر، فقر کا، آپ کو ڈراتا ہے، تو اس کا علاج سورة واقع ہے۔ اس کو دونوں combine کر لیں انسان اگر چھ رکعت یعنی سورة واقع یاد کر لے اگر اور ان چھ رکعتوں میں سورة واقع کی تلاوت کر لے تو two in one ہو جائے گا اور بہترین ان شاء اللہ اس کا فائدہ ہو گا۔ کسی نے لکھا ہے، سوال کیا ہے کہ گناہگار دل کو نرم کیسے کیا جائے؟ توبہ سے، اللہ کے ذکر سے، تلاوت قرآن سے، ایک چیز سے ان شاء اللہ نرم ہو جائے گا۔ تلاوت قرآن کی جائے اگر صحیح ترجمہ آپ کو مل جائے، مفتی تقی صاحب کا اردو انگریزی دونوں ترجمے بہت اچھے ہیں، اس کو، اس کو پڑھیں اور تسبیحات مسنون، استغفار، درود شریف، لا الہ الا اللہ، تیسرا کلمہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ والله اکبر صبح شام سو سو سو مرتبہ پڑھیں ان شاء اللہ اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں اور گناہوں کو چھوڑ دیں یعنی گناہ کے ذریعے کو چھوڑ دیں، یہ Netflix وغیرہ کی subscription، YouTube اور social media، اس کو چھوڑ دیں ان شاء اللہ تو دل نرم ہو جائے گا اور گناہوں کے ذریعے جو ہے نا وہ دل خاص طور پر سخت ہوتا ہے اور اس میں خاص زبان کا گناہ بہت اہم ہے، اس سے بھی دل سخت ہو جاتا ہے۔ جب ہم اپنے پہلے بچے کی، کو expect کر رہے تھے تو میں نے اپنے شیخ رحمۃ اللہ سے، ان کو message بھیجا کربلا شریف میں کہ حضرت کوئی ذکر بتا دیں میری اہلیہ کے لیے کہ وہ کریں تاکہ اولاد نیک پیدا ہو۔ تو فرمایا کہ ذکر وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بس یہ جتنے ہمارے یہاں معروف خاندانی جھگڑے ہوتے ہیں، غیبت، چغلی اور اس طرح کے جتنے مسائل ہیں زبان کے گناہ، ان سے بچیں تو ان شاء اللہ فوائد حاصل ہو جائیں گے۔ تو یہ چیزیں بھی جو ہیں وہ دلوں کو سخت کرتی ہیں۔ How to love Allah more creation less اللہ کی محبت مخلوق سے کیسے یعنی مخلوق کی محبت کیسے کم اور اللہ کی کیسے زیادہ ہو؟ تو پچھلی دفع بھی ہم نے یہاں ذکر کیا تھا کہ وہ، وہ پڑھتے رہیں، ہر نماز کے بعد ایک دفعہ پڑھ لیں لا مرغوبی الا اللہ، لا مطلوبی الا اللہ، لا مقصودی الا اللہ، لا محبوبی الا اللہ، لا معبودی الا اللہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ ایک دفعہ پڑھ لیں ہر نماز کے بعد لا، اردو کے بھی لفظ ہیں آسانی سے آپ پڑھ سکتے ہیں، مرغوب، مطلوب، مقصود، محبوب، معبود پانچ چیزیں ہیں۔ تو میرا کوئی مرغوب نہیں ہے اللہ کے سوا، میرا کوئی محبوب نہیں ہے، کوئی مطلوب نہیں ہے اللہ کے سوا۔ اسی طرح اللہ تعالی کی جو مخلوقات ہیں ان پر غور کر کے اللہ، اللہ تعالی کی طرف پہنچنے کی کوشش کریں، اللہ کا ذکر، اللہ کا تذکرہ زیادہ کریں، مخلوق کا تذکرہ کم ہو، ان چیزوں سے بھی اللہ کی محبت پیدا ہو گی۔ دارالسلام کے پچھلے سال فجر ٹیم فجر میں اللہ کے ننانوے ناموں پر پوری جو ہے وہ series چلی تھی، تو YouTube پہ مل جائے گی، اس کو سنیں، اللہ کے صفاتی ناموں کی جب تفصیل آپ سن پڑھیں گے تو اس سے اللہ کی محبت پیدا ہو گی اور پھر اللہ ملتا ہے اللہ والوں سے، اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھیں اور اس سے مخلوق کی محبت کم ہو جائے گی۔ البتہ بعض مخلوق کی محبت ایسی ہی ہے کہ جو مطلوب ہے لیکن وہ اللہ کی محبت کے تابع ہو جیسے والدین کی محبت ہے، اولاد کی محبت ہے، بیوی مطلب میاں بیوی کی ایک دوسرے سے محبت ہے، یہ تو مقصود ہے، یہ محبت نہیں ہو رشتے کیسے قائم ہوں گے؟ لیکن یہ محبت اللہ کی محبت کے تابع ہے۔ یہ جو معروف حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس کو میں حضور نے اپنے بارے میں فرمایا، جب کہ جب تک میں اس کے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اور كما قال علیہ الصلاة والسلام بھی بچوں سے دنیا بھر کی چیزوں سے تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا تھا کہ کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو ایسا feel نہیں کر رہا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کیمل الامہ نے اس کا بڑا زبردست جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں محبت کی دو قسمیں ہیں ایک ہے محبت عقلی، ایک ہے محبت طبعی۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ بعض لوگ بلا وجہ confused ہو جاتے ہیں، پریشان رہتے ہیں کہ پتہ نہیں ہم بھی ابھی محسوس تو نہیں کر رہے اللہ سے اور اس کے نبی سے محبت تو پتہ نہیں ہم کہیں محروم تو نہیں ہیں。 تو کہا ایک ہے محبت عقلی، ایک ہے محبت طبعی۔ طبعی مطلب طبیعت کا جو ملان ہوتا ہے۔ تو کہا یہ جو حضور علیہ الصلاة والسلام نے شرط بتائی نا کہ اتنی محبت میری سے میری میری محبت سب سے زیادہ ہو مخلوق میں تو محبت عقلی مراد ہے۔ یعنی جب میں سوچوں کہ کس سے زیادہ محبت کرنی چاہیے تو جواب حضور علیہ الصلاة والسلام اور اللہ اس سے اوپر ہے۔ تو یہ ہے محبت عقلی یعنی جب عقل سے سوچوں کہ محبت انسان کسی وجہ سے کرتا ہے نا کسی کی شکل صورت پسند ہے، اخلاق کردار پسند ہے، کسی نے تحفہ دے دیا تو اس سے محبت ہو جائے گی، اچھا کوئی پیش آ گیا مشکل میں اس سے محبت ہو جائے گی تو محبت صفات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب انسان سوچے سب سے اچھی صفات کس کی ہیں؟ اللہ تعالی کی مخلوق میں کس کی ہیں؟ نبی علیہ الصلاة والسلام کی تو عقل آپ کو وہاں لے جائے。 تو فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جو اشکال کیا اور آپ علیہ الصلاة والسلام نے پھر ان کے سینے پر ہاتھ رکھا، وہ کیا تھا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کیفیت حاصل ہو گئی کہا اس سے محبت عقلی تو حضرت عمر کو پہلے بھی حاصل تھی لیکن اس سے محبت عقلی محبت طبعی میں تبدیل ہو گئی۔ محبت طبعی میں تبدیل ہو گئی۔ تو اسی طرح کیونکہ کیفیات ایسی ہیں کہ اس میں انسان کو پوچھ نہیں ہے۔ کیفیات معتبر نہیں ہاں انسان کو مانگنا چاہیے اللہ میری کیفیات بنے یعنی کسی موقع پر انسان کو بیوی سے محبت سب سے زیادہ ہو رہی ہو گی، کسی موقع پر ماں کے لیے وہ رو رہا ہو گا، کسی موقع پر اپنے بچوں کے ساتھ سب سے زیادہ وہ اس کی کیفیت بنی ہو گی اور کسی وقت نماز میں اس کی کیفیت بنی ہو گی تو کیفیات تو بدلتی رہتی ہیں۔ یہ variable ہے اللہ کی رحمت ہے اللہ نے نہیں کہا کہ ہر وقت میرے ہی کیفیات میں رہو۔ ہاں عقلی طور پر جب سوچو تو تمہیں اللہ جواب تمہارا اللہ ہونا چاہیے。 تو باقی قرآن، ذکر، تلاوت، ان شاء اللہ گناہوں سے بچنا اور اللہ کا اللہ کی صفات بیان کرنا، اس سے اللہ کی محبت بڑھے گی۔ جماعت میں جو لوگ جاتے ہیں تو لیگ میں اس میں انسان ایک چیز یہ سیکھ لیتا ہے کہ اللہ کا نام لینا، اللہ کا ذکر کرنا آ جاتا ہے۔ اللہ سے دعا اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسول کریم ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکنن من الخاسرین رب اغفر وارحمنا انت خیر الراحمین لا الہ الا انت سبحانک انا کنا من الظالمین یا اللہ! یا اللہ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما یا اللہ محبت عقلی بھی عطا فرما، محبت طبعی بھی عطا فرما یا اللہ اپنے حبیب کی محبت عطا فرما یا اللہ محبت محبت ایسی عطا فرما جو کہ صرف دعوائے محبت نہ ہو بلکہ اللہ حقیقی محبت ہو اور آپ علیہ الصلاة والسلام کے طریقوں پر عمل پیدا کرنے عمل پر ہونے کی توفیق عطا فرما。 یا اللہ! گناہوں سے سو فیصد نجات عطا فرما。 سچی پکی توبہ کی توفیق عطا فرما۔ گناہوں کے جو sources ہیں یا اللہ ان سے بھی ہمیں نجات عطا فرما یا اللہ! یا اللہ! امت مسلمہ کی حفاظت فرما، حرمین کی شریفین کی حفاظت فرما یا اللہ! مکہ مکرمہ کی مدینہ منورہ کی حفاظت فرما یا اللہ! جو ان کی طرف مہلی نگاہ سے دیکھے یا اللہ آپ اس کے لیے کافی ہو جائیں یا اللہ! امت مسلمہ کو یا اللہ مضبوط و متحد فرما یا اللہ! امت مسلمہ کو مضبوط و متحد فرما یا اللہ! امت مسلمہ کو مضبوط و متحد فرما یا اللہ! اتفاق و اتحاد نصیب فرما، محبت عطا فرما یا اللہ! جو جو جو جس کی پریشانی ہے وہ حل فرما دیجیے یا اللہ مشکلات آسان فرما دیجیے یا اللہ! زندگی آپ علیہ الصلاة والسلام کے طریقوں پر گزرے اور یا اللہ جب موت آئے تو زبان پر کلمہ جاری ہو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ وصلی اللہ تعالی علی خیر الخلق محمد وعلی آلہ واصحاب اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین。
The rest of this transcript — segmented and speaker-labeled, so you land on the exact moment something was said
Search every transcript — by keyword, by phrase, or by meaning, across every show Radar indexes
Trends — what is surging across podcasts, measured against its own baseline
Alerts — when a name you follow appears in a newly indexed episode
No account is needed to search Radar.